رشوت ہے اَمارت کی ضمانت میرے ہمدم

کرناٹک میں سیاسی ناٹک کھیلا گیا اور لوگ کہتے ہیں اس کا نردیشن خود شاہ پادشاہ نے کیا۔ادھر گوا میں پوری گائے دوہی گئی اور لوگ کہتے ہیں کہ گئو ماتا کے ساتھ کنول برادری کا پرانا یارانہ ہے بلکہ ٹانکا بھی بِڑا ہے ۔اس ناٹک کے کچھ سین ممبئی کے ہوٹل میں کھیلے گئے ۔سمجھو پورے بھارت ورش میں بس ایک ہی شور ہے کہ اس پارٹی کے ممبر دَل بدل کر سمندر کا سارا جل ایک گھونٹ میں پینے جا پہنچے۔یوں اس دل کی سرکار گری یا گرنے والی ہے۔پھر الزام تراشی ہے کہ اس نے خریدا ، یہ بکا۔اس نے اونچی بولی دی وہ اسی کی جھولی میں گرا ۔اسی لئے تو شاعر نے کیا خوب کہا   ؎

جمہوریت وہ طرز حکومت ہے کہ جس میں 

گھوڑوں کی طرح بکتے ہیں ممبران سر بہ سر

اور اس خرید و فروخت کے موسم میں ہم یہ سوچتے رہے کہ اگر نیو زی لینڈ کے پانچ چھ کھلاڑی ٹیم بدل کر ٹیم انڈیا میں شامل ہوں تو کیا بھارتی ٹیم ورلڈ کپ فائنل میں پرویش کرے گی؟؟ 
ہم نے تو یہ افواہ سنی تھی کہ اسے کھادی اینڈ ولیج انڈسٹری بورڈ کہتے ہیں اور یہ کہ دور نزدیک گائوں میں یہ پچھڑے علاقوں میں روزگار کے مواقع پیدا کرواتا ہے۔ اور چونکہ اپنے ملک ِکشمیر میں حقیقت سے زیادہ ا فواہیں ہی سچ نکلتی ہیں، اس لئے ہم مطمئن تھے کہ چلو اب اپنے دیہاتی باشندے بھی روزی روٹی کے بارے میں زرا سکھ کی سانس لیں گے۔حالانکہ سبھی جانتے ہیں کہ اپنے ملک کشمیر کے شہر و دیہات میں سکھ چین کی سانس تو کجا خالی کھلوٹی سانس بھی عنقا ہو گئی ہے۔اس افواہ بازی کے بیچ پھر حقیقت بھی سامنے آگئی جب پتہ چلا کہ کھادی ہی سہی پر اب کی بار کنول قلم سرکار میں دادا دادی، ماما بھانجی، چاچا بھتیجا کی بے روزگاری دور کرنے کا کام اس بورڈ سے لیا گیا ۔اسے بڑے ہی آسان الفاظ میں سمجھایا گیا کہ کھادی بورڈ بھائی صاحب غور سے دیکھو تو ہم جیسا غریب نادار کوئی نہیں ملے گا ۔وہ تو ہم ہی ہیں کہ الیکشن موسم میں ہاتھ میں ووٹ مانگنے کے لئے کشکول ہاتھ میں لئے پھرتے ہیں اور بازار میں منہ چھپا کر چلے جاتے ہیں کہیں کوئی ہماری حالت زار پر ترس کھا کر ہمارے پھٹے کپڑے دیکھ کر ہمارے کشکول میں ایک دو روپیہ کے سکے تو نہ ڈال دے ۔چلو کھادی بورڈ نے منصور پیر کا تعویذ لے کر پیران بجبہاڑہ ، شاہانِ دیوسر اور ترشول برداروںکی اس طرح خاطر تواضع کی کہ کم سے کم دو تین پشتوں تک غریبی پاس نہیں پھٹکے۔کیونکہ اس میں سربراہ بھی اپنا ، افسر بھی قریبی، ماتحت بھی جان پہچان کا، غرض یہ کہ اس میں تین بھی اپنا تیرہ بھی قریبی پھر بھلا کوئی انجان قریب کیوں آنے کی کوشش کرے گا ۔اور اگر کوئی سرپھرا کنول قلم حدود پار کرنے کی کوشش بھی کرے تو اس کے لئے ہم نے ٹاس پٹاس فورس سرحد پر جما رکھا ہے۔کنول قلم سرکار میں سارا گڑ ہم خود ہڑپ لیں بھلے ہی شوگر بیماری کا الگ سے علاج کرنا پڑے۔اب تو گورنر ستیہ جی نے سچائی پال کر اصلی ملک ہونے کا ثبوت دیا اور اس قدر کھادی والی مٹھائی کھانے والوں کو کچھ کڑوی دوائی پلائی تاکہ بلڈ شوگر لیول اعتدال پر آجائے۔اسی لئے تو انٹرویو دینے والے اُمیدوار وں کو کسی قدر اطمینان ہوگیا کہ ہماری آواز نقار خانے میں طوطی کی چیخ ثابت نہ ہوئی بلکہ کہیں کہیں کان لگانے والے بھی موجود ہیں ۔کبھی کبھی تو راج بھون مکین پتے کی بات کہتے ہیں بلکہ یوں کہیے کہ ستیہ پال لیتے ہیں۔اب کی بار جو کہیں پودا لگایا تو تاڑنے والی نظر دور تک دوڑائی اور جنگلات کے بدلے گنجا سر دیکھ لیا جس میں اکا دُکا بال نظر آئے۔پھر ایسا بولا کہ جن کی داڑھی تھی وہ اس میں دھیرے دھیرے تنکا ڈھونڈنے لگے کہ کہیں اشارہ اپنی طرف تو نہیں ۔حالانکہ بات تنکے کی کہاں تھی، وہ تو سیدھے شہتیر کی بات تھی جو آنکھ کا نہیں کہ تکلیف دے بلکہ جسے بیچ کر رکھوالوں نے کو ٹھیاں تعمیر کیں۔ جناب ملک صاحب بہادرنے سیدھی رسی شہتیر اور بنگلوں کی طرف دراز کر دی کہ بھائی لوگو جلد ہی یہ رسی گلے پڑ جائے گی۔پھر سب دیکھیں گے کہ کون کتنے پانی میں ہے اور کون کتنے جنگل میں۔ اپنے ملک کشمیر میں لوگ سیدھے سادھے سہی لیکن بھروسہ کم ہی کرتے ہیں ۔ان کا کہنا ہے کہ رسی ان کے گلے پڑتی ہے جو اس کی گانٹھ کھولنا نہیں جانتے کیونکہ ان آنکھوں نے دیکھا ہے کہ رسیوں کی گانٹھ کھولنے کا فن بہت ساروں کو معلوم ہے پھر وہ جنگل میں پھنس جائیں یا چنگل میں لیکن وہ ہر حال میں منگل منانا جانتے ہیں   ؎

حاکم رشوت ستاں فکر گرفتاری نہ کر

کر رہائی کی کوئی آسان صورت چھوٹ جا

میں بتائوں تجھ کو تدبیر رہائی مجھ سے پوچھ

لے کے رشوت پھنس گیا دے کے رشوت چھوٹ جا

  دلاور فگارؔ

کچھ تو ہم بھی پریشان ہیں اور کچھ سرکار بھی حیران ہے کہ کس کی آواز سنیں ،کیونکہ اپنے ملک کشمیر میں آوازیں تو بہت ہیں جو سننے لایق ہیں مگرآوازوں کے جھنجٹ میں سمجھ نہیں آتا کہ اس شور میں کون چیخ رہا ہے، کون درد سے چلا رہا ہے، کون مدد کو پکارے اور کون دبانے کے لئے آواز بلند کرے۔کوئی دُہائی دے رہا ہے ،کوئی احتجاج پر بیٹھا اپنی بات منوا نے نکلا ہے۔مطلب آواز اس کی بھی ہے جو شہر گاؤں آوارہ کتوں کی ہڑ بھونگ سے تنگ ہے لیکن ان کتوں کے دانت دکھاتے ہی اس کی آواز میمنے جیسے ہوتی ہے، پھر بھلا تنگ آمد بجنگ آمد کیسے ہو؟جبھی تو آوارہ کتوں سے دانتوں پنجوں زخمی ہوکر ہسپتال پہنچ کر تو ڈاکٹر کو دُکھڑا سناتا ہے یاپھر اخبار والوں سے منتیں کرتا ہے کہ بھائی میرا حال احوال بھی لوگوں کو سنائو تاکہ میری آواز نقار خانے میں طوطی کی آواز ثابت نہ ہو۔لوگوں کو سنا کر کیا کرنا، سننا تو میونسپل حکام کو ہے مگر وہاں تو بہت شور ہے، پھر بھلا کوئی سنے کیسے اور سنے بھی تو کرے کیا؟وہاں تو غیر قانونی تجاوزات کا شور ہے کہ اس دوران بقول اہل کشمیر دس آنے چھ آنے تک پہنچنے کی چھینا جھپٹی کا بھونپو بجتا ہے۔ناپ تول کا فیتہ کھلتا اور دراز ہوتا ہے۔اسے اہل کشمیر انچوں کا حساب کہتے ہیں۔لیتے تو انچوں کا حساب لیکن چھوڑتے گز فرلانگ ہیں ، البتہ اس کے بدلے محنتانہ میلوں لمباوصول ہوتا ہے ۔ کہیں کہیں تو آبیانہ بھی وصولتے ہیں ،جبھی تو بے چارے آبی پرندے جائے پناہ ڈھونڈ رہے ہیں کہ ان کے سر سے سایہ ہی اٹھتا جا رہا ہے بلکہ ان کی زمین ایسے سکڑ رہی ہے کہ پنجہ چونچ مارنے کو جگہ نہ رہی ۔اس کے علاوہ اجازت نامے کے بغیر تعمیرات کا شور ہے کہ وہاں رات دن اور خاص کر ہڑتال کرفیو کی آڑ میں مکسر چلنے کا ٹھک ٹھک ہے۔ اس دوران کسی کی نظر پڑنے کا چانس کم ہی ہوتا ہے اور یہ چانس بالکل ہی ختم کرنے واسطے لمبے چوڑے گرین پالتھین کی چادریں لٹک جاتی ہیں ۔پیچھے اینٹ پتھر کنکریٹ سریا سب چلتا ہے لیکن اپنے میونسپل حکام کچھ نہیں دیکھ پاتے کہ گرین شیٹ کے سبب نظر میں رُکاوٹ اور ایکشن میں کھید ابھر آتا ہے۔ بیچ سڑک ریڈی لگانے کا شور ہے کہ با قاعدہ فیس ادا کرکے سستا  بکنے کا وعدہ ہے ، مطلب کم ہے یا زیادہ ہے ۔دینے والا آدھا ہے اور لینے والا علاقے کا دادا ہے۔ فٹ پاتھوں پر قبضہ جما کر سودا سلف بیچنے کا شور ہے اور یہ شور تو زیادہ ہی ہے کہ مال مفت دل بے رحم کے مصداق سرکاری زمین پر پائوں پسار کے بیٹھے من مانی عام ہے۔یہاں ہی کام ہے ادھر کچھ آرام ہے ۔اس لئے سب کے لئے مل جل کر ویشرام ہے ۔ ہارن کا شور ہے جو گاڑی والا بیچ ٹریفک پھنس کر چلاتا ہے۔بے چارہ خود تو پھنستا ہی ہے لیکن دوسروں کو بھی پھنساتا چلتا ہے،یعنی ہم تو ڈوبے ہیں صنم تم کو بھی لے ڈوبیں گے۔اور پھر ایسے ٹریفک کے سیلاب میں ڈوبیں گے کہ رات گئے تک نکلنے کا راستہ نہیں۔
اور ایک شور یہ بھی ہے کہ ہائی وے کو یاتری ٹریفک کی خاطر بند کیا گیا ہے کہ نہیں۔لوگ تو کہتے ہیں کہ بند ہے کہ انہیں چلنے نہیں دیتے اور کئی کئی گھنٹے روک لیتے ہیں ۔ سرکار کہتی ہے کہ واقعی بند ہے لیکن ساتھ میں کہتی ہے کہ حقیقتاً بند نہیں ہے۔اب ہم سرکار پر بھروسہ کریں کہ حکومت پر؟ اس دو طرفہ شور میں یہ نکتہ فلاطونی سمجھ نہیں پاتے،کیونکہ کہیں سے آواز اُبھرتی ہے کہ بس دوگھنٹے بند کیا گیا ہے ۔کیا پتہ ہر ناکے پر دو دو گھنٹے ہی بند کیا جاتا ہے مگر اپنے اہل کشمیر کے لئے تو وہ پورا دن ہو گیا ۔اس بیچ سرکار نے شور مچا کر آسمان سر پر اٹھا رکھا ہے بلکہ ساتھ میں مسلسل دھمکی دی جا رہی ہے کہ سرکار عوام کی تکالیف دور کرنے میں مگن ہے اور عام خام کہتے ہیں کہ سرکار صاحب تکالیف کو چھوڑیئے  ہائی وے پابندی کو ہی دور کر دیجئے، تکالیف سے ہم خود نمٹ لیں گے۔  
ایک آواز یہ بھی ہے کہ ملک کشمیر پنجاب بن رہا ہے ۔یہ نہیں کہ پنجاب کی طرح زرعی زمین کو کاشت میں لا کر اپنے اناج خود پیدا کریں ۔بھلا وہ کیسے ہوں گے کیونکہ زرعی زمین پر تو ہم نے کنکریٹ شاپنگ مال بنا ڈالے ہیں ۔ان میں اتنی دکانیں تعمیر کیں کہ بہت جلد ہر ایک کے پاس اپنی دوکان ہو گی۔اپنی دوکان پر ہی ہر چیز ملے ،ہر مال ملے ساڑھے چھ چھ آنہ کی رَٹ ہو گی ۔دوسری دوکان پر جانے کی زحمت گوارہ نہیں ہو گی۔شوہر دوکان سجائے گا ،بیوی بچے خریداری کریں گے ۔ہاں پنجاب کی بات چلی تو اُڑتا پنجاب فلم یاد آئی۔اپنے ملک کشمیر میں بھی غیر قانونی منشیات وافر ہیں ۔کوکین کیا حشیش کیا، انجکشن کیا، ہیروئن کیا ، بس حکم کرو تو حاضر ہے ۔ اعداد و شمار کہتے ہیں ۲۱۵۷ کنبے خشخاش اور ۱۵۵۲ کنبے بھنگ اُگانے میں ملوث ہیں ۔مطلب یہ کاروبار عروج پر ہے ۔چلو کسی کام میں تو ہم تیز گامی سے آگے بڑھ رہے ہیں بلکہ سر پٹ دوڑ رہے ہیں تاکہ باقی ریاستیں ہم سے پچھڑ جائیں۔حکومت کے پاس اعداد و شمار تھے وہ ظاہر کئے ، والدین کے پاس  نصیحت تھی وہ انہوں نے خرچ کی ، سرکار کے پاس ہفتہ تھا وہ اس نے وصول کیا ، خطیبوں کے پاس فرقہ بندی سے متعلق وعظ خوانی تھی وہ انہوں نے پیش کی اور اپنا کشمیر اُڑتا رہا بلکہ اُڑتا رہے گا    ؎
یہ تو مکانوں کو من فضل ربی سے سجاتے ہیں
کھیتوں میں خشخاش اور بھنگ اگاتے ہیں
اپنے آنگن بڑھاتے ہیں تجاوزات لے کر
اور پھر پڑوسی پر بڑا رعب جماتے ہیں
رابط ([email protected]/9419009169)