ایجنسیز
کولمبو// سری لنکا کی بحریہ نے جمعہ کے روز بتایا کہ ایرانی بحری جہاز پر سوار 208 میں سے 204 ایرانی اہلکاروں کو بحفاظت کولمبو بندرگاہ منتقل کر دیا گیا ہے۔ یہ اقدام اس واقعے کے دو دن بعد کیا گیا جب جزیرہ نما ملک کے قریب ایک اور ایرانی فریگیٹ ڈوب گیا تھا۔بحریہ کے مطابق چار ملاح اب بھی جہاز پر موجود ہیں، کیونکہ جہاز کے ایک انجن میں خرابی پیدا ہو گئی تھی۔بحریہ نے مزید کہا کہ موجودہ مقام، جو دارالحکومت کولمبو سے باہر ہے، سے مشرقی بندرگاہ ترینکومالی تک پہنچنے میں جہاز کو کم از کم مزید دو دن لگیں گے۔بحریہ کے ترجمان کمانڈر بدھیکا سمپتھ نے کہا کہ ایرانی ملاحوں کو کولمبو کے شمالی مضافاتی علاقے ویلی سرا میں واقع بحریہ کے کیمپ لے جایا جائے گا۔انہوں نے کہا،’’رجسٹریشن کی رسمی کارروائی کے طور پر ان کا طبی معائنہ کیا جائے گا۔‘‘جمعرات کو ٹیلی وڑن خطاب میں سری لنکا کے صدر دِسّانایکے نے کہا کہ جہاز نے انجن کی خرابی کے باعث سری لنکن پانیوں میں داخل ہونے کی اجازت طلب کی تھی۔انہوں نے کہا،’’ہم انسانی ہمدردی کے تحت کارروائی کرتے ہوئے غیر جانبدار رہنا چاہتے تھے۔‘‘انہوں نے مزید کہا کہ سری لنکا کا کردار صرف تنازع میں شامل ایک فریق کی درخواست کا جواب دینے تک محدود تھا۔صدر نے کہا،’’کسی کو بھی مرنے کا حق نہیں۔ ہر جان قیمتی ہے۔‘‘انہوں نے اپوزیشن جماعتوں کو اس معاملے کو سیاسی رنگ دینے کی کوشش پر تنقید کا نشانہ بھی بنایا۔انہوں نے کہاِ’’ہم دباؤ کے آگے نہیں جھکیں گے۔ ہم اپنی غیر جانبداری برقرار رکھیں گے۔‘‘صدر کے مطابق جہاز پر مجموعی طور پر 208 افراد سوار تھے جن میں 53افسران، 84 کیڈٹس، 48 سینئر ملاح اور 23 سی مین شامل تھے۔دِسّانایکے نے بتایا کہ 26فروری کو ایران نے سری لنکا سے درخواست کی تھی کہ جہازکو 9 سے 13 مارچ تک چار دن کے لیے کولمبو بندرگاہ پرخیرسگالی دورے کے لیے لنگر انداز ہونے کی اجازت دی جائے۔انہوں نے کہا:’’یہ خیرسگالی دورے کا مناسب طریقہ نہیں تھا۔ ہم صورتحال کا جائزہ لے رہے تھے۔