ادھورے منصوبے، تاخیر اور ادائیگیوں کی بندش پر اراکین و ٹھیکیداروں کی شدید تشویش
سمت بھارگو
راجوری//جموں و کشمیر میں جل جیون مشن کے نفاذ کا جائزہ لینے کے لئے تشکیل دی گئی اعلیٰ سطحی ہاؤس کمیٹی نے راجوری ضلع میں اس اسکیم کے ناقص عملدرآمد پر سخت تشویش کا اظہار کیا ہے۔ کمیٹی کے اراکین نے منصوبوں کی تکمیل میں تاخیر اور زمینی سطح پر کام کی سست رفتاری کو انتہائی مایوس کن قرار دیا۔کمیٹی کے چیئرمین اور سابق جج و رکن اسمبلی حسنین مسعودی کی قیادت میں تیرہ اراکین اسمبلی پر مشتمل یہ وفد ان دنوں راجوری اور پونچھ اضلاع کے دورے پر ہے، جہاں وہ جل جیون مشن کے تحت جاری منصوبوں کا جائزہ لے رہا ہے۔ اس دوران مقامی اراکین اسمبلی بھی ان کے ہمراہ ہیں۔ کمیٹی نے راجوری میں کم از کم نصف درجن مقامات کا معائنہ کیا جبکہ اب پونچھ کے مختلف علاقوں کا دورہ جاری ہے۔کمیٹی کے چیئرمین حسنین مسعودی نے اس موقع پر سخت ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اگرچہ اس منصوبے کے تحت 12 ہزار کروڑ روپے سے زائد کی رقم منظور کی گئی ہے اور اب تک تقریباً 6 ہزار کروڑ روپے خرچ کیے جا چکے ہیں، لیکن اس کے باوجود بیشتر منصوبے ادھورے پڑے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اتنی بڑی سرمایہ کاری کے باوجود زمینی سطح پر نتائج نہایت مایوس کن ہیں۔رکن اسمبلی پونچھ حویلی اعجاز جان، جو اس کمیٹی کے رکن بھی ہیں، نے بھی عملدرآمد پر شدید تحفظات ظاہر کیے۔ انہوں نے کہا کہ محکمہ کاغذی کارروائی میں تو کام کی بہتر شرح دکھا رہا ہے، مگر زمینی حقیقت اس کے برعکس ہے۔ ان کے مطابق کئی مقامات پر صرف پمپ روم، کچھ پائپ لائنیں اور پانی کے ذخائر تعمیر کیے گئے ہیں جبکہ باقی کام مکمل طور پر رکا ہوا ہے۔اعجاز جان نے مزید الزام عائد کیا کہ کئی اسکیموں کے مقامات کو بغیر مناسب طریقہ کار کے تبدیل کیا گیا ہے، جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ بیوروکریسی نے اپنی مرضی سے منصوبوں میں تبدیلیاں کی ہیں۔رکن اسمبلی تھنہ منڈی مظفر اقبال خان نے بھی اس صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ان کے حلقے میں تقریباً تمام منصوبے نامکمل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بھاری فنڈز کے باوجود عوام کو اب تک پانی کی ایک بوند بھی میسر نہیں ہوئی، جو نہایت افسوسناک ہے۔دوسری جانب جل جیون مشن کے تحت کام کرنے والے ٹھیکیداروں نے بھی ہاؤس کمیٹی کے سامنے اپنے مسائل پیش کیے۔ انہوں نے بتایا کہ ادائیگیوں میں تاخیر اور بڑھتی ہوئی واجبات کی وجہ سے کام متاثر ہو رہا ہے۔ ٹھیکیداروں کا کہنا تھا کہ انہوں نے اپنی جمع پونجی خرچ کر کے کام جاری رکھا، مگر اب مالی بحران کا سامنا ہے۔انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ فوری طور پر بقایا جات کی ادائیگی کی جائے تاکہ کام دوبارہ شروع کیا جا سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر واجبات ادا کر دیے جائیں تو باقی ماندہ کام صرف دو ماہ میں مکمل کیا جا سکتا ہے۔ہاؤس کمیٹی نے یقین دہانی کرائی کہ تمام مسائل کو سنجیدگی سے لیا جائے گا اور حکومت کے سامنے رکھا جائے گا تاکہ اس اہم اسکیم کو بروقت مکمل کر کے عوام کو صاف پانی کی سہولت فراہم کی جا سکے۔