ایجنسیز
کیف//ماسکو اور کیف کے مذاکرات کاروں نے جمعرات کو ابوظہبی میں امریکا کی ثالثی میں جاری مذاکرات کے دوسرے روز جنگ کے خاتمے پر بات چیت کی۔ یہ مذاکرات ایسے وقت ہو رہے ہیں جب روس یوکرین کے بجلی کے نظام پر سرمائی حملے تیز کر رہا ہے اور گزشتہ سال لڑائی میں یوکرینی شہری ہلاکتوں میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا۔یوکرین کی قومی سلامتی و دفاع کونسل کے سربراہ رسٹم عمروف، جو اجلاس میں موجود تھے، نے کہا،’’ ہم کل کی طرح ہی فارمیٹس میں کام کر رہے ہیں، یعنی سہ فریقی مشاورت، گروپ ورک اور مؤقف میں مزید ہم آہنگی۔‘‘عمروف کے مطابق متحدہ عرب امارات کے دارالحکومت میں ہونے والے مذاکرات میں ماسکو اور کیف کے وفود کے ساتھ امریکا کے خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف اورڈونلڈ ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر بھی شریک ہوئے۔ یہ دونوں گزشتہ ماہ مذاکرات میں بھی موجود تھے، جب ٹرمپ انتظامیہ دونوں ممالک کو کسی سمجھوتے کی طرف لانے کی کوشش کر رہی تھی۔
نیٹو کے سپریم اتحادی کمانڈر برائے یورپ جنرل الیکسس گرینکیوچ بھی مذاکرات میں شریک تھے، یہ بات ان کے ایک ترجمان نے حساس امور کے باعث نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتائی۔یوکرینی صدر وولودیمیر زیلنسکی نے اتحادی ممالک پر زور دیا کہ وہ ماسکو کو تقریباً چار سال قبل 24 فروری 2022 کو شروع ہونے والی مکمل جارحیت ختم کرنے پر مجبور کریں۔ انہوں نے کہا کہ یوکرین کو مستقبل میں کسی ممکنہ روسی حملے کو روکنے کے لیے سکیورٹی ضمانتوں کی ضرورت ہے۔ زیلنسکی نے بدھ کی رات سوشل میڈیا پر کہا کہ یوکرینی عوام کو یہ محسوس ہونا چاہیے کہ امن کی جانب حقیقی پیش رفت ہو رہی ہے، نہ کہ ایسا منظرنامہ جہاں روس صورتِ حال سے فائدہ اٹھا کر حملے جاری رکھے۔ مذاکرات کے ساتھ ساتھ لڑائی بھی جاری ہے۔ روس یوکرین کے بجلی کے نظام کو نشانہ بنا رہا ہے تاکہ شہریوں کو بجلی سے محروم کر کے ان کے حوصلے کمزور کیے جائیں، جبکہ مشرقی اور جنوبی یوکرین میں تقریباً ایک ہزار کلومیٹر طویل محاذ پر تھکا دینے والی جنگ جاری ہے۔انسانی حقوق کی تنظیم ہیومن رائٹس واچ کی بدھ کو جاری رپورٹ کے مطابق گزشتہ سال یوکرینی شہری ہلاکتوں میں 2024 کے مقابلے میں 31 فیصد اضافہ ہوا۔اقوام متحدہ کے یوکرین میں انسانی حقوق کی نگرانی مشن کے مطابق جنگ کے آغاز سے گزشتہ دسمبر تک تقریباً 15 ہزار یوکرینی شہری ہلاک اور 40 ہزار سے زائد زخمی ہو چکے ہیں ‘‘۔