رُوداد افسانہ

 نواب دین کسانہ

میں ہاتھ میں کاغذ قلم تھامے ایک نیا افسانہ لکھنے کی سوچ رہا تھا مگر الفاظ اور احساسات کا وہ سنگم نہیںہو پارہا تھا جو افسانوی تحریروں کیلئے لازم ہے۔ میری تمام تر کوششوں کے باوجود بے ربطی تھی کہ بڑھتی ہی چلی جارہی تھی۔ دل میں اک جمود سا تھا جو ٹوٹنے کا نام نہیں لیتا تھا۔ کسی نئے افسانے کا بیج پھوٹے نہیں پھوٹتاتھا۔میں پریشان تھا۔اس لیئے کہ میری خواہش کے باوجود افسانہ ہونے میں نہیں آرہا تھا۔ عالم ِبے بسی میں میں نے عقل سے رہبری چاہی تواس نے ٹکاسا جواب دیتے ہوئے کہا،
’’ یہ دل کا معاملہ ہے دل میں کچھ کچھ ہوتو افسانہ ہوتا ہے۔ اگر یہ نہیں تو پھر کچھ بھی نہیں ۔ زبردستی افسانے کی آرزو کرنا ایسے ہی ہے جیسے کوئی کسی گونگے سے نغمہ سرائی کی اُمید کرے‘‘۔
’’اب تھک ہار کر میں نے دل کے دروازے پر دستک دی تو اس نے صاف صاف کہہ دیا ،
’’ ایسا کچھ کچھ ہونادِل کے اپنے بس میں نہیں ہوتا ، اگر یہاں کبھی کبھار ایسا کچھ کچھ ہوتابھی ہے تو یہ سب خدا کی مرضی سے ہوتا ہے۔ اگر یہ ہر کسی کے اپنے بس میں ہوتا تو ہر کوئی شاعر اور افسانہ نگار ہوتا۔ اس بستی میں زُور زبردستی کے لئے کوئی گنجائش نہیں۔ یہاںسکندری نہیں قلندری چلتی ہے۔ جو سوچ رہے ہو،ا گروہی چاہتے ہو تو سب سے بڑے شہنشاہ کی شہنشاہی سے مانگو۔اپنی بڑائی اور دانائی پہ اتراؤ نہیں۔بے بسی پہ گھبراؤ نہیں۔مالک ِ دوجہاں کی فیاضی سے مانگو۔ پھر دیکھیئے کیسے خیالات اور الفاظ کی آمد ہوتی ہے۔ کیسے تمہاری آرزوؤں کانخلِ تمنا ہرا ہوتا ہے‘‘۔
اب میری ’میں‘ جواب دے گئی تھی۔ کاغذ اور قلم تھرتھراتے ہاتھوں سے گرنے کے قریب تھے۔ میں اُٹھنا اور بھاگنا چاہتا تھا مگر میری بے بسی مجھے بھاگنے نہیں دے رہی تھی۔ اسی کشمکش میں میری آنکھ لگ گئی۔ تھوڑی ہی دیر بعد میں ایک دوسری دُنیا میںرنگ برنگے خوابوں کا نظارہ کررہا تھا۔
آخر کچھ ٹوٹے پھُوٹے خواب دیکھنے کے بعد ایک دُبلا پتلا خوبصورت ساچہرہ نگاہوں کے سامنے جلوہ نما ہوا۔ یہ ایسا خوبصورت تھاکہ چاند کی چاندنی بھی اس کے سامنے ماند تھی مگر یہ مایوسیوں کے سیاہ بادلوں میںگھِرا ایسے نظر آتاتھا جیسے کہیں گرہن میں چاند نظر آتا ہے۔اس کی خاموشیاں تھیں کہ چِلّا چِلّا کرسنا رہی تھیں:
مجھ میں جو فریاد پنہاں ہے سناؤں کس کو
تپشِ شوق نظارہ دکھاؤں کس کو
میں کچھ دیر ٹکٹکی باندھ کر اُسے دیکھتا رہا مگر پہچان نہیں سکا کہ آخریہ ایسا ہے کون؟ تھک ہار کر میں نے پوچھا،
’’اے پیکر ِ خوبرُو!اس طرح گم سُم کیوں کھڑے ہو؟۔ کچھ بتاؤتوسہی، تم ہو کون ؟ وہ بات کیا ہے جو تمہیںکھائے جارہی ہے ؟۔ چاندسی صورت کو غم کے بادلوں میں ڈُبائے جارہی ہے‘‘ ۔
میرا اتنا پوچھنا تھا کہ وہ کسی آتش فِشاں کی طرح پھٹ پڑا، بولا،
’’ جان کر بھی نہ جاننے کا ناٹک رچارہے ہو۔ یوں دیکھو تو ہروقت میری جستجو میں سرگرداں رہتے ہو۔ ابھی لمحہ بھر پہلے میری آمد نہیں ہورہی تھی تو تمہارے ہاتھ پاؤں پھولنے لگے تھے۔ خیرتمہاری ہی مان لیتے ہیں، نہیں جانتے تو نہیں ہی سہی، آخراپنا تعارف کرانے میں بُرا بھی کیا ہے۔ میرا نام ’افسانہ‘ ہے ۔ میرے ہی سانچوں میں تم اپنے احساسات کا درد پروس کر زمانے کے سامنے پیش کرتے ہو۔ اس طرح کچھ تو تمہارے اندر کا بوجھ ہلکا ہو جاتا ہے اور کچھ تمہاری شُہرتوں کا سامان ہوجاتا ہے‘‘۔
اتناسُنناتھاکہ میں باغ باغ ہوگیا اورکہا،
’’ آمد کے لئے بہت بہت شکریہ! سچ پوچھو تو آپ سے ملاقات کی آرزُوبڑی دیرینہ تھی۔ آپ نے آکر خوش کردیا۔ شکریہ! مگر آپ کی شکایت، معاف کرنا، بجا نہیںہے۔ اگر ہم افسانہ نگار ایساکرتے ہیں تواس میں بُرا کیا ہے، ہمارا نام ہو جاتا ہے تمہارا کا م ہوجاتا ہے‘‘
مگر مجھ سے اتنا سننا تھا کہ وہ پھر اُبل پڑا۔مُجھے یوںلگا جیسے وہ رو رو کر زمانے کو سُنارہا تھا،
برقِ ایمن پڑی میرے سینے میں روتی ہے
دیکھنے والی جو آنکھ ہے کہاں سوتی ہے
اب وہ کچھ زیادہ ہی جذباتی ہوگیا تھا۔ زبردستی اپنی رُوداد سنانے پر اُتر آیا تھا۔ رُوداد کیا تھی؟ فصاحت و بلاغت کا اچھا خاصا دریا تھا جو مسّلسّل بہے جارہا تھا۔ بولا،
’’آج تم جیسامجھے دیکھ رہے ہومیںہمیشہ ہی سے تو ایسا نہیں تھا۔میں نے بڑے اچھے دن بھی دیکھے ہیں۔ ماضی میں جب آج کی طرح تفریح کے جدید سامان میسّر نہیں تھے تو میں اس معاملے میں پیش پیش تھا۔ اُن دنوں میںبڑے بڑے بادشاہوں کے درباروں کی رونق تھا۔ قصہ گوئی یا کہانی کے نام سے جانا جاتا تھا۔ ان دنوں قصہ کہانی سنانے والوں کی بڑی عزت تھی۔ سنانے والے آگے آگے تو سننے والے پیچھے پیچھے ہوتے تھے۔ آج کی طرح کا دور نہیں تھا یہاں سُنانے والے سُننے والوں کے پیچھے بھاگتے پھرتے ہیں۔ پھر آہستہ آہستہ زمانہ بدلا، نہ بادشاہ رہے نہ بادشاہی ۔ نہ ہم وہ رہے نہ وہ ہماری قدر رہی، نہ وہ طوالت رہی۔ قصّہ کہانی کی منزلوں سے گذرتے گذرتے میں ایک نئے دور میں داخل ہوکر ایک نئے انداز سے جلوہ نما ہوا تو افسانے کے نام سے مشہور ہوا۔ میرے اوّلین بزرگوں، پریم چند، کرشن چندر، عصمت چغتائی، سعادت حسن منٹو، راجندر سنگھ بیدی اور ممتاز مفتی نے میرے گیسوؤں کو بڑے طریقے او رسلیقے سے سنوارا تھا۔ میں اِن کی آغوشِ محبت میں پلا بڑھا اور جوان ہوا۔ ان بڑوں کے زیر سایہ مجھے اپنی اہمیت اور افادیت کا احساس ہونے لگاتھا۔ میں لوگوں کے اندر پنپ رہے اخلاقی اور سماجی امراض کا جائزہ لے کر غیر محسوسانہ طریقے سے اُن کی دوا کرنے لگا۔ میں معاشرے کو معاشرتی برائیوں سے بچنے کے لیئے اندر سے تیار کرتاہوں۔ میرا یہ سفر کسی نہ کسی شکل میں اب بھی جاری ہے۔ اگر تم اِسے میری خود نمائی نہ سمجھو تو میں بلامبالغہ کہوں گا کہ میں نے اِس شعبے میں بڑا کام کیا ہے۔ معاشرے کے جو افراد اندر سے تیار ہوجاتے ہیں وہ دوبارہ کم ہی برائیوں کی دلدل میں پھنستے ہیں۔ میں نے تو میاں اُن کو بھی کڑوی کسیلی سنائی ہیں جن کو سنانے کا تم حوصلہ ہی نہیں رکھتے ‘‘ ،
اس نے تھوڑاسا وقفہ دیا تو میں نے کہا،
’’میاں آپ جیسے خوبرُو کو اتنا مایوس تو نہیں ہونا چاہیئے۔ ویسے بھی تو مایوسی کفر میں شامل ہے۔ اُمید مردِ مومن ہے۔ اِس کا دامن نہیں چھوڑنا چاہیئے۔ ایسی پیاری پیاری سی صورت کوگرہن نہیں لگانا چاہئیے۔ اگر آپ اس قدر دھواں دھواں نہیں ہوتے تو آپ سے مل کر میری خوشیاں دوچند ہوجاتیں‘‘۔
اتنا سننا تھا کہ وہ اک بارپھر ساون بھادوں کے بے قرار بادلوں کی طرح برس پڑا، کہا،
’’میں افسانہ ہوں تو تم افسانہ نگار بنے پھرتے ہو۔ میں نہیں ہوتا تو تم کہاں ہوتے۔ میں تمہارا نہیں تم میرے محتاج ہو۔ احساس میری اساس ہے۔ میں احساس کا نرم و نازک شگوفہ ہوں۔ جب تک یہ دنیا چلتے پھرتے انسانوں سے آباد ہے۔ اُن کے اندر دھڑکتے پھڑکتے دلوں کا سوز و ساز ہے تو میں ہردل میں رہوں گا۔ دُنیابھر کے لوگوں کے دل یکساں طور پرمیرے گھر ہیں۔ میں اُن میں آباد رہوں گا۔ سدا بہار رہوں گامگر تم لوگوںنے میرے ساتھ انصاف نہیں کیا۔ اپنی مصروفیات کے بہانے میرا جغرافیہ ہی بگاڑدیا۔ پہلے خود ہی میری حدود ِاربعہ متعین کیںکہ ’افسانے ‘کو اتنا ہونا چاہیئے کہ پڑھنے والا ایک نشست میں آسانی سے پڑھ سکے۔ جب اس پر عمل شروع ہوا تو کٹتے کٹتے میری طوالت کے پر بالکل کٹ گئے۔ میری آج کی ضخامت کو اگر پریم چند کے افسانے کے آئینے میں دیکھوگے تو افسانہ ہوناتو دُور میں تمہید کے زمرے میں بھی شمارنہیں ہوتا۔ میں تو اس پر بھی راضی تھا مگر تمہیں تسلی نہیں تھی ۔ تم مشینوں کے دور میں جیسے جیسے مشینی انسان ہوتے گئے تمہارے دِل بھی مروّت سے خالی ہو گئے ۔ ایسے لگنے لگا کہ انسان، انسان کم اور مشین زیادہ ہو گیا ہے۔ اِس سے تمہارا زیاں ہوا یا نہیں لیکن میرا ہوگیا۔ پھر نئے تجربات شروع ہوئے اور مجھے افسانے سے افسانچہ بنادیا گیا۔ شاید اب کی مرتبہ نئے تجربہ کاروں نے یہ سوچا ہوگا کہ افسانے کو اتنا مختصر ہونا چاہیئے کہ پڑھنے والا ایک ہی سانس میں آسانی سے پڑھ سکے۔ ابھی تومیرے جدِ امجد پریم چند کو مرے ہوئے سو سال بھی نہیں ہوئے کہ تم نے میراحُلیہ ہی بگاڑدیا۔ اور اگر یہی روش جاری رہی توخدشہ ہے کہ تم جلدی ہی افسانچے کی بغل میں کوئی افسانچی نام کا بُت بھی تراش کرکھڑاکردوگے۔ متوقع افسانچی کا جغرافیہ اور ساخت کیا ہوگی میں کچھ نہیں کہہ سکتا کیوں کہ یہ سوچ کرچشم ِ تصوّر کے سامنے ظلمتوں کے سوا کچھ نظر نہیں آتا ۔ بس اتنا کہہ سکتا ہوں کہ آنے والی نسلیں میری تاریخ کے ادوار افسانہ، افسانچہ اور افسانچی کی گردان میں تلاش کیا کریں گی‘‘۔
یہ سناتے سناتے اس کی پلکیں بھیگ گئیں۔ ہچکی بندھ گئی۔ اس کی سانسوں کا شور سُن کر میری آنکھ کھُلی تو سامنے بے ترتیب پڑے کورے کاغذات کے سوا کچھ بھی نہیں تھا جو کہ عالمِ خواب میں ہُوئی میری دُھلائی کا کھلا مذاق اُڑا رہے تھے۔

���
کوہسارِ کراّئی اودھم پور، جموں
موبائل نمبر؛9055551111