ایجنسیز
لندن//برطانوی حکومت کے مطابق نئی دہلی میں شروع ہونے والے مصنوعی ذہانت (AI) امپیکٹ سمٹ کے دوران برطانیہ اس بات پر زور دے گا کہ مصنوعی ذہانت کس طرح معاشی ترقی کو تیز، نئی ملازمتیں پیدا، عوامی خدمات بہتر اور دنیا بھر کے لوگوں کو فائدہ پہنچا سکتی ہے۔یہ وفد برطانیہ کے نائب وزیر اعظم ڈیوڈ لیمی اور اے آئی وزیرکنشکا نارائن کی قیادت میں نئی دہلی میں ہونے والے اجلاس میں شریک ہوگا۔ ان کا کہنا ہے کہ AI ڈاکٹروں کو تیز تشخیص، اساتذہ کو ذاتی نوعیت کی تعلیم، بلدیاتی اداروں کو فوری خدمات اور کاروبار کو بہتر روزگار کے مواقع پیدا کرنے میں مدد دے سکتا ہے۔لیمے نے کہا کہ یہ سمٹ عالمی شراکت داروں کے ساتھ مل کر مصنوعی ذہانت کی مکمل صلاحیت سے فائدہ اٹھانے اور منصفانہ حفاظتی معیار طے کرنے کا اہم موقع ہے۔برطانوی محکمہ سائنس، اختراع و ٹیکنالوجی کے مطابق بھارت اوربرطانیہ قدرتی ٹیکنالوجی شراکت دار ہیں، جہاں بھارتی آئی ٹی کمپنیاں جیسے انفوسس،ویپرو،ٹاٹاکنسلٹنسی برطانیہ میں اپنی سرگرمیاں بڑھا رہی ہیں۔کنشکا نارائن نے کہا کہ AI ہماری نسل کی فیصلہ کن ٹیکنالوجی ہے اور اس کے فوائد سب تک پہنچنے چاہئیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ انتظار کے اوقات کم، عوامی خدمات بہتر اور نئی ملازمتوں کے مواقع پیدا کر سکتی ہے۔اپنے دورے کے دوران وہ بنگلورو بھی جائیں گے تاکہ دونوں ممالک کے درمیان جدید ٹیکنالوجی تعاون کا جائزہ لے سکیں۔برطانوی حکومت کے مطابق دونوں ممالک بیٹری ٹیکنالوجی، دیہی ٹیلی کام اور جینومک میڈیسن جیسے شعبوں میں مشترکہ تحقیق پر کروڑوں پاؤنڈ خرچ کر رہے ہیں۔ مزید برآں بھارت برطانوی کمپنیوں کے لیے اہم منڈی ہے جہاں سے انہیں اربوں پاؤنڈ کی آمدنی حاصل ہو رہی ہے۔سمٹ کے دوران افریقی زبانوں کے لیے AI سپورٹ پروگرام اور دیگر عالمی اقدامات کا اعلان بھی متوقع ہے، جن کا مقصد ترقی پذیر ممالک کو AI انقلاب سے بھرپور فائدہ پہنچانا ہے۔ اس میں کیپ ٹائون یونیورسٹی میں کمپیوٹ حب کے قیام کا منصوبہ بھی شامل ہے۔یہ عالمی AI سمٹ 16 سے 20 فروری تک جاری رہے گا جس میں دنیا بھر کے رہنما شریک ہوں گے، جن میں ایمانوئل میکرون (فرانس) اورلوئیز اناسیو لولا ڈی سلوا (برازیل) سمیت 60 سے زائد ممالک کے نمائندے شامل ہوں گے۔