راجوری//سائیں گنجی بادشاہ ؒ کا 82واں عرس عقیدت واحترام کے ساتھ منایاگیا۔عرس میں سرحدی اضلاع سے بڑی تعداد میں لوگوں نے شرکت کی ۔ بدھ کے روز دس بجے دعا ئیہ مجلس ہوئی جس سے قبل علماء کرام نے اپنے خطاب میں امت مسلمہ کو نماز قائم کرنے اور اسلامی عقائد کی پاسداری کرنے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اس پر فتن دور میں اسلامی عقائد کی پابندی لازم وملزوم ہوچکی ہے ۔ان کاکہناتھاکہ آج بچے والدین کے نافرمان ہورہے ہیں ،عریانیت عام ہورہی ہے جس پر قابو پانا دشوار ہوچکا ہے ۔ انہوں نے وہاں موجود لوگوںسے مخاطب ہوکر کہا کہ وہ اپنے گھروں میں اسلامی تعلیمات کو عام کرنے کے لئے اہم کردار نبھائیں تاکہ کل قیامت کے روز شرمندگی کا سامنا نہ کرنا پڑے ۔علماء کرام نے برما میں مسلمانوں پر ہورہے ظلم کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ نام نہاد انسانی حقوق کے علمبردار آج کہاں ہیں ۔انہوںنے کہاکہ بدھ مت کے پیروکاروں نے برما میں ظلم کی انتہا کردی ہے جس کی کوئی مثال نہیں ملتی ۔ ان کاکہناتھاکہ پچھلے کئی ہفتوںسے ظلم و جبر کا سلسلہ جاری ہے لیکن افسوسناک بات ہے کہ عالمی ادارے اورتمام ممالک نے چپ سادھ رکھی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ مسلمان متحد ہوجائیں اوراللہ کے دین سے اپنا والہانہ تعلق بنالیں تاکہ کامیابی ان کا مقدر بن سکے ۔ سجادہ نشین زیارت سائیں گنجی ؒ سائیں عبدالرشید نے عرس میں شامل ہونے والے تمام لوگوں کاشکریہ ادا کیا ۔عرس میں مولانا فاروق نعیمی نقشبندی ، مولانا عبدالرشید قادری ، حافظ محمد سعیدوغیرہ بھی شامل تھے ۔