محتشم احتشام
پونچھ//جامعہ ضیاء العلوم پونچھ کے پچاس سالہ عظیم الشان جشن کے موقع پر ادارے کے ممتاز سابق طالب علم، بین الاقوامی علمی و ادبی شخصیت ڈاکٹر قاضی عبدالرشید ضیائی ندوی کو اْن کی طویل، مصنفانہ اور تحقیقی خدمات کے اعتراف میں ایک معزز تعلیمی ایوارڈ سے نوازا گیا۔یہ ایوارڈ وزیر اعلیٰ جموں و کشمیر عمر عبداللہ نے خصوصی تقریب میں انہیں پیش کیا، جسے علمی حلقوں میں غیر معمولی پذیرائی حاصل ہوئی۔ڈاکٹر ضیائی ندوی عربی و اردو دونوں زبانوں کی ممتاز علمی شخصیت ہیں۔ ان کی تحریری و تحقیقی استعداد کے باعث وہ دونوں زبانوں میں دَرجن سے زائد اہم وقیع کتابوں کے مصنف ہیں۔ ان کا علمی و ادبی سفر ساڑھے تین دہائیوں سے زیادہ عرصے پر محیط ہے، اور اس وقت وہ بیرونِ ملک ایک باوقار علمی منصب پر خدمات انجام دے رہے ہیں، جو ان کی علمی عظمت اور عالمی سطح پر پذیرائی کا واضح ثبوت ہے۔جامعہ ضیاء العلوم کے گولڈن جوبلی جشن کو یادگار بنانے میں ادارے کے بانی، حضرت مولانا غلام قادر مدظلہ العالی کی دعاؤں کے ساتھ ساتھ چیرمین گروپ آف ضیاء العلوم انسٹیٹیوشنز مولانا سعید احمد حبیب، پرنسپل جامعہ اسکول وحید احمد بانڈے، خلیل احمد بانڈے اور ان کی پوری ٹیم نے شب و روز محنت، نظم و ضبط اور غیر معمولی ایثار کا مظاہرہ کیا۔ان کی بھرپور کوششوں کی بدولت یہ تاریخی تقریب تمام معزز مہمانوں کے لئے ایک زندہ یادگار اور باعثِ عزت و افتخار لمحہ بن گئی۔تقریب میں موجود علمی، سماجی اور ادبی شخصیات نے ڈاکٹر قاضی عبدالرشید ضیائی ندوی کے اس قابلِ فخر اعزاز کو نہ صرف جامعہ ضیاء العلوم بلکہ پورے خطہ پیر پنچال کے لئے ایک بڑا اعزاز قرار دیا۔ ان کے مطابق ڈاکٹر موصوف کی علمی خدمات نئی نسل کے لئے روشنی کا مینار اور علمی میراث کا قیمتی سرمایہ ہیں۔ڈاکٹر ضیائی کو اس تاریخی اور یادگار ایوارڈ کے ملنے پر اساتذہ، طلبہ، سابقینِ جامعہ اور مختلف علمی حلقوں کی جانب سے دلی مبارکباد کا سلسلہ جاری ہے۔ یہ اعزاز نہ صرف اْن کی شخصیت کا اعترافِ کمال ہے بلکہ جامعہ ضیاء العلوم پونچھ کے علمی معیار اور تاریخِ خدمت کا بھی ایک روشن ثبوت ہے۔