غور طلب
بلال احمد پرے
شادی اگر صحیح وقت پر صحیح شخص سے کی جائے تو بہتر اور باعث خوشی بن جاتی ہے ۔ اور غیر ضروری تاخیر سے یہ مقدس رشتہ کہیں برائیوں کے ساتھ پریشانیوں کو جنم دیتا ہے ۔ اور بعض اوقات اس مقدس رشتے میں اَن بَن پیدا کر دیتی ہے ۔ دیکھا جائے تو آج سے پچاس سال کی کہانی کچھ الگ تھی اور اس سے پہلے زمانے کی کہانی کچھ الگ تھی ۔ اُس وقت لوگ کم عمر میں ہی شادیاں کیا کرتے تھے ۔ حتیٰ کہ بچہ ابھی آٹھویں، نویں یا دسویں جماعت میں ہی پڑھ رہا ہوتا تھا کہ اس کی شادی ہوا کرتی تھی ۔ اس طرح اکثر لوگوں کے بچے وقت پر اپنا اپنا گھر و دیگر ذمہ داریاں بحسن خوبی انجام دینے کے لائق ہوتے گئے ۔ اور والدین کو بھی ان کی فکر سے بر وقت آزادی مل گئی ۔
لیکن بدقسمتی سے اب یہ رواج آہستہ آہستہ ختم ہو چکا ہے ۔ اکثر و بیشتر گھروں میں لڑکے اور لڑکیاں تیس سے چالیس سال کے درمیان کی ہیں ۔ لیکن کوئی ان کے رشتوں کی فکر نہیں کرتا ۔ اور جو کوئی ان کے لئے موزوں رشتے کی بات کرتا ہے، تو واپس اس پر انہیں ابھی کم عمر کے بچے قرار دے دیا جاتا ہے ۔ جس سے ہم نہ صرف ان بچوں کی زندگی کو تباہ کرتے ہیں بلکہ اپنے آپ کو بھی حقیقت سے دور بھاگتے ہوئے دوکھے میں رکھتے ہیں ۔
اسلام نے شادی کے سلسلے میں بہت زیادہ تاکید کیں ہے ۔ اور اس سے انسان کی سماجی ضرورت نیز مرد و عورت کی تکمیل کا ذریعہ گردانتے ہوئے صحیح وقت پر انجام دینے پر زور دیا ہے ۔ مزید اس سے آسان سے آسان تر بنانے کی پوری سعی کی تعلیم بھی دی گئی ہے ۔ یہاں یہ زمہ داری سرپرستوں پر راگی گئی ہیں کہ وہ اپنی زیر ولایت غیر شادی شدہ لڑکوں اور لڑکیوں کی شادی کی تدبیر و سعی ضرور بالضرور کریں ۔ ان کے رشتوں کی تلاش و جستجو میں اولین وقت سے ہی اپنا دلچسپی دکھانا شروع کر دیں ۔
حالانکہ یہ چیز اکثر دیکھنے کو ملی ہے کہ والدین یا سرپرستوں نے ہی اپنی اولاد کے لئے بہتر سے بہترین شریک حیات کی تلاش کرنے کی جستجو میں تاخیر کیں ہے ۔ اور کئی معقول اور قابل قبول رشتے ٹھکرا دیتے ہیں ۔ جس سے ان کے بچوں کی عمر بڑھتی چلی جاتی ہے ۔ چونکہ والدین کو اپنی غلطی کا احساس اُس وقت ہوتا ہے جب موزوں رشتے ہاتھ سے نکل چکے ہوتے ہیں ۔
دوسری جانب جہیز اور بے جا اخراجات کے علاوہ ہماری نوجوان نسل نکاح کو ایک بوجھ سمجھنے لگی ہے ۔ اس لئے انہیں جتنا وقت ممکن ہوتا ہے، وہ خود کو اس سے دور ہی رکھنا چاہتے ہیں ۔ ان کے سوچ کے مطابق انہیں اپنی زندگی کو اپنی مرضی سے جینے کی آزادی نہیں ملتی اور جب وہ شادی کرنے کے لئے آمادہ بھی ہوتے ہیں تو شریک حیات کے انتخاب کے متعلق بھی ان کے بے جا مطالبات کی لمبی فہرست ہوتی ہے ۔
حضرت نبی اکرمؐ کے اس تاکیدی حدیث مبارک سے اس طرح کی ایک ذمہ داری کی نزاکت و اہمیت کا خوب اندازہ ہو جاتا ہے۔ آپ ؐکا ارشاد ہے کہ ’’جس شخص کی بیٹی ۱۲ سال کی عمر یعنی بلوغت کو پہنچ جائے اور اس نے اس کا نکاح نہیں کیا اور وہ گناہ کی مرتکب ہوئی تو گناہ اس کے والد پر ہوگا۔‘‘ (مشکوتہ، الالبانی ۳/۹۳۹ )
شادیوں میں تاخیر اب آہستہ آہستہ ایک ناسور بن چکا ہے جس نے ہمارے معاشرتی ڈھانچے میں بگاڑ پیدا کر دیا ہے ۔ کبھی ہمارے اپنے تصورات، تو کبھی ہماری بے جا خواہشات رکاوٹ بنتی ہیں ۔ کبھی ہمارے اپنے ہی بنائے ہوئے رسم و رواج، کبھی ہمارے بےجا توقعات ہم کو آگے بڑھنے سے روک دیتے ہیں ۔ کبھی اس طرح کے بے سودہ خیالات بھی دیکھنے کو ملتے ہیں کہ چھوٹی عمر میں نکاح کرنے سے تعلیم کو مستقل نہیں رکھا جا سکتا ہے اور انسان کو مزید آگے بڑھنے میں رکاوٹ پیدا ہوتی ہے ۔
ایک طرف جہاں شادی میں تاخیر کا مسئلہ قابل امر بات ہے تو دوسری طرف ہر طرح کی آزادی، مخلوط تعلیم، بے پردگی، تعلقات و روابط میں کوئی رکاوٹ نہ ہونا، بڑھتی ہوئی عُریانیت بھی بامِ عروج پر ہیں ۔ موبائل کا بے جا استعمال ، سوشل میڈیا کا بغیر کسی اخلاقی ضابطہ کے استعمال جس کا سبب یہ بھی ہوتا ہے کہ بعض جوان گناہ میں مبتلا ہوتے ہیں۔ اسلام میں نہ صرف زنا سے بچنے کی سخت تاکید (الاسراء :۳۲) کی گئی ہے بلکہ اس کے اسباب سے بھی دور رہنے کی تلقین کی گئی ہے ۔
شادی کی تاخیر کے چند اسباب والدین کا لاڈ و پیار، تعلیم کا مکمل کرنا، گھر کی مالی حالت، حسب و نسب، احباب و اقارب کی بےجا مداخلت، حسن و دولت کو ترجیح دینا، اپنے سے کم عمر کی تلاش، سرکاری روزگار کا ہونا، سونا کے مہنگے زیورات ہی کا معیار ٹھرانا، بھاری مہر کا مطالبہ، کامیاب رشتہ کا وہم، غلط روابط وغیرہ جیسے کئیں وجوہات ہیں ۔ لیکن ان سب وجوہات سے ہمارے معاشرے میں آئے دن بڑھتی ہوئی عمر کے نوجوان لڑکوں اور لڑکیوں کے تعداد میں بے تحاشہ اضافہ دیکھنے کو ملتا ہے ۔
حضرت نبی اکرمؐ نے اُس نکاح کو برکت والا قرار دیا جس میں فریقین کا خرچ کم ہو ۔ آپؐ نے فرمایا ،’’ بڑی برکت والا وہ نکاح ہے جس میں بوجھ کم ہو۔‘‘ (مسند احمد)
یعنی جس نکاح میں فریقین کا خرچ کم ہو، مہر بھی ادائیگی کے لئے آسان ہو، جہیز کا بھاری بوجھ نہ ہو، کوئی بھی جانب اس رشتے کی وجہ سے مقروض نہ ہو جائے، کسی بھی طرف سے تاکیدی شرط سخت نہ ہو، ﷲ سبحانہ و تعالیٰ کے توکل پر لڑکی کو رُخصتی دی جائے، تو وہ نکاح بڑا ہی بابرکت اور عظمت والا ہے ۔ جس پر اللہ اور اللہ کے رسولؐ کی رضا شامل ہے ۔ ایسی ہی شادی کو خانہ آبادی کہتے ہے ۔ اس کے برعکس آج ہم غلط رسموں، فضول خرچات اور بے ہودہ رواجوں کی وجہ سے شادی کو خانہ بربادی بناتے ہیں ۔ اور بہت سارے گھروں کے لئے اس سے باعثِ تباہی بنا لیتے ہیں ۔
حال ہی میں سونے کی قیمت جس قدر بڑھتی گئی ہے اس پر سرکاری روزگار ہوتے ہوئے بھی نوجوان لڑکے شادی کرنے سے دور بھاگ جاتے ہیں ۔ کیونکہ ہمارے یہاں سونے کے مہنگے زیورات کے بغیر شادی کا ہونا ناممکن ٹھرایا گیا ہے ۔ اور یہ شرط ایسی ناسور بن کر ابھرتی گئی ہے جو خوشحال سماج کے لئے زہر قاتل کے برابر ہے ۔ اس طرح اس مقدس رشتے کو سونے کے مہنگے زیورات کے وزن سے تولا نہ جائے تو سماج کے لئے بہتر ہے ۔
رحمت عالم پیغمبر اعظمؐ نے حضرت علیؓ اور اپنی نور چشم بیٹی حضرت فاطمہؓ کا نکاح اس قدر آسانی سے کیا کہ حضرت علیؓ نے اپنی ذرہ بیچ کر صرف چار سو اسی درہم کی مہر ادا کیں ۔ جس سے ان کے لئے گھر کے ضروری چیزیں لی گئی ۔ اسی طرح حضرت مبارکؒ جو عبداللہؒ بن مبارک کے والد تھے کی شادی ان کی غیر معمولی دیانتداری کی وجہ سے نہایت ہی سادگی سے ہوئی ۔ ان کے آقا، جو ایک باغ کے مالک تھے، حضرت مبارکؒ کی تقویٰ شعاری اور امانت داری سے بے حد متاثر ہوئے اور اپنی نیک بیٹی کا رشتہ اُن سے کر دیا۔
اسی طرح کے بے شمار واقعات ہیں جنہیں ﭘ۔۔۔۔ واقعی میں آسان نکاح کرنے کا صحیح طریقہ کار معلوم ہوتا ہے جو ہر لحاظ سے بابرکت ہے ۔ اور سماج کے لئے باعثِ آبادی و خوشحالی ہے ۔
قارئین کرام! کیا ہمارے سماج میں اس طرح کی سادہ شادیاں آج کی تاریخ میں نہیں ہوتی؟ کیا ہمارے سماج میں صحابہ کبار رضوان اللہ علیہم اجمعین کے مقدس طریقے پر نکاح نہیں ہوتے؟ آپ کو یہ پڑھتے ہوئے حیرانی ہوگی کہ اس طرح کے نکاح ہمارے یہاں آج بھی ہوتے ہیں ۔ جہاں حضرت عبدالرحمٰنؓ ابن عوف کی طرح رئیس اور حضرت جلیبیبؓ کی طرح غریب صحابہ کے طرز پر نکاح ہوا کرتے ہیں ۔ ان کی شادیاں انتہائی سادگی، کم خرچ اور نمائش سے پاک ہوتی ہے، جس میں مہر کی کم سے کم مقدار اور ولیمہ میں سادگی کو فوقیت دی جاتی ہے ۔ جہاں پھر دولہا ہی مہمانوں کی خدمت میں لگتا ہے اور مہمان بھی ایک سادہ سی کھجور پر قناعت کرتے ہیں ۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ اس طرح کے سادہ نکاحوں کو میڈیا کے ذریعے لوگوں کے سامنے لایا جائے، انہیں خوب تشہیر (Glamirise) کیا جائے ۔ تاکہ اس طرح کے مثبت سوچ کو دیکھ کر دوسرے لوگ بھی متاثر ہو جائے ۔ اور وہ اپنی ذات سے اس طرح کے اقدام پر تیار ہو جائے ۔ یہ عمل اکثر علماء حق اور ان کے سائے تلے تربیت یافتہ نوجوانوں کے اندر ضرور دیکھنے کو ملتا ہے ۔ جہاں موسیقی کی محفلیں سجتی ہے نہ کوئی ناچ گانا ہوتا ہے ۔ یہ بالکل اسلاف کے طرز پر صاف و شفاف، سادہ اور خوشگوار ماحول میں ہوتی ہے ۔
وقت کی اہم ضرورت ہے کہ ہم سب مل کر اس ناسور کے خلاف متحرک آواز بنے اور اس کے سدباب کا تلاش کرنے کی کوشش کریں ۔ نکاح کو مشکل ترین عمل کے بجائے آسان بنایا جائے اور سنت رسولؐ کے مطابق انجام دینے پر زور دیا جائے ۔ جہیز جیسی خون و آشام کے بجائے دین کی آگاہی کا مطالبہ کریں ۔
الغرض خلاصہ کلام یہی ہے کہ ہمیں اپنے بچوں کو جوانی کی عمر میں پہنچتے ہی شادیوں کے اسباب مہیا کرنا چاہئے ۔ اور اس میں آنے والی تمام رکاوٹوں کو دور کرنے میں اپنی اپنی سطح پر نمایاں کردار ادا کرنا چاہئے ۔ اللہ پاک ہم سب کو شادیوں کے سلسلے میں سنجیدہ ہونے اور اپنے محبوب نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم کے نقش و قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین