عظمیٰ نیوز سروس
نئی دہلی// بھارت کے خارجہ سیکریٹری وکرم مسری نے جمعرات کے روز حکومت ہند کی جانب سے ایران کے سابق سپریم لیڈر علی خامنہ ای کے لیے تعزیتی کتاب پر دستخط کیے۔ چھیاسی سالہ علی خامنہ ای جو اسلامی جمہوریہ ایران کے سابق سپریم لیڈر تھے سن 1989 سے ملک کی قیادت کر رہے تھے اور ہفتہ کی علی الصبح امریکہ اور اسرائیل کی مشترکہ فوجی کارروائی میں مارے گئے۔ وکرم مسری کا یہ اقدام خامنہ ای کی موت پر بھارت کے ابتدائی ردعمل کے طور پر سامنے آیا۔مشرق وسطیٰ میں تنازع شروع ہونے کے بعد سے بھارت نے خاموشی اختیار کر رکھی ہے اور اس سلسلے میں کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا۔
بھارت نے صرف یہ اپیل کی ہے کہ تمام فریق فوری طور پر کشیدگی کم کریں۔ علی خامنہ ای کی موت پر بھی بھارت نے براہ راست کوئی سخت ردعمل ظاہر نہیں کیا اور ان ممالک کی فہرست میں شامل نہیں ہوا جنہوں نے امریکہ اور اسرائیل کی کارروائی کو بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔خامنہ ای کی موت پر دنیا کے مختلف ممالک کی جانب سے سخت ردعمل سامنے آیا۔ اسرائیل نے اس فوجی کارروائی پر اپنی فوج کو مبارک باد دی جبکہ روس اور چین نے اس اقدام کی شدید مذمت کی۔ دونوں ممالک نے ان فضائی حملوں کو بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی قرار دیا۔