میر شوکت
کٹرا، وہ چھوٹا سا قصبہ جو تریکوٹا پہاڑوں کی گود میں لپٹا ہوا ہے، جیسے کوئی پرانی کہانی کا آخری باب جو ابھی تک زندہ ہے۔صبح سویرے جب دھند پہاڑوں کی چوٹیوں سے اترتی ہے تو قصبہ اس میں ڈوب جاتا ہے۔سبزہ زاروں پر اولے جیسے موتی بکھرے ہوتے ہیں اور ہوا میں ٹھنڈک ایسی کہ سانس لیتے ہی دل ٹھنڈا ہو جائے۔ دور سے تریکوٹا کی چوٹیاں سفید بادل میں چھپی نظر آتی ہیں، جیسے کوئی دیوی اپنا پردہ ڈالے بیٹھی ہو۔ایک ایسی دیوی جو صدیوں سے لوگوں کے دکھ درد دیکھتی آئی ہے اور ان کی امیدوں کو اپنی چادر میں لپیٹتی رہی ہے۔یہاں کی گلیاں تنگ اور پتھریلی ہیں، جہاں یاتریوں کے قدموں کی تھاپ دن رات گونجتی رہتی ہے۔ گھوڑوں کی ٹاپوں کی آواز، پالکی والوں کی ہلکی سی چیخیں اور ’’جے ماتا دی‘‘ کا نعرہ جو ہوا میں گھل مل کر ایک عجیب سی موسیقی بنا دیتا ہے۔ یہ موسیقی ان لوگوں کی ہے جو دور دور سے آتے ہیں، اپنے دل کی آرزوئیں لے کر اور واپس جاتے ہیں ایک نئی امید کے ساتھ۔بازار میں دکانیں کھلتی ہیں تو خشک میووں کی مہک، اون کے کپڑوں کی گرمی اور چمڑے کی خوشبو ایک ساتھ اڑتی ہے۔ چائے کے ٹھیلوں پر لوگ بیٹھے ہوتے ہیں، گرم کپ ہاتھ میں تھامے، تھکاوٹ کو بھگاتے ہوئے ایک دوسرے کی یاترا کی کہانیاں سناتے ہیں۔کوئی بتاتا ہے کہ ماتا کے درشن سے اس کا درد کم ہو گیا، کوئی کہتا ہے کہ یہاں کی ہوا میں شفا ہے، جو زخموں کو چھو کر گزرتی ہے۔شام ڈھلتے ہی قصبہ ایک نئی شکل اختیار کر لیتا ہے۔ لائٹس جل اٹھتی ہیں، مگر روشنی نرم ہے، جیسے کوئی ماں اپنے بچوں کو لوری سنا رہی ہو۔ پہاڑوں سے ٹھنڈی ہوا اترتی ہے، درختوں کی پتیاں سرگوشی کرتی ہیں اور یاتریوں کے چہروں پر ایک عجیب سی چمک ہوتی ہے۔جیسے وہ جان چکے ہوں کہ کل صبح ان کی راہ ماتا کے قدموں کی طرف ہے۔ گھوڑے تھکے ماندہ کھڑے ہوتے ہیں، پالکیاں ایک طرف رکھ دی جاتی ہیں اور قصبہ خاموش ہو جاتا ہے، مگر یہ خاموشی سکون کی ہے، انتظار کی ہے،ایک ایسا انتظار جو دل کی گہرائیوں سے نکلتا ہے، جہاں خواب اور درد ایک ساتھ سوتے ہیں۔یہ سکون برسوں سے چلا آ رہا تھا، پھر کٹرا میں ایک کے بعد ایک ادارے آئے،پہلے شری ماتا ویشنو دیوی یونیورسٹی جو 1999 میں وجود میں آئی، پہاڑوں کے دامن میں ایک نئی دنیا بسانے لگی۔ یہاں طلبہ آئے، جو کتابوں میں غوطہ لگاتے اور پہاڑوں کی ہوا میں اپنے خواب پالتے۔ کچھ یہاں سے نکل کر بڑے شہروں میں چمکے، مگر دل میں کٹرا کی یاد رکھی۔
وہ یاد جو انہیں بتاتی تھی کہ علم صرف دماغ کا نہیں، دل کا بھی خزانہ ہے۔ اس کے بعد 2016 میں شری ماتا ویشنو دیوی نارایانہ سپر اسپیشلٹی ہسپتال کھلا، جو کاکریال میں قائم ہوا، جدید مشینوں اور ڈاکٹروں سے بھرا، جہاں دل کی دھڑکنیں اور کینسر کی لڑائیاں لڑی جاتی تھیں۔ یہ ہسپتال یاتریوں کے لیے مقامی لوگوں کے لیے ایک نئی امید بنا۔ایک ایسی امید جو درد کی چیخوں کو خاموش کرتی اور آنکھوں میں آنسوؤں کی جگہ مسکراہٹ لاتی۔ ایک بوڑھے نے کہا تھا،’’اب موت سے پہلے زندگی کی ایک اور سانس مل گئی۔‘‘پھر اسی تسلسل میں ایک اور قدم اٹھایا گیا،شری ماتا ویشنو دیوی انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل ایکسی لینس یعنی میڈیکل کالج۔ یہ محض ایک نئی عمارت نہیں تھی، یہ ان سب اداروں کا تسلسل تھا،یونیورسٹی کی علمی فضا، ہسپتال کی کلینکل طاقت اور قصبے کی روحانی ہوا۔ یہ سب مل کر کٹرا کو ایک نیا چہرہ دے رہے تھے۔ تعلیم، صحت اور ترقی کا ایک مجموعہ۔ مگر یہ مجموعہ صرف پتھروں اور اینٹوں کا نہیں تھا، یہ لوگوں کے دل کی دھڑکنوں کا تھا، جو امید سے بھرے ہوئے تھے۔کچھ نے خوشی سے آنکھیں چمکا کر کہا،’’اب ہمارے بچے گھر بیٹھے ڈاکٹر بنیں گے۔‘‘ رکشہ والا اپنی بیٹی کے لیے نرسنگ کا خواب دیکھنے لگا،وہ بیٹی جو راتوں کو پڑھتی تھی اور باپ کے آنسوؤں کو دیکھ کر کہتی تھی،’’ابا! میں ایک دن تمہارا درد کم کروں گی۔‘‘ درزی نے بیٹے کے لیے اناٹومی کی کتاب منگوا لی اور اسے دیکھ کر سوچتا کہ یہ کتاب اس کی قسمت بدل دے گی۔ سفید کوٹ بازار میں نظر آئے تو لوگوں نے انہیں ایسے دیکھا جیسے برف پہلی بار پڑی ہو۔صاف، ٹھنڈی اور ذرا اجنبی، مگر ان کوٹوں میں ایک وعدہ تھا، شفا کا وعدہ۔مکانوں نے سب سے پہلے بدلاؤ محسوس کیا۔ وہ کمرے جو برسوں کرایہ داروں کی کہانیاں سنتے رہے تھے۔کہانیاں درد کی، محبت کی، جدائی کی اب’’ریزیڈنشل یونٹ‘‘ کہلانے لگے۔ پانی کی ٹنکیاں، بجلی کے تار، حتیٰ کہ ہوا نے بھی نئی قیمت مانگ لی۔ چائے کے ٹھیلوں پر اب نائٹ ڈیوٹی اور وارڈ راؤنڈز کی باتیں ہونے لگیں۔باتیں جو دل کو چھو جاتی تھیں، جہاں ایک نوجوان ڈاکٹر اپنی پہلی مریض کی کہانی سناتا اور سننے والے کی آنکھیں نم ہو جاتیں۔ کتابوں کی دکان میں انسانی ہڈیوں کے چارٹ لٹک گئے، جو مسکراتے ہوئے قصبے کو کہہ رہے تھے،’’اب ہم تمہارے ہو گئے ہیں۔تمہارے درد، تمہاری خوشیاں، سب کے لیے۔‘‘جموں کشمیر نے پہلی بار سوچا کہ علم اب صرف باہر سے آنے والوں کی چیز نہیں، ہمارے بچوں کا حق بھی بن سکتا ہے۔ خواب پھیلے، چھوٹے چھوٹے خواب۔جیسے کوئی پرانی چادر پر نئی سلائی لگ رہی ہو، مگر یہ سلائی دل کی تاروں سے بنی تھی۔ ایک ماں نے اپنے بیٹے کو دیکھ کر سوچا کہ اب وہ ڈاکٹر بنے گا اور اس کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔
آنسو خوشی کے، جو برسوں کی محرومی کو دھو رہے تھے۔ مگر خوابوں کے ساتھ ہی ایک کڑوا پن بھی آیا، جیسے کوئی زہر کی قطرہ جو دکھ کی جڑ سے نکلتا ہے۔ داخلوں کی فہرست جب آئی تو ناموں میں ایک رنگ زیادہ تھا، ایک خطہ زیادہ تھا۔ میرٹ نے دروازہ کھولا، مگر شناخت نے سوال اٹھائے۔’’یہ ادارہ کس کا ہے؟‘‘۔’’فنڈ کہاں سے؟‘‘ سیاست کمرے میں داخل ہوئی، نعروں کے ساتھ۔نعرے جو دل کی چیخوں کو دباتے تھے۔ احتجاج ہوئے، بیانات آئے۔ سفید کوٹ اب بحث کا موضوع بن گئے اور وہ لوگ جو امید سے جیتے تھے، اب درد سے رو رہے تھے۔پھر معائنہ ہوا۔ نہ نعرے، نہ تقریریں،صرف پیمانے۔ کمروں کی پیمائش، فیکلٹی کی گنتی، مریضوں کا حساب۔ حقیقت آمنے سامنے آئی، جیسے کوئی آئینہ جو چہرے کی جھریاں دکھا رہا ہو اور فیصلہ آیا: اجازت منسوخ۔وجہ داخلے نہیں، بنیادیں تھیں۔فیکلٹی ادھوری، کلینکل سامان ناکافی، کچھ شعبے کاغذ پر تھے، زمین پر نہیں۔ حالانکہ یہ سب بہانے تھے ،خبر بارش کی طرح گری، مگر یہ بارش آنسوؤں کی تھی۔ طلبہ جو سفید کوٹ پہن چکے تھے، وہ خلا میں لٹک گئے۔ان کے خواب ٹوٹے، جیسے شیشہ جو زمین پر گر کر بکھر جائے اور ہر ٹکڑے میں ایک درد کی کرچ نظر آئے۔ ایک طالب علم نے رات بھر روتے ہوئے سوچا، ’’میرا خواب کیوں چھین لیا گیا؟‘‘کٹرا نے بہت کچھ کھویا۔وہ سادہ یقین کہ نیت کافی ہوتی ہے، وہ سکون کہ ترقی خود بخود سیدھی چلتی ہے۔ کچھ بوڑھے کہتے،’’پہلے بہتر تھا‘‘ اور پہاڑوں کی طرف دیکھ کر چپ ہو جاتے، ان کی آنکھوں میں برسوں کی تھکاوٹ جھلکتی۔ مگر کچھ پایا بھی۔ایک کڑوا سبق، جو دل کو چیرتا ہے۔ یہ سمجھ کہ تعلیم اعلان سے نہیں، تیاری سے چلتی ہے۔ صحت کا ادارہ جذبات سے نہیں، معیار سے زندہ رہتا ہے۔ مگر یہ سبق درد سے لکھا گیا تھا جو ہر دل کو چھوتا ہےاور وہ بات جو اکثر چھپائی جاتی ہے۔ احتجاج اور دباؤ نے فیصلہ ڈھکیل دیا۔ مخصوص داخلوں کو بہانہ بنا کر شور مچایا گیا کہ ادارہ اصلاح کی بجائے سزا پا گیا۔ نقصان پورے خطے کا ہوا۔جموں کا، کشمیر کا۔ ایک ابھرتا ادارہ، مقامی معیشت اور وہ خواب جو صحت میں خودکفالت کی طرف جا رہا تھا، سب رُک گیا۔رُک گیا تو دل بھی رُک گئے، امیدوں کے پھول مرجھا گئے۔آج کٹرا اب بھی وہیں ہے، پہاڑوں کے درمیان، دُھند میں لپٹا، زائرین کی تھاپ سُنتا۔ یونیورسٹی اب بھی اپنی روشنی بکھیر رہی ہے، نارایانہ ہسپتال اب بھی مریضوں کی خدمت میں مصروف ہے۔ مگر میڈیکل کالج کی کہانی نے ایک سوال چھوڑ دیا ہے جو دل کی گہرائیوں سے نکلتا ہے۔
وہ جان چکا ہے کہ یہ سب ادارے صرف عمارتیں نہیں، ذمہ داریاں ہیں۔ جب ذمہ داری پوری نہ ہو تو سفید کوٹ بھی بوجھ بن جاتے ہیں اور خواب ٹوٹنے کی آواز پہاڑوں میں گونجتی رہتی ہے۔یہ کہانی صرف ایک کالج کی نہیں، اس سماج کی ہے جو خواب تیزی سے دیکھتا ہے مگر بنیادیں آہستہ رکھتا ہے۔ اب یہ سوال پہاڑوں سے ٹکرا کر ہم سب تک پہنچ چکا ہے اور ہر دل میں گونج رہا ہے،ترقی کے نام پر ہم نے کیا پایا اور اس کی قیمت میں کیا کھو دیا؟