پوری دنیا وادی کشمیر کی خوبصورتی کو تسلیم کرتی ہے ۔اس بات میں کوئی شک نہیں کہ وادی کشمیر کا ذرہ ذرہ دلفریب اور دلنشیں ہے۔وادی کشمیر میں بہت سارے سیاحتی اور صحت افزاء مقامات ہیں بلکہ پوری وادی ایک صحت افزاء مقام ہے۔ان دلفریب اور دلنشیں مقامات میں سے اہرہ بل بھی ایک خوبصورت اور صحت افزاء مقام ہے ۔اہرہ بل دو الفاظ کا مرکب ہے اہرہ اور بل ۔اہرہ کے معنی خوف کے ہیں اور بل جگہ کو کہتے ہیں ،یعنی خوف کی جگہ۔اہرہ بل کو خوف کی جگہ اس لیے کہا جاتا یے کیوں کہ وہاں کا آبشار کافی خوفناک منظر پیش کرتا ہے کیونکہ یہ آبشار کافی بلندی سے گرتا ہے۔ اس آبشار کی لمبائی تقریباً 25 میٹر ہے اور چوڑائی 7 میٹر کے قریب ہے۔اس آبشار تک مین پارک سے 110پائدان اترنے پڑتے ہیں ۔اس آبشار کو کشمیر کا نائیجیریا واٹر فال بھی کہتے ہیں ۔ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر اس آبشار کو بجلی بنانے کے لیے استعمال کیا جائے تو اس سے 100 میگا واٹ بجلی پیدا کی جاسکتی ہے۔اہرہ بل آبشار کے ارد گرد دیوار بندی کی گئی ہے تاہم تھوڑی سی چوک اور لاپرواہی جان لیوا ہو سکتی ہے ۔کئی بار سیاح اس دیوار پار کر کے آبشار کے بہت قریب جاتے ہیں جس کی وجہ سے حادثات رونما ہوتے ہیں ۔لہٰذا اہرہ بل کی سیر کے دوران ہمیں کافی ہوشیاری اور عقلمندی کا مظاہرہ کرنا چاہیے اور بچوں کی حفاظت کا کچھ زیادہ ہی خیال رکھنا چاہئے ۔اہرہ بل سطح سمندر سے 2666 میٹر کی بلندی پر پیر پنچال کے پہاڑی سلسلے میں واقع ہے ۔یہ صحت افزا مقام ضلع کولگام میں نور آباد علاقے میں واقع ہے۔اہرہ بل کے بیچ و بیچ دریائے ویشو اپنے پورے جوش اور آب و تاب سے گزرتا ہے۔اہرہ بل پہنچ کر انسان دلفریب نظاروں میں کھو جاتا ہے ۔ہر طرف سے دیودار اور چیل کے درخت سیاحوں کے انتظار میں کھڑے نظر آتے ہیں، پہاڑوں کے بیچ سر سبزمیدان ہیں ۔جوں ہی انسان ان نظاروں میں کھونے لگتا ہے تو دریائے ویشو اپنے شور و غل سے سیاحوں کی توجہ اپنی جانب مبذول کراتا ہے اور اپنے وجودکا احساس دلاتا ہے۔اس دریا میں مچھیرے سرکار سے اجازت نامہ طلب کر کے مچھلیاں بھی پکڑتے ہیں۔ اہرہ بل کی دوسری جانب سے ضلع شوپیان شروع ہو جاتا ہے ۔ اہرہ بل کے ایک طرف ضلع کولگام ہے اور دوسری جانب ضلع شوپیان۔اہرہ بل میں پانی اس قدر صاف و شفاف ہے جیسے موتی۔ملک کے کونے کونے سے سیاح اہرہ بل کی سیر کو آتے ہیں اور قدرتی نظاروں سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔کنگوٹن کے مقام پر سیاحوں کے قیام کا بھی بند و بست ہے ۔جہاں پر سرکاری ہٹ تعمیر کئے گئے ہیں۔پہاڑوں کے بیچ و بیچ گنگ وٹن کا صاف و شفاف میدان اپنی دلکشی پیش کرتا ہے۔ان پہاڑیوں میں مختلف قسم کی جڑی بوٹیاں موجود ہیں، جن کے بہت سارے طبی فوائد ہیں ۔جگہ جگہ پر صاف و شفاف پانی کی نہریں نظر آتی ہیں ۔یوں مان لیجئے کہ ان خوبصورت نظاروں میں انسان کھو سا جاتا ہے۔اہرہ بل فوٹوگرافی کے لیے بھی بے حد موزوں بلکہ موزون ترین جگہ ہے ۔سیاح اہرہ بل آکر اپنے خوبصورت لمحات کیمرے میں قید کر کے لے جاتے یہ اور ان تصویروں کو یادوں کے جھروکے میں محفوظ کر لیتے ہیں۔شام کے وقت اہرہ بل کا منظر کچھ زیادہ ہی دلفریب نظر آتا ہے۔اکثر سیاح اپنے ماں باپ اور بیوی بچوں سمیت شام کے وقت اہرہ بل کی سیر کو ترجیح دیتے ہیں ۔کیونکہ شام کے وقت نظارہ قابل دید ہوتا ہے۔اہرہ بل کا شمار قومی سطح کے صحت افزاء مقامات میں ہو سکتا ہے شرط یہ ہے کہ چند باتوں کی طرف توجہ دی جائے ۔اہرہ بل میں اے ٹی ایم اور موبائل ٹاور کی کمی شدت سے محسوس کی جاتی ہے ۔انتظامیہ کو چاہیے کہ اہرہ بل میں ایک اے ٹی ایم نصب کرنے کے ساتھ ساتھ ایک موبائل ٹاور بھی بنایا جانا چاہئے تاکہ سیاحوں کو کوئی مشکل درپیش نہ آئے ۔آبشار تک پہنچنے کے لیے جو راستہ ہے اسے لوہے کی دیوار سے باندھا گیا ہے لیکن وہ دیوار مختلف جگہوں پر گر گئی ہے ،جس سے حادثات کا خطرہ بڑھ گیا ہے ۔انتظامیہ کو چاہیے کہ اس دیوار کو دوبارہ بنایا جائے تاکہ کسی خطرے کا احتمال نہ رہے۔اہرہ بل میں اگر چہ قمقمے نصب کر دیے گئے ہیں تاہم ان میں سے بیشتر قمقمے خراب ہو چکے ہیں جس کی وجہ سے شام کے وقت اہرہ بل کی خوبصورتی پھیکی پڑ جاتی ہے۔سیاحوں کو بھی چاہئےوہ کوڑا کرکٹ اِدھر اُدھر نہ پھینکیں بلکہ کوڑے دانوں کا استعمال کریں، اور اہرہ بل کو صاف رکھنے میں اپنا حق ادا کریں ۔ان چند باتوں کی طرف اگر توجہ دی جائے تو اہرہ بل کی شانہ رفتہ بحال ہونے میں دیر نہیں لگے گی۔