جموں//’پنی پارٹی‘ صدر سید الطاف بخاری نے کہا ہے کہ جس دن بھی انکی پارٹی کی سرکار آئے گی تو پہلا فیصلہ صدیوں پرانے دربار مو کو بحال کیا جائے گا۔ جموں میں پارٹی کی تقریب کے حاشیہ پر نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے الطاف بخاری نے کہا کہ جموں کو لے کر سب سے بڑا مدعا اس وقت دربار مو کا ہے اور یہ سمجھ سے بالاتر ہے کہ صدیوں پرانی اس روایت کو کیوں بند کیاگیا۔ انہوںنے کہاکہ دربار مو کی اہمیت ہم جانتے ہیں اور یہ کتنا ضروری ہے اوریہ جذباتی طور پر دونوںخطوں کو ملاتا تھا اور کوئی بھی اس کو ختم نہیں کرسکتا۔انہوںنے کہاکہ بدقسمتی سے جو لوگ اس وقت انتظامیہ چلارہے ہیں، وہ اس بات سے بے خبر ہے کہ اس(دربارمو) کی ہمارے لئے کتنی اہمیت ہے۔ الطاف بخاری نے الزام عائد کیاکہ اس مدے پر جموں کی لیڈرشپ مصلحت پسندی سے کام لے رہی ہے۔ جیو مارٹ کے بارے میں انہوںنے کہاکہ جموں تجارت کا مرکز تھا اور یہ سمجھ نہیں آرہا ہے کہ اسے کیوں آہستہ آہستہ پچھلے چند برسوں سے ختم کیاجارہاہے۔ انہوںنے کہاکہ جموں میں جو بڑی پارٹی تھی اور ملک میں جو اس وقت بڑی پارٹی ہے، ان کیلئے یہ ووٹ بینک تھا لیکن پھر بھی وہ ایسا کیوںکر رہے ہیں کہ جموں کی اہمیت ختم ہوجائے۔ بخاری نے کہاکہ’’ آپ دیکھ لیجئے کہ زمین پر مالکانہ حقوق (لینڈ رائٹس) کی بات ہے، ان کو کافی سارے لوگوں، سارے طبقوں ، تجارتی طبقے کو اُن کواس سے بھی باہر کیاگیا‘‘۔انہوںنے کہاکہ ہم سرینگر میں جو بات کرینگے وہی بات جموں میں کرینگے اور کشمیر اور جموں ہمارے لئے یکساں طور پر دونوں اہمیت کے حامل ہیں۔ نامہ نگاروں کی طرف سے مجموں کے تاجروں کے بڑے پیمانے پر احتجاج کی جو بات کی ہے، اس پر الطاف بخاری نے کہاکہ اپنی پارٹی نہیں چاہتی کہ امن و امان خراب ہو ، ٹریڈروں سے اپیل کرتا ہوںکہ وہ جو بھی کرینگے امن و امان کو برقراررکھیں، پر امن احتجاج کرنا ہمارا حق ہے۔