جموں//حریت کانفرنس (جی)کے یونٹ جموں و کشمیر سوشل پیس فورم کے ایک وفد نے پونچھ کا دورہ کیا ۔ ایڈوکیٹ دیوندر سنگھ بہل نے شوپیاں میں حال ہی میں نوجوانوں کی ہلاکت کی شدید الفاظ میں مذمت کی ۔ انہوں نے جموں و کشمیر کے مسلے کو ریاست کے لوگوں کی خواہشات کے مطابق حل کرنے کے لئے اقوام متحدہ سے اپیل کی کہ وہ ہندوستان ، پاکستان اور حکومت ہند کے درمیان جلد بات چیت شروع کرائے ۔ انہوں نے انسانی حقوق کی تنظیموں سے اپیل کی کہ وہ آگے آئیں اور جیلوں میں بند تمام سیاسی قیدیوں اور نوجوانوں کو رہاکرائیں۔ انہوں نے کہا کہ جو سیاسی قیدی جیلوں میں ہیں، وہی ریاست کے لوگوں کے حقیقی نمائندے ہیں۔دیوندر سنگھ بہل نے کہا کہ ایک طرف تو بھارت سرکار کشمیر کے بارے میں بات چیت کرنے کے لئے دینشور شرماکو نامزد کرتی ہے تو دوسری طرف بے گناہ نوجوانوں کو مار رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ مار دھاڑ اور بات چیت ایک ساتھ نہیں چل سکتے ہیںاس لئے سب سے پہلے بھارت سرکار کو چاہیے کہ وہ بے گناہ نوجوانوں کی ہلاکت کو فوری طور پر بند کردے ۔ اس لئے ضرورت اس بات کی ہے کہ پنڈت جواہر لال نہرو نے جو وعدہ کیا تھا ، اسے پرپورا کیا جائے کہ جموں و کشمیر کے لوگوں اپنے مستقبل کا فیصلہ خود کرنے کا حق دیا جانا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ جمون و کشمیر کامسلہ حل ہوجائے گاتو ہندوستان او رپاکستان کے درمیان تعلقات خود بخود بہتر ہوجائیں گے اور برصغیر میں دیر پا امن بحال ہوجائے گا۔انہوں نے کہا کہ ہندوستان اور پاکستان دونوں نیوکلیائی طاقتیں ہیں اور نیو کلیائی ہتھیاروں کی تباہی ہم جاپان میں دیکھ چکے ہیں۔اس لئے ضرورت اس بات کی ہے کہ انسانی حقوق سے وابستہ تنظیمیں اور یواین او اس مسلے کو حل کرنے میں پہل کریں۔