سرنکوٹ// دھندک کانی ہوڑی کی عوام کی حالت یہ ہے کہ ایک کلو میٹر سڑک سات سال سے تعطل کا شکار ہے اور سرکار کے پاس اس سڑک اوردریا پر پل کو مکمل کرنے کیلئے پیسے ہی نہیں ۔ایک مقامی شخصمحمد امین نے بتایا کہ وہ بارشوں کے موسم میں انتہائی مشکلات بھری زندگی بسر کرتے ہیں اور بچوں و بزرگوں کو جان جوکھم میں ڈال کر دریا عبور کرناپڑتاہے ۔ان کاکہناتھاکہ اگر کوئی بیمار ہوجائے تو اسے ہسپتال تک پہنچانا بھی مشکل ہوجاتاہے ۔انہوں نے بتایا کہ ایک کلو میٹر سڑک پر ایک پل ہے جس کا آدھا کام ہواہے لیکن اس کے بعد محکمہ تعمیرات عامہ نے کام بند کردیاہے اور پانچ سال سے کوئی ٹھوس اقدام نہیں کیاگیا ۔ محمد رشید نامی ایک شہری نے کہاکہ انہوںنے اس پل کی تعمیر کا معاملہ مقامی ممبراسمبلی سے بھی اٹھایالیکن انہوںنے بھی کوئی توجہ نہیں دی ۔ انہوںنے کہاکہ لیڈران صرف ووٹ لینے کے لئے آتے ہیں اور ان کو مقامی لوگوں کے مسائل کی کوئی پرواہ نہیں ۔ان کاکہناہے کہ جب دریا میں پانی بڑھ جاتاہے تو انہیں چار کلو میٹر دور سے ہو کر گھر پہنچناپڑتاہے ۔انہوںنے کہاکہ مقامی لیڈر چاہیں تو پل بنانا کونسا مشکل مسئلہ ہے لیکن وہ اس پر کوئی توجہ ہی نہیں دے رہے ۔رابطہ کرنے پر اے ای ای تعمیرات عامہ نے بتایا کہ پل سٹیٹ پلان میں ہے اور سٹیٹ پلان میں پیسہ کم آتا ہے ۔ تاہم انہوںنے کہاکہ اس کا پروجیکٹ دوبارہ بھیجاگیاہے اور فنڈز ملتے ہی کام دوبارہ شروع کردیاجائے گا۔