یواین آئی
نئی دہلی// حکومت نے دلدلی خطوں کے عالمی دن (ورلڈ ویٹ لینڈز ڈے) سے ایک دن قبل ہفتہ کورامسر نیٹ ورک میں دو نئے دلدلی خطوں کو شامل کیے جانے کا اعلان کیا ہے۔ماحولیات، جنگلات اور آب و ہوا کی تبدیلی کے وزیر بھوپیندر یادو نے ہفتہ کے روز سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ کے ذریعے یہ اطلاع دی کہ اتر پردیش کے ضلع ایٹا میں واقع پٹنہ پرندوں کی پناہ گاہ اور گجرات کے ضلع کَچھ میں واقع چھاری۔ڈھانڈ کو رامسر مقامات کی فہرست میں شامل کر لیا گیا ہے۔وزیرِ اعظم نریندر مودی نے مرکزی وزیر بھوپیندر یادو کی پوسٹ کے جواب میں ایکس پر ایک پیغام پوسٹ کیا۔ مودی نے یادو کے اس اعلان پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ جان کر بے حد خوشی ہوئی کہ اتر پردیش کے ایٹا میں واقع پٹنہ پرندوں کی پناہ گاہ اور گجرات کے کَچھ میں واقع چھاری۔ڈھانڈ کو رامسر مقامات میں شامل کیا گیا ہے۔ وہاں کے مقامی باشندوں کے ساتھ ساتھ آبی دلدلی زمینوں کے تحفظ کے لیے وقف تمام افراد کو دل کی گہرائیوں سے مبارکباد۔ یہ اعزاز حیاتیاتی تنوع کے تحفظ اور اہم ایکو سسٹم کی حفاظت کے لیے ہماری وابستگی کی تصدیق کرتا ہے۔ امید ہے کہ یہ آبی دلدلی علاقے بے شمار مقامی اور مہاجر پرندوں کی اقسام کے لیے محفوظ مسکن کے طور پر پھلتے پھولتے رہیں گے۔ یادو نے اس بات پر روشنی ڈالی کہ وزیرِ اعظم نریندر مودی کی قیادت میں ہندوستان کے رامسر نیٹ ورک میں 276 فیصد سے زائد کا نمایاں اضافہ ہوا ہے، جو 2014 میں 26 مقامات سے بڑھ کر اس وقت 98 مقامات تک پہنچ چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ بین الاقوامی اعتراف ماحول کے تحفظ اور آبی خطوں کے تحفظ کے تئیں ہندوستان کے مضبوط عزم کی عکاسی کرتا ہے۔وزیر موصوف نے بتایا کہ یہ دونوں آبی خطے سینکڑوں مہاجر اور مقامی پرندوں کی اقسام کے لیے مسکن فراہم کرتے ہیں۔ ان علاقوں میں نایاب جنگلی حیات بھی پائی جاتی ہے، جن میں چنکارا، بھیڑیے، کاراکل، صحرائی بلیاں اور صحرائی لومڑیاں شامل ہیں، نیز خطرے سے دوچار پرندوں کی مختلف اقسام بھی یہاں موجود ہیں۔واضح رہے این یو’’کنونشن آن ویٹ لینڈز‘‘ کا ایک فریق ملک ہے، جسے رامسر کنونشن کے نام سے جانا جاتا ہے۔ اس کنونشن پر 1971 میں ایران کے شہر رامسر میں دستخط کیے گئے تھے۔ ہندوستان یکم فروری 1982 کو اس کنونشن کا دستخط کنندہ بنا۔خصوصی تحفظی اہمیت کے حامل آبی خطوں کو ’’بین الاقوامی اہمیت کے حامل آبی خطے‘‘ قرار دیا جا سکتا ہے۔ یہ مقامات اس لحاظ سے اہم ہیں کہ یہ بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ فریم ورک کے تحت تحفظ اور انتظام کے سلسلے میں ملک کے عزم کی بے جوڑ مثال بن سکتے ہیں۔