پونچھ//سرحدی ضلع پونچھ میں آئے روز ہند وپاک افواج کی جانب سے کی جا رہی گولہ باری کا شکار بننے والے لوگ بری طرح سے متاثر ہورہے ہیں۔ حالیہ دنوں میں پونچھ کے دیگر علاقوں کی طرح گائوں قصبہ کے حدِ متارکہ کے قریب کے رہائشی علاقوں پر ہوئی گولہ باری کی زد میں آکر لوگوں کا سخت جانی مالی نقصان ہوا جس کی وجہ سے اس علاقہ کے لوگوں پر خوف و حراس چھا گیا ہے۔لوگوں پر اس قدر خوف طاری ہے کہ وہ اپنے گھروں میں مقید ہو کر رہ گئے ہیں۔اس سلسلے میں لوگوں نے گلزار جٹ کی قیادت میں احتجاج کیا اور مرکزی حکومت پر سوتیلا سلوک کرنے کا الزام لگایا۔ لوگوں کا کہا تھا کہ وہ ہر روز ایک جنگ کا سامنا کرتے ہیں لیکن ان کا پرسان حال کوئی نہیں ۔ انہوں نے کہا کہ پونچھ ضلع جنگ بندی کی خلاف ورزی کے دوران سب سے زیادہ متاثر ہونے والا ضلع ہے لیکن یہاں مرکزی اور ریاستی سرکار کی جانب سے حدِ متارکہ کے رہائشیوں کی حفاظت کے لئے پچھلے ساٹھ سال سے کوئی انتظام نہیں کیا گیا۔ان کاکہناتھاکہ حال ہی میں مرکزی سرکار کی جانب سے راجوری ضلع کے مخصوص علاقوں میں پختہ بینکروں کی تعمیر کا کام شروع کیا گیا لیکن پونچھ ضلع کے سرحدی علاقوں کی عوام کے لئے کہیں بھی ایک بینکر بھی نہیں بنایا جا رہا۔انہوں نے کہا کہ لیڈرا ن اور ضلع انتظامیہ کے اعلیٰ عہدیداران وعدے تو کرتے ہیں لیکن ان کو پورا نہیں کیا جاتا ہے۔گلزار جٹ نے کہا کہ وہ متاثرہ علاقہ کا دورہ کر چکے ہیں اور انہوں نے خود مشاہدہ کیا ہے کہ لوگ کس طرح مشکلات کا شکار ہیں ۔انہوں نے کہا کہ فوج تو کشیدگی کے دوران پختہ بنکروں میں پناہ گزیں ہوکر خود کو بچالیتی ہے لیکن عام شہریوں کی فکر کوئی نہیں کرتا۔انہوںنے مرکزی حکومت سے مانگ کی کہ وہ اپنے دوہرے معیار کو ترک کرکے ان کیلئے پختہ بنکر تعمیر کرائے اور اس کشیدگی کو ختم کرنے کیلئے بات چیت کی جائے ۔