مذہب ِاسلام میں قربانی کرنے کے اصول اور اس کا شرعی حکم احادیث کی مستند کتابوں کے ساتھ ساتھ مقدس کتاب، کتاب ِزندگی امامُ الکتاب قرآن مجید میں اسکا ذکر حضرت ابراہیم کے تواسط سے ملتا ہے کہ کس طرح وہ صالح اولاد کی تمنا میں دُعائیں کیا کرتے تھے اور کیسے اللہ تعالیٰ نے انہیں اولادِ صالح عطا کیا، یہاں پر بھی اُمت کے لئے ایک درس اللہ کو دکھانا مقصود تھا جیسے کہ سماج میں ایسے بہت سارے شادی شدہ جوڑے ہیں، جو اولاد کی نعمت سے محروم ہے۔ روایات میں آیا ہے کہ حضرت ابراہیم ؑ کی عمر 86 سال کے قریب تھی اور حضرت ہاجر ؑ بھی عمر رسیدہ تھی ،چنانچہ جب حضرت ابراہیم نے اللہ کے دربار میں عاجزی و انکساری سے دُعاء مانگی تو اللہ تعالیٰ نے اُنہیں اولاد صالح سے نوازا۔ صرف حضرت ابراہیم نہیں آپ کو تواریخ کی مستند کتابوں میں بہت سارے ایسے واقعات مل جائینگے جن میں حضرت ذکریا ؑکا واقعہ میں موقع و محل کے حساب سے کرنا چاہوں گا۔ حضرت ذکریاؑ کی زوجہ جن کا نام ایشاع تھا، وہ بانجھ تھی اور زندگی کے آخری پڑاو میں تھی یعنی دونوں بوڑھے ہو چُکے تھے اور ظاہراً اس عمر میں اولاد ہونے کے امکانات بھی ختم ہو چُکے تھے، لیکن جب حضرت ذکریا علیہ السّلام نے حضرت بی بی مریمؑ کے پاس بے موسمی نہایت اعلیٰ قسم کے پھل دیکھے، تو آپؑ کے ذہن میں خیال آیا کہ جب میرا ربّ بے موقع پھل عطا کر سکتا ہے، تو اس کے لیے اولاد دینا کیا مشکل ہے۔
اولاد کی خواہش نے حضرت ذکریا ؑکے اندر اللہ تعالیٰ کے سامنے ہاتھ اُٹھا کر دُعاء مانگنے کی ہمّت پیدا کر دی اور پھر بے اختیار اُن کے لبوں پر یہ دُعا آ گئی’’اے میرے پروردگار! مجھے اپنی جانب سے اولادِ صالح عطا فرما۔ تُو بے شک دُعا سُننے (اور قبول کرنے) والا ہے‘‘(سورۂ آلِ عمران38)۔اللہ ربّ العزّت نے اپنے محبوب نبیؑ کی اس دُعا کو قبول فرمایا اور فرشتوں کو حکم دیا کہ فوراًجائو اور میرے نیک بندےذکریاؑ کو بیٹے کی بشارت دے دو۔ ارشادِ باری ہے’’ابھی وہ عبادت گاہ میں کھڑے نماز پڑھ ہی رہے تھے کہ فرشتوں نے آواز دی کہ’’ (ذکریاؑ) اللہ تمہیں یحییٰ ؑکی بشارت دیتا ہے، جو اللہ کے فیض (یعنی عیسیٰؑ ؑ) کی تصدیق کریں گے اور سردار ہوں گے اور عورتوں سے رغبت نہ رکھنے والے ہوں گے اور (اللہ) کے پیغمبر(یعنی) نیکو کاروں میں ہوں گے۔‘‘
ظاہر ہے کہ جن لوگوں کے اولاد نہیں، وہ اس نعمت سے محرومی کا درد دن و رات برداشت کرتے رہتے ہیںاور بعض اوقات انتہائی مایوس دکھائی دیتے ہیں۔یاد رہے کہ مایوسی بزدلی کہلاتی ہے اور کفر کی نشانی بھی۔اس لئے ایسے لوگوں کو ہرگز اُمید کا دامن نہیں چھوڑ دینا چاہیے ۔انہیںاللہ کے دربار میں دُعاوں کا اہتمام کرنے سے ہچکچانا نہیں چاہئےکیونکہ اللہ تعالیٰ دیر بدیر بندے کی دُعاء ضرور قبول کر لیتے ہیں۔ بس نا اُمید نا ہوجائے، دانہ خاک میں مل کر اللہ کے حُکم سے ہی گلو گلزار ہوتا ہے اور جن کو اللہ نے اس نعمت سے سرفراز کیا ہے وہ اپنی اولاد کی صحیح تربیت کریں کیونکہ ماں باپ اولاد کی اولین دانشگاہ ہوتے ہیں۔ بچہ بلوغت کی عمر تک اپنے ماں باپ سے جو کچھ سیکھتے ہیں، وہ ان کے کردار میں نمایاں تاثر چھوڑ دیتے ہیں۔والدین جب خود صالح ہونگے تب ہی اُن کے بچے ’’اولاد صالحین ‘‘کی صفوں میں شامل ہونگے، یہ قدرت کا قانون ہے۔ شاخِ شکستہ سے کبھی میٹھےثمر پیدا نہیں ہوتے۔
عید الضحیٰ پرقربانی کا مقصد کتابِ زندگی قرانِ مجید کے مطابق یہ معلوم ہوتی ہے کہ قربانی کےذریعے اللہ تعالیٰ کے لیے جان قربان کرنے کی راہ ہموار کرنا مقصود ہے ، اس میں گوشت کھانا مقصود نہیں اور نہ اس میں ریا کاری یا دکھاوا آئے اور نہ کوئی اور وَسوسہ آنے پائے، یہ خاص اللہ کے لئے جان اور مال کو قربان کرنا ہے اور رسول اللہ ؐکو یہ حکم دیا گیا جو اُمت کے ایمان کا حصہ ہے کہ:’’آپ کہہ دیجئے کہ میری نماز اور میری قربانی اور میری زندگی اور میرا مرنا اللہ کے لئے ہی ہے جو تمام جہانوں کا پالنے والا ہے۔‘‘
آج اب عید کا تیسرا دن ہے ۔کئی لوگ آج دوپہر تک قربانی کرتے ہیں۔اس لئے یاد رہے کہ قربانی کی کھالو کو دباغت کے بعد استعمال میں لایا جا سکتا ہے۔جبکہ بہت سارے افرادقربانی کے جانوروں کی کھالوں کو راہ عام پر پھینک دیتے ہیں، جس سے ماحولیات پر منفی اثر پڑتا ہے اور آوارہ کتوں کی بھرمار سے لوگوں کی آوا جاہی میں بھی مشکلات درپیش آتے ہیں۔کھالوں کا یاتو مناسب طریقے پر استعمال میں لایا جائے یا انہیں موزوں جگہ پر دفنایا جائے۔ یاد رکھیں دوسروں کو تکلیف دے کر آپ قربانی کے فیض سے محروم ہوسکتے ہیں۔
(ساکنہ پاندریٹھن سرینگر حال اومپورہ ہاؤسنگ کالونی 9205000010)