شایدانسانوں کی فطرت میں ہے کہ وہ ہر آن دوسروں کے اعمال اور حرکات پر گہری نگاہ رکھتے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ ہر انسان ایک دوسرے کی غلطیوں کی نشاندہی کرنے میں سبقت لیتا پھر رہا ہے لیکن وہ اکثراپنے افعال و اعمال کے بارے میں بہت ہی کم سوچتا ہے ۔ حالانکہ دوسروں کی طرف ایک انگلی اٹھاتے وقت ہاتھ کی تین دیگراُنگلیاں اس کے اپنی طرف اشارہ کرتی ہیں لیکن اس کے باوجود وہ دوسروں کو ہی تنقید کا نشانہ بنانے اور دوسروں کی ہی عیب جوئی کرنے میں ہر آن متحرک رہتے ہوئے لذت محسوس کرتا ہے۔معاملے کا دلچسپ پہلو یہ ہے کہ ہر انسان دوسروں پر تنقید کرنا اپنا حق سمجھتا ہے اور وہ خود کو ہر عیب سے جیسے پاک تصور کرتا ہے۔ اس غلط فہمی کے عالم میں خود احتسابی کا ضروری عمل کوسوںدور ہوجاتا ہے۔حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ اگر ہر شخص اپنے اعمال پر نگاہ رکھے گا اور خود کی کمزوریاں تلاش کرنے لگے گا تو اُسے دوسرے افراد کئی طرح سے اپنے سے کہیں زیادہ بہتر نظر آئیں گے اوراُس پر یہ حقیقت آشکار ہوجائے گی کہ دوسرے لوگ اتنے خراب یا بُرے بھی نہیں ہیں جتنے اسے دکھائی دے رہے ہیں یا جتنا وہ اُنہیں قرار دیتا پھر رہا ہے۔ اس طرح ایک ایسا معاشرہ وجود میں آئے گا جو خود احتسابی پر یقین رکھتا ہوگا اورخود احتسابی ایک ایسی خوبی ہے جو سماج کو ہر برائی سے پاک کرنے میں فلٹر کا کام انجام دیتی ہے۔
دنیا کے بہت سارے مفکرین کا خیال ہے کہ ایک خاص حد تک خود احتسابی بھی ایک طرح سے فطری اور ان بلٹ خاصیت ہے تاہم تحت الشعور میں موجود ہونے کے سبب یہ کبھی کبھار ہی عملی صورت اختیار کرتی ہے یا انسان کے دماغ میںاحساس پیدا کرتی ہے۔ خود احتسابی کی ہی دین ہے کہ انسان کبھی کبھی اپنے گریباں میں جھانک کر دوسروں کو اُن کا صحیح مقام دینے کیلئے راضی ہوتا ہے۔اسی اعلیٰ خصلت کی وجہ سے ہی انسانی معاشرے میںصبر و تحمل اور عزت و احترام سے ایک دوسرے کی بات سننا اور حقائق کی بنیاد پر اُسے کلی یا جزوی طورتسلیم یا مسترد کر نے کی قدرے بہت ہی قلیل روایت قائم ہے۔ظاہر ہے کہ معاشرے میں خود احتسابی کاشعور جتنا مضبوط ہوگا معاشرے کے افراد کی آپسی مفاہمت بھی اُتنی ہی مضبوط ہوگی۔ خوداحتسابی کا اثر معاشرتی اداروں پر بھی پڑتا ہے اور آہستہ آہستہ سیاست اور حکمرانی و انتظامیہ کے ادارے بھی اس کے زیر اثر آجاتے ہیں۔ الغرض یہ کہ خود احتسابی پر عمل کرکے ہم ایک ایسا معاشرہ تشکیل دے سکتے ہیں جس میں معاشرے کا ہر رکن اپنی ذمہ داریوں کے بارے میں زیادہ سوچتا ہو، اور نتیجے کے طورایسے ادارے قائم ہوں گے جن کا مقصد واحد اجتماعی بھلائی کے سوا کچھ نہیں ہوگا۔اجتماعی بھلائی کے بارے میں فکر مند معاشرہ ہی اپنے افراد کی بھلائی کا سبب بنتا ہے۔بالفاظ دیگر جب معاشرے کا ہر فرد دوسرے کی فلاح و بہبود کے بارے میں سنجیدہ ہو تو انفرادی فلاح و بہبود خود بخود عمل میں آئے گی۔
کئی دہائیوں سے ہمارے یہاں کے عمومی معاشرے میں یہ تاثر قائم ہے کہ سیاست میں شامل لوگ خود غرض اور فریب کار ہوتے ہیں۔ہم سیاست دانوں کی ہر بات کا اُلٹا مطلب نکالنا اپنا حق سمجھتے ہیں کیونکہ ماضی اور حال میں ہمارے یہاںسیاست دانوں نے زیادہ تر اجتماعی مفاد کے بجائے انفرادی مفاد کوہی عزیز رکھا ہے، یا کم سے کم حقائق اور تنائج کی بنیاد پر اُن کے فیصلوں سے عام لوگوں کو ابھی تک یہی تاثر ملا ہے۔شاید یہ بھی ایک وجہ ہے کہ ہمارے یہاںعوامی حلقوں میں سیاسی شخصیات کے بارے میں اکثرمنفی باتیں کہی اور سنی جاتی ہیں۔ ہوسکتا ہے کہ سیاست میں موجودہر ایک شخصیت کے لئے یہ سچ نہ ہو ، لیکن ہماری یہاں کی مخصوص سیاسی نوعیت میں یہ تاثر عام لوگوں کے ذہنوں اور دلوں میں گھر کر چکا ہے کہ سیاستدانوں سے کسی اچھائی کی توقع ہی نہیں کی جاسکتی ہے۔
لیکن حقائق کی دنیا کو دیکھیں تو یہ تاثر بالکل غلط ثابت ہوتاہے۔ دنیا کے کسی بھی خطے کی تاریخ پر نظر ڈالنے سے یہ بات اظہر من الشمس ہوجاتی ہے کہ سیاست دانوں نے قوموں کی تقدیریں بگاڑی نہیں بلکہ اُنہیں سنوارکر تاریخ کے سنہرے باب قلم بند کئے ہیں۔ انہوں نے اپنے لوگوں کی تقدیر بدلنے کیلئے ایسے کام انجام دیئے ہیں اور امتحان و آزمائش کے اوقات ایسے فیصلے لئے ہیں جو سالہا سال گذر جانے کے باوجود ابھی تک دنیائے سیاست میں مشعل راہ بنے ہوئے ہیں۔
عوامی حلقوں کا سنیں توہمارے یہاں کے سیاست دان بار بار آزمائے جاچکے ہیں۔ انہوں نے ہر دور میں ایسے اقدامات کئے ہیں جن کا وہ بعد میں دفاع کرنے میں بھی ناکام رہے ہیں اور ایسایہاں ہر زمانے میں ہوتا رہا ہے۔شاید اسی بنا پر یہاں ایک ایسا عمومی فہم پیدا ہوا ہے کہ ہمارے سیاست دان اپنے لوگوں کی اجتماعی بہتری کے حق میںسوچ سے قاصر ہیں۔ ظاہر ہے کہ جب ایسی سوچ ہی مفقود ہو تو عمل بھی اس کے برعکس ہی ہوتا ہے۔ جموں کشمیر کی مخصوص صورتحال کے بیچ گذشتہ کچھ ایام سے ایک بار پھر ایک ایسی سیاسی فضا قائم ہورہی ہے یا پیدا کی جارہی ہے جس میں لگتا ہے کہ یہاں کے سیاست دانوں (مین اسٹریم) کو کافی اہم کردار ادا کرنے کا موقع ملنے والا ہے۔یہ صورتحال، جس کے بارے میں ابھی صرف باتیں ہی کی جارہی ہیں، ایک بار پھر ہماری مین اسٹریم سیاسی شخصیات کو موقع فراہم کرنے جارہی ہے کہ وہ اپنی گرتی ساکھ کو بحال کرکے عوام کی نظروں میں مزید گرنے سے بچنے کے اقدامات کریں۔ جموں وکشمیر کے موجودہ مشکل اوقات میں شاید انہیں (مین اسٹریم سیاستدانوں) عوام کیلئے اخلاص کا مظاہرہ کرنے کا موقع ملنے والا ہے۔اس موقعے کا فائدہ اٹھانے کیلئے اُنہیں اپنے اور اپنے پیشرئوں کے ماضی کا دیانتدارانہ احتساب کرنا ہوگا ،صرف اُسی صورت میں وہ حال کے اندر ایسے فیصلے لے سکتے ہیں جن سے بہتر مستقبل کی اُمید کی جاسکتی ہے۔بصورت دیگر عوامی حلقوں میں ان سیاست دانوں کے تئیں نفرت کا لاوا مزید پک جائے گا اور مذکورہ سیاسی شخصیات مٹھی بھر ابن الوقت افراد کا ہی مرکز نگاہ رہیں گے اور وہ اس شعر کی عملی صورت ہونگے ؎
اْمید کیا ہے سیاست کے پیشواؤں سے
یہ خاک باز ہیں، رکھتے ہیں خاک سے پیوند
ہمیشہ مور و مگس پر نگاہ ہے ان کی
جہاں میں ہے صفَتِ عنکبوت ان کی کمند
دانائے راز نے متذکرہ بالا دو اشعار میں یہ سمجھانے کی کوشش کی ہے کہ جن لوگوں نے روایتی سیاست کی پیشوائی سنبھال رکھی ہے ان سے کوئی امید وابستہ نہیں کی جا سکتی ہے؟ ان کے خیالات بھی پست ہیں اوریہ پستی ہی کو پسند کرتے ہیں۔ان کی نگاہ ہمیشہ چیونٹیوں اور مکھیوں پر رہتی ہے اور دنیا میں ان کی کمند مکڑی کے جالے کی سی ہے، یعنی بہت ہی کمزور اور ناقابل بھروسہ۔ علامہ کے بقول حقیقی سیاسی پیشوا وہی ہے جس کے خیالات نہایت پاکیزہ اور جذبہ بلند ہو۔
�������