جموں //جموں خطہ کی سڑکوں پر رواں سال بھی خونین رقص جاری رہا اوررواں سال کے 6ماہ کے دوران 1699سڑک حادثات کے دوران 240افراد لقمہ اجل اور 2140افراد زخمی ہوئے ہیں۔ٹریفک ذرایع کے مطابق کشمیر کے مقابلے میں جموں خطہ میں سب سے زیادہ سڑک حادثات رونما ہوئے ہیں ۔خطہ میں جموں ضلع میں سب سے زیادہ سڑک حادثات پیش آئے ہیں جہاں 493سڑک حادثات میں 53لوگوں کی مو ت ہوئی ہے اور 615زخمی ہوئے ہیں ،اسی طرح سانبہ میں 179سڑک حادثات کے دوران 20کی موت اور212زخمی ہوئے ہیں ۔کٹھوعہ میں 201سڑک حادثات میں 35کی موت اور 272زخمی ہوئے ہیں۔
اودھمپور میں 163سڑک حادثات میں 20افراد کی موت اور 256زخمی ہوئے ہیں۔ ریاسی میں 108سڑک حادثات کے دوران 14افراد کی موت ہوئی ہے اور135افراد زخمی ہوئے ہیں۔ ڈوڈہ میں 118سڑک حادثات کے دوران 32افراد کی موت اور 144زخمی ہوئے ہیں ۔کشتواڑ میں39سڑک حادثات کے دوران 9افراد کی موت اور 47زخمی ہوئے ہیں۔ رام بن میں 128سڑک حادثات کے دوران 32افراد کی موت اور 128زخمی ہوئے ہیں ۔پونچھ میں 104سڑک حادثات کے دوران 104سڑک حادثات کے دوران 11افراد کی موت ہوئی ہے۔ اور135زخمی ہوئے ہیں ۔راجوری میں 166سڑک حادثات کے دوران 14افراد ہلاک اور 196زخمی ہوئے ہیں۔معلوم رہے کہ کچھ برس قبل سابق ریاستی اسمبلی کی جانب سے ٹریفک حادثات کی روک تھام کےلئے ایک ہاﺅس کمیٹی بنائی گئی تھی ۔اس ہاوس کمیٹی نے جموں خطہ میں کچھ برسوں تک صورتحال کا مفصل جائزہ لینے اور کافی غور خوص کرنے کے بعد حکومت کوکئی سفارشات کے ساتھ اپنی تفصیلی رپورٹ پیش کی ۔ ہاﺅس کمیٹی نے اس وقت کی سرکار سے کہا تھا کہ ”ٹریفک ریگو لیٹری اتھارٹی“ قائم کی جائے، جو ایک ہی چھت کے نیچے کام کرے۔
اسکے علاوہ مزید ٹریفک پولیس چوکیاں قائم کرنے، مختلف مقامات پر سی سی ٹی وی کیمرے نصب کرنے ،خصوصی ٹریفک سکارڈ تعینات کرنے ، ڈرائیونگ سیکھنے کیلئے جدید اسکولوںکے قیام جیسی تجاویز شامل تھیں لیکن المیہ تو یہ ہے کہ یہاں سرکاری سطح پر ہر کام سست رفتاری کے ساتھ ہورہا ہے ۔نہ خطہ کی سڑکیں بہتر ہیں نہ کہیں ٹریفک قوانین پر عمل درآمد ہو رہا ہے۔اگرحکومت اور متعلقہ محکموں کے پاس ان تجاویز کو عملانے کا منصوبہ بھی ہوگا لیکن نہ معلوم اس منصوبے کی عمل آوری تک کتنی مزید انسانی زندگیاں ٹریفک حادثات کی نذر ہوجائیں گی۔محکمہ ٹریفک کے ایک اعلیٰ افسر نے ان حادثات کی بڑی وجہ تیزی رفتاری، غیر محتاط ڈرائیونگ، سڑکوں کی خستہ حالی،گاڑی میں خرابی،اوورلوڈنگ ، ون وے کی خلاف وزری، اورٹیکنگ، غیر تربیت یافتہ ڈرائیورز ، دوران ڈرائیونگ موبائل فون کا استعمال ، نو عمری میں بغیر لائسنس کے ڈرائیونگ، سڑک استعمال کرنے والے کا جلدباز روّیہ قرار دیا ہے ۔انہوں نے کہا کہ محکمہ کی جانب سے ان حادثات کو کم کرنے کے لئے بڑے پیمانے پر اقدمات کئے جا رہے ہیں ۔افسر کا کہنا ہے کہ روان سال جون کے مہینے تک محکمہ ٹریفک نے جموں سٹی میں ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کرنے والی گاڑیوں کے خلاف 48141چالان کئے ہیں ۔اسی طرح ٹریفک پولیس رولر جموں نے 34989اور جموں سرینگر شاہراہ پر ٹریفک پولیس نے 18155چالان کئے ہیں اور یہ کارروائی روزانہ کی بنیادوں پر کی جاتی ہے ۔