ایجنسیز
دبئی//خلیجِ فارس میں تقریباً 2,000 جہاز ایک ماہ سے زائد عرصے سے پھنسے ہوئے ہیں، جن میں 20,000 سے زائد ملاح (سی فیئررز) موجود ہیں۔ عالمی بحری تنظیم کے مطابق آبنائے ہرمز سے گزرنے والی بحری آمدورفت میں شدید کمی آئی ہے، جس سے عالمی سپلائی چین متاثر ہو رہی ہے۔عام حالات میں دنیا کی تقریباً 20 فیصد تیل کی ترسیل آبنائے ہرمز کے ذریعے ہوتی ہے، اس کے علاوہ قدرتی گیس، کھاد اور دیگر اہم سامان بھی اسی راستے سے گزرتا ہے۔فی الحال اس اہم بحری راستے پر معمول کی بحالی غیر یقینی ہے۔کئی جہازوں پر تازہ سبزیاں اور پینے کا پانی ختم ہو رہا ہے۔ملاح سوشل میڈیا اور بحری ریڈیو کے ذریعے ایک دوسرے سے بقا کے طریقے شیئر کر رہے ہیں۔ کچھ چینی ملاح ایئر کنڈیشنر سے نکلنے والے پانی کو نہانے اور کپڑے دھونے کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔ کئی افراد مچھلیاں پکڑ کر گزارہ کر رہے ہیں، جن میں ٹونا، اسکویڈ اور دیگر مچھلیاں شامل ہیں۔ضروری سامان کی فراہمی نہ صرف مشکل بلکہ انتہائی مہنگی ہو گئی ہے۔متحدہ عرب امارات کی فجیرہ بندرگاہ، جو سپلائی کا اہم مرکز ہے، بار بار حملوں کا نشانہ بنی۔ اشیاء کی قیمتیں بہت بڑھ گئی ہیں۔ آم تقریباً 31 ڈالر فی کلو، مالٹے تقریباً 15 ڈالر (تقریباً تین عدد)،ملاحوں کی تبدیلی یا واپسی ایک بڑا مسئلہ بن گئی ہے۔دبئی سمیت اہم ٹرانزٹ مقامات کے لیے پروازیں محدود اور مہنگی ہیں۔ٹرانسپورٹ ورکرس انٹرنیشنل فیڈریشن کو تقریباً 1,000 امدادی درخواستیں موصول ہو چکی ہیں۔ تقریباً 200 ملاحوں نے وطن واپسی کے لیے مدد مانگی ہے۔ آدھے سے زیادہ شکایات تنخواہوں اور معاہدوں سے متعلق ہیں۔خلیجِ فارس اور آبنائے ہرمز میں جاری بحران نے نہ صرف عالمی تجارت کو متاثر کیا ہے بلکہ ہزاروں ملاحوں کو انسانی بحران کا سامنا بھی ہے، جہاں خوراک، پانی اور بنیادی سہولیات کی شدید کمی ہو رہی ہے۔