عظمیٰ نیوز سروس
سرینگر//کرائم برانچ کشمیر نے تقرری فراڈ کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے دو ملزمان کے خلاف چارج شیٹ دائر کی ہے۔ دونوں پر الزام ہے کہ انہوں نے ایک خاتون امیدوار کومحکمہ زراعت میں ملازمت کے جعلی تقرری آرڈر کے ذریعے دھوکہ دیا۔حکام کے مطابق چارج شیٹ چاڈورہ، بڈگام کی عدالت مجسٹریٹ فرسٹ کلاس میں پیش کی گئی، جس میں ایف آئی آرنمبر 43/2021 کے تحت آئی پی سی کی دفعات 420، 511، 467، 468، 471 اور 120-B شامل ہیں۔ ملزمان کی شناخت شوکت احمد حجام ولد محمد اکبر حجام، واگورہ، تحصیل چاڈورہ اورارشد احمد اہنگر ولد غلام محمد آہنگر، رتنی پورہ پلوامہ کے طور پر کی گئی ہے۔ترجمان کے مطابق کیس اس وقت سامنے آیا جب محکمہ زراعت کے ڈپٹی ڈائریکٹر نے رپورٹ کی کہ ایک خاتون نے جعلی اور غیر قانونی تقرری آرڈر کی بنیاد پر ڈیپارٹمنٹ میں شمولیت کی کوشش کی۔ تحقیقات میں یہ واضح ہوا کہ 30 نومبر 2019 کو خاتون نے جعلی خط کی فوٹو کاپی پیش کی، جس میں ذکر شدہ آرڈرز بھی جعلی تھے۔مزید تفتیش میں معلوم ہوا کہ ارشد احمد اہنگر نے یہ جعلی خط شوکت احمد حجام سے حاصل کیا۔ اس جعلی آرڈر کی بنیاد پر خاتون کو دھوکہ دیا گیا اور اس نے یقین کیا کہ وہ قانونی طور پر ملازمت پا گئی ہے، جس کے نتیجے میں اس نے ڈیپارٹمنٹ میں شمولیت کی کوشش کی۔تحقیقات سے یہ بھی پتہ چلا کہ دونوں ملزمان نے سرکاری ملازمت کے امیدواروں کو دھوکہ دینے کے لیے جعلی آرڈرز تیار کرنے اور استعمال کرنے کی سازش کی تھی۔ اگرچہ کسی مالی فائدے یا نقصان کا ثبوت نہیں ملا، لیکن یہ اقدام دھوکہ دینے کی کوشش کے زمرے میں آتا ہے، جو آئی پی سی کی دفعہ 511 کے تحت آتا ہے۔تحقیقات مکمل ہونے کے بعد، چارج شیٹ عدالت میں فیصلہ سازی کے لیے پیش کی گئی ہے۔