دانش کشمیری’ عالم تخیل میں‘ انداز غالب میں مزاحیہ کالم لکھنے والوں کی فہرست میں اوّل درجے پر فائز ہیں۔ ہر ہفتے ایک نئے موضوع کے ساتھ دانش کشمیری کشمیر عظمیٰ میں چھپتے تھے۔ ’’غالب بنام یمراز‘‘ کے عنوان سے انہوں نے جو کالم لکھا اس میں کشمیر میں ہورہے ظلم کی داستان بیان کی گئی ہے، فلسطین کے حالات کو لے کر معنوی غالب کادل پشیمان ہے، بغداد کے برق و بخارات پر اشکبار ہے ،چارسو ہلاکتوں کی یلغار سے اس کا دل افسردہ ہے۔ کالم سے یہ اقتباس ملاحظہ فرمائیں ’’شاید آپ بھی جانتے ہوں شوپیان شب روز کا خونی پیرہن ،پلوامہ کا درد کا کفن، حاجن و ہندواڑہ کانٹوں کی چبھن ،سرینگر بڈگام مظالم و مصائب کا گرہن، کپواڑہ و اسلام آباد بے چینی کی کھڑھن ،بارہ مولہ اور کھٹوعہ کے نصیب میں رنج و محسن ۔۔۔یہ خانہ خراب ،یہ ذرہ بے نشاں کس کس پر روئے ،خراماں نصیب فلسطین پر دل پشیماں ،بغداد کے برق و بخارات کے چمن یمن پر واویلا جاری ،اندوہ و دلگیر کشمیر پر مبتلائے غم ‘‘۔(روزنامہ کشمیر عظمیٰ ، 14مئی ،2018ء ، ص 7 )
عالم تخیل میں ’’غالب بنام فالتو کشمیری‘‘ نامی کالم میں کالم نگار نے میجر گگوئی کا خاکہ کھینچا جس میں حکومت ہند کا گگوئی کو انعامات سے نوازنے اور کشمیری لوگوں کے دلوں میں ان کے تئیں اظہار نفرت کو مخلوط سطح پر پیش کیا گیا ہے۔ ساتھ ہی یہاں کی علیحدگی پسند لیڈرشپ اور مین سڑیم جماعتوں کی کارکردگی کا حلیہ پیش کیا گیا ہے ۔عالم تخیل میں ’’غالب بنام صحیح الدماغ ‘‘کے عنوان سے دانش کشمیری نے جو کالم تخلیق کیا، اس کا مرکزی محور مرحوم شجاعت بخاری کا بہیمانہ قتل ہے جس میں کالم نگار نے یہ رونا رویا ہے کہ یہاں سچائی کی موت ہوتی ہے اور جو بھی انسان بے باک انداز میں حقیقت کو سامنے لانا چاہتا ہے ۔
لکھتے ہیں؛’’ استغفراللہ ایک مانا ہوا خیر ساز پل بھر میں خود خبر بن جاوے ،ایک منجا ہوا تجزیہ کار خود بحث و جدال کاعنوان ہوجائے یا الٰہی یہ ماجراکیا ہے ۔۔۔ سنو کاذب زما ں!صحیح الدماغ کہیں بنفس نفیس ملے، یا اس کی کہیں پرچھائیں دیکھو فوراً میرے پاس لے آنا کہنا چشم بد دور غالب کی آنکھیں دیدار کو ترس رہی ہیں۔‘‘(روزنامہ کشمیر عظمی ، 14 مئی ،2018ء ، ص 7)
دانش کشمیری ایک بے باک قلمکار ہیں جن کا قلم ہر گنہگار شخص کے لئے غالب کے کہے ہوئے ’’تیر نیم کش ‘‘کی مانند لذیذ تو نہیں بلکہ چبھنے والا ضرور ہوتاہے۔ ان کا تخیل خود میں ایک قیمت بے بہا سے کم نہیں جس کی پروازیں انتہائی بلند ہیں، جو ہر شخص پر چوٹ کرتی ہیں، مظلوموں کے دلوں کی دھڑکنیں ہیں ،بے سہاروں کا سہارا ہے اور راستے سے بھٹکے ہوئے لوگوں کی رہنمائی کرتے ہیں ۔ان کے یہاں اکثر عنوانات راج نیتی سے متعلق ہوتے ہیں۔ سماجی زندگی کا خاکہ بھی نفیس انداز میں کھینچنے کے ماہر ہیں۔ بعضے تعلیمی نظام کی غفلت شعاری پر وار کرتے ہوئے نظر آتے ہیں اور کبھی کبھار کشمیر کی سول انتظامیہ کا حلیہ بھی پیش کرتے ہیں ۔سیاسی موضوعات پر اپنے خیالات کا اظہار کرنا ان کا نہایت دلچسپ اور محبوب مشغلہ ہے۔
ہر ایک اتھل پتھل اور انارکی کی خبر رکھنے والا فہم و فراست کا مالک دانش کشمیری للن میاں کو کردار بناکر حالات حاضرہ کی جانکاری اپنے خوبصورت انداز میں قارئین تک اس طرح پہنچاتے ہیں؛ ’’ابھی ابھی للن میاں غریب خانے پر آیا… للن کا پیمانہ صبر یک بار لبریز ہوا ،کرخت لہجے میں بولا چچا آپ دنیا کے نویں عجوبہ، کچھ پتہ بھی ہے مودی کی شہنشاہی ، راج ناتھ کی مسکانیں ،محبوبہ مفتی کی جی حضوریاں کس اندھے موڑ کی نذر ہوئیں ؟ معلوم ہے مودی کے ابروئے چشم کے ایک اشارے سے ملک ِ کشمیر میں کیا کیا ہوا ؟صاحبہ کی حکمرانی قصہ پارینہ ہوئی، غلغلہ ختم شد دبدبہ کافور، نہ خدا ہی ملا نہ وصال صنم، دلی نے گھر کا رکھا نہ گھاٹ کا، وزارت و امارت بھولی بسری یاد ہوئی ۔۔۔ رام مادھو خم ٹھوک کر کہیں قلم دوات کو کنول کی جانب سے طلاق طلاق طلاق، ملی جلی سرکار خیال و محال و جنون، دوستی ختم، دشمنی شروع، قلمروئے کشمیر ووہرا کے سپرد اہل ِ کشمیر فوج کے حوالے اللہ اللہ خیر صلا !۔ــ‘‘( ’’غالب بنام انجان کشمیری ‘‘کشمیر عظمیٰ ، جون 30،2018، ص 7)
فکری اور ادبی سطح پر دانش کشمیری زرخیز ذہن کے مالک ہیں جن کی فکر و فہم کے دائرے کبھی بند نہیں ہو سکتے،جن کا لسانی برتائو ایک بہتے دریا کی مانند رواں ہے جو سیلابی صورت حال میں بھی موجوں کواپنی ہی قید میں مقید کر کے حالات سے بآسانی مقابلہ کرکے دریا کے کناروں کو محفوظ کرکے خود بھی ساحل پر آکر دریا کی روانی کا نظارہ کر کے راحت کی سانسیں لے کر قلم کو سنبھالتے ہوئے نئے تخلیقی سفر کی اور کمر بستہ ہو کر موضوعات کی تلاش میں نکل جاتا ہے۔ اس دوران اگر کسی سے ملاقات ہوئی تو اس کو بھی نہیں بخشتے بلکہ اپنے تخلیقی سفر کاسا تھی بنا کر ہی دم لیتے ہیں۔ کہہ سکتے ہیں کہ دانش کشمیری کی مزاحیہ نگاری ایک الگ انفراد کی مالک ہے۔ اس انفراد میں اگرچہ انداز غالب کو اپنایا جاتا ہے لیکن تخیل اور تخلیقی ابعاد دانش کاشامل ہے جس کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ قاری کبھی اکتاہٹ محسوس نہیں کرتا بلکہ بین السطور مطالعے پر آمادہ ہوجاتا ہے اور بعد مطالعہ خزانہ اطلاعات سے مالامال ہوجاتا ہے۔
( مقالہ نویس ڈگری کالج حاجن کے شعبہ اردو میں بحیثیت اسسٹنٹ پروفیسر تعینات ہیں)
ای میل ۔ [email protected]