تھنہ منڈی // ضلع راجوری کی کالا کوٹ تحصیل سے تعلق رکھنے والی خواتین نے انکے رشتہ داروں پر لگے پبلک سیفٹی ایکٹ کو کالعدم قرار دینے کے مطالبے کے ساتھ وزیر اعلیٰ کے قافلے کو روک کر انصاف کی دہائی لگائی ۔ سنیچر کے روز ریاستی وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی حضرت با با غلام شاہ بادشاہ کے سالانہ عرس کی تقریب میں شرکت کیلئے شاہدرہ آئیں جہاںانہوںنے جامع مسجد کا سنگ بنیاد بھی رکھا۔جب وزیر اعلیٰ کا قافلہ ٹورسٹ ریسپشن سنٹر شاہدرہ شریف سے واپس راجوری کی طرف جانے کیلئے شاہدرہ شریف بس اڈے کے قریب پہنچا تو کالا کوٹ کی کثیر تعداد میں مستورات نے قافلے کو روک لیا اور ایک عورت گاڑی کے آگے سڑک میں لیٹ گئی۔ تب وزیر اعلیٰ نے اس عورت کی بات بڑی سنجیدگی سے سنی اور ٹھوس اقدام کرنے کی یقین دہانی کرائی۔ اس دوران پولیس کو خاتون پولیس اہلکاروں کی مدد حاصل کرناپڑی ۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ مظفر اقبال ولد محمد رزاق سکنہ کنواں تحصیل کالا کوٹ،محمد غفور ولد ولی محمد سکنہ کھبلاں اور محمد خالق ولد خادم حسین راجدھانی تھنہ منڈی کے خلاف پولیس کی طرف سے راجوری کے مختلف پولیس تھانوں میں مویشی اسمگلنگ کے الزام میں کیس درج کئے گئے ہیں اورانہیںپبلک سیفٹی ایکٹ کے تحت جیل بھیج دیاگیاہے ۔ مظفر اقبال کی والدہ خالدہ بی بی نے ضلع انتظامیہ پر الزام عائد کرتے ہوئے کہاہے کہ ضلع انتظامیہ راجوری نے بے گناہ افراد کو بھی نہیںبخشا جو محنت مزدوری سے اپنی روزی روٹی کماتے ہیں ۔انہوںنے وزیر اعلیٰ سے مانگ کی کہ ان کیسوں کو کالعدم قرار دیاجائے ۔