سرنکوٹ//سرنکوٹ کے لوگوں نے ضلع انتظامیہ کو انتباہ دیاہے کہ اگر شراب بندی نہ کی گئی تو عوامی جذبات بھڑک اٹھیںگے اور پورے ضلع میں احتجاج کیاجائے گا۔مرکزی جامع مسجد سرنکوٹ دارالعلوم رضویہ سلطانیہ سرنکوٹ میں علماء اکرام کا ایک اجلاس زیر صدارت مفتی سید بشارت حسین رضوی صدر تنظیم جماعت اہل سنت منعقد ہوا۔ اجلاس کے دوران سرنکوٹ میں پائی جارہی سماجی برائیوں کی روک تھام کیلئے غور وفکر کیاگیا اور خاص طور پر شراب بندی کا مطالبہ کیاگیاہے ۔ اس موقعہ پر فیصلہ لیاگیاکہ سرنکوٹ میں شراب خانہ بند کرنے کیلئے ضلع انتظامیہ کو تحریری طور پر آگاہ کیاجائے۔یہ فیصلہ بھی لیاگیاکہ اگر شراب خانہ بند نہ کیاگیا تو وہ ایسی صورت میں تمام ائمہ مساجد و علماء اکرام مساجد سے اعلان کرکے احتجاج کا سلسلہ شروع کریںگے ۔اس دوران بتایاگیاکہ کئی مرتبہ شراب خانے کو بند کرنے کی غرض سے کوششیں کی گئیں جو بارآور ثابت نہ ہوسکیں جس کی وجہ سے عوام میں سخت تشویش پائی جارہی ہے اور نوجوان نسل کا مستقبل تاریک بنتاجارہاہے مگر ضلع انتظامیہ اس سلسلے میں کوئی بھی کارروائی نہیں کررہی جس پر عوام کے جذبات بھڑک اٹھنے کا یقینی امکان ہے ۔میٹنگ میں فیصلہ ہواکہ اگر انتظامیہ نے شراب بندی کے لئے کوئی اقدام نہ کیاتو پورے ضلع میں احتجاج شروع کرنے کا منصوبہ مرتب کیاجائے گا۔ تمام شرکاء نے بیک زبان ہوکر کہاکہ مطالبات پورے نہ ہونے پر دوسری میٹنگ میں احتجاج دھرنو ں اور مظاہروں کیلئے پروگرام مرتب کیاجائے گا۔واضح رہے کہ ماضی میں بھی کئی مرتبہ سرنکوٹ میں اسی معاملے پر احتجاج ہوئے جبکہ علماء نے اکتیس اگست تک شراب بندی کی مہلت بھی دی لیکن اس کے باوجود یہ معاملہ حل نہیں کیاگیا۔