معاشرتی بے حسی اور انتظامی غفلت نے صورتحال کو نازک بنا دیا،فوری اور ٹھوس اقدامات کرنیکا مطالبہ
محتشم احتشام
پونچھ // تحصیل سرنکوٹ کے دیہی علاقے گاؤں مڑہ میں گزشتہ کئی ہفتوں سے پانی کی شدید قلت نے مقامی آبادی کی روزمرہ زندگی کو مفلوج کر کے رکھ دیا ہے۔ شکستہ، بوسیدہ اور جگہ جگہ سے ٹوٹی ہوئی پائپ لائنوں نے پانی کی ترسیل کے پورے نظام کو تباہی کے دہانے پر پہنچا دیا ہے، جس کے باعث گھروں تک پانی پہنچنے سے پہلے ہی بڑی مقدار میں ضائع ہو رہا ہے۔ اس سنگین صورتحال نے نہ صرف معاشرتی بے چینی کو جنم دیا ہے بلکہ عوام کے صبر کا پیمانہ بھی لبریز ہو چکا ہے۔اہلِ علاقہ کے مطابق محلہ محلہ، گلی گلی پانی کی تلاش میں خواتین، بزرگ اور بچے صبح سویرے اور شام کے اوقات میں قطاریں لگانے پر مجبور ہیں۔ کئی گھرانوں کو میلوں دور سے پانی بھر کر لانا پڑتا ہے، جس سے نہ صرف قیمتی وقت ضائع ہوتا ہے بلکہ روزگار اور تعلیم پر بھی براہِ راست منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ لوگوں نے بتایا کہ جب بھی پانی سپلائی کھولی جاتی ہے تو پائپ لائنوں میں موجود دراڑوں اور بڑے سراخوں سے پانی بے تحاشا بہہ کر ضائع ہو جاتا ہے، جبکہ گھروں تک چند قطرے بھی پہنچنا مشکل ہو جاتا ہے۔مقامی باشندوں نے اس صورتحال کو عوامی صحت کے لئے ’سنجیدہ خطرہ‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ٹوٹی پھوٹی اور کھلی پائپ لائنوں سے آلودگی کی ملاوٹ کا اندیشہ بڑھ گیا ہے، جس سے پانی سے پیدا ہونے والی بیماریوں خصوصاً دست، اسہال اور جلدی امراض کے پھیلنے کے امکانات تشویشناک حد تک بڑھ چکے ہیں۔ کئی خاندانوں نے بتایا کہ حال ہی میں بچوں اور بزرگوں میں پیٹ کی بیماریوں کے کیسز سامنے آئے ہیں جن کا براہ راست تعلق آلودہ پانی سے جوڑا جا رہا ہے۔علاقہ مکینوں کا کہنا ہے کہ پچھلے کئی مہینوں سے وہ انتظامیہ، محکمہ جل شکتی اور منتخب نمائندگان کو بارہا درخواستیں، یاد دہانیاں اور تحریری اپیلیں بھی پہنچا چکے ہیں تاہم افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ اب تک کوئی موثر یا عملی قدم سامنے نہیں آیا۔ اہلِ علاقہ نے یہ بھی انکشاف کیا کہ متعدد بار محکمانہ ٹیموں نے رسمی معائنہ تو کیا، مگر پائپ لائن کی مکمل مرمت، تبدیلی اور جدید نظامِ آب رسانی کی تعمیر کے منصوبے محض کاغذوں تک محدود ہیں۔گاؤں والوں نے مطالبہ کیا ہے کہ ٹوٹی ہوئی پائپ لائنوں کی ہنگامی بنیادوں پر تبدیلی کی جائے، پانی کے ضیاع کو روکنے کیلئے مؤثر حفاظتی اقدامات کئے جائیں، اور ایک قابلِ اعتماد و باقاعدہ پانی سپلائی شیڈول جاری کیا جائے تاکہ عوام کو کچھ ریلیف مل سکے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ مڑہ کی موجودہ صورتحال سرنکوٹ کے دیگر دیہی علاقوں کی مجموعی حالت زار کی عکاسی کرتی ہے، جہاں بنیادی سہولیات کی کمی اور انتظامیہ کی عدم دلچسپی نے عوامی مشکلات میں بے پناہ اضافہ کیا ہے۔ اہلِ علاقہ نے ضلع انتظامیہ، جل شکتی محکمہ اور عوامی نمائندگان سے فوری مداخلت کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ پانی جیسی بنیادی ضرورت کو سڑک، بجلی اور صحت کی سہولیات کی طرح اولین ترجیح دی جائے۔انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ یہ مسئلہ اب صرف پانی کی کمی نہیں، بلکہ محکوم عوام کی بے بسی کی صدا ہے، جسے فوری سننے اور حل کرنے کی ضرورت ہے، تاکہ مڑہ اور اس کے آس پاس کے علاقوں کے لوگ اس انسانی بحران سے نجات پا سکیں۔