راجوری //راجوری ضلع کے متعدد دیہات میں محکمہ پی ایم جی ایس وائی کی رابطہ سڑکیں بدحالی کا شکارہوتی جارہی ہیں جس کی وجہ سے مسافروں کیساتھ ساتھ ٹرانسپورٹروں کو بھی شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے ۔مکینوں نے متعلقہ محکمہ کے آفیسران پر الزام عائد کرتے ہوئے کہاکہ سڑکوں کی حالت کو معیاری بنا نے کی جانب کوئی دھیان ہی نہیں دیا جارہا ہے ۔راجوری ضلع کے سرحدی دیہات جن میں مبارکپور،منکوٹ ،کریان ،پلالیاں ،نمبلہ ،نگہ ناڑ ودیگر گائوں کے مکینوں نے انتظامیہ و آفیسران کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہاکہ محکمہ پی ایم جی ایس وائی کے تحت ٹنڈوال پل تا سہانہ گلی سڑک کی تعمیر عمل میں لائی گئی تھی مذکورہ سڑک جموں وپونچھ شاہراہ سے سات سرحدی دیہات کی عوام کو جوڑتی ہے ۔انہوں نے بتایا کہ مذکورہ پروجیکٹ کی تعمیر 2011-12میں شروع ہو ئی تھی جبکہ سڑک پر تار کول 2018-19میں بچھائی گئی تھی ۔مکینوں نے بتایا کہ مذکورہ سڑک پر روزانہ کی بنیادوں پر سینکڑوں گاڑیاں چلتی ہیں ۔مکینوں نے بتایا کہ تار کول بچھانے کے ایک برس کے اندر ہی سڑک خستہ حال ہو نا شروع ہو گئی ۔وپن شرما ،چندر موہن ،محمد صدیق ودیگران نے بتایا کہ سڑک سے تار کول اکھڑنے کیساتھ ساتھ اب کھڈے بھی پڑنا شرو ع ہوگئے ہیں جس کی وجہ سے دوران آمد ورفت ان کو شدید مشکلا ت کا سامنا کرناپڑرہا ہے ۔انہوں نے آفیسران کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہاکہ سڑکوں کی بدحالی کی جانب کوئی دھیان ہی نہیں دیا جارہا ہے ۔مکینوں نے جموں وکشمیر انتظامیہ سے مانگ کرتے ہوئے کہاکہ سڑکوں کی حالت کو معیاری بنانے کیلئے آفیسران کو متحرک کیا جائے ۔متعلقہ حکام نے بتایا کہ سڑک کو 2018میں 135.03لاکھ روپے کی لاگت سے مکمل کیاگیا تھا تاہم پانچ برسوں تک اس کو معیاری رکھنے کا کام ٹھیکیدار کے پاس ہے ۔