عظمیٰ نیوز سروس
نئی دہلی// لوک سبھا کی کارروائی پیر کے روز ایک بار پھر ہنگامے کی نذر ہوتی دکھائی دی۔ ایوان کی کارروائی شروع ہوتے ہی کانگریس سمیت اپوزیشن جماعتوں کے ارکان نے شور شرابہ شروع کر دیا اور مطالبہ کیا کہ قائد حزب اختلاف راہل گاندھی کو ایوان میں بولنے کی اجازت دی جائے۔ اپوزیشن ارکان کا کہنا تھا کہ جب تک راہل گاندھی کو اظہار خیال کا موقع نہیں دیا جائے گا، وہ ایوان کی کارروائی چلنے نہیں دیں گے۔اسپیکر اوم برلا نے اس مطالبے کو قواعد کے منافی قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایوان کی کارروائی طے شدہ اصولوں اور ضوابط کے مطابق چلتی ہے اور اسی طریقے سے چلائی جائے گی۔ انہوں نے ارکان سے کہا کہ پہلے سوالیہ وقفہ مکمل ہونے دیا جائے، اس کے بعد ضابطوں کے تحت بحث کی جا سکتی ہے۔ تاہم اپوزیشن ارکان نعرے بازی کرتے ہوئے ایوان کے بیچ میں آ گئے، جس کے بعد کارروائی شروع ہونے کے پانچ منٹ کے اندر ہی دوپہر بارہ بجے ملتوی کر دی گئی۔پیر کو لوک سبھا میں کوئی قانون سازی کا کام نہیں ہواپارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں پیر کو مرکزی بجٹ 2026-27 پر بحث جاری رہنے والی تھی۔اسی دوران اپوزیشن لوک سبھا کے اسپیکر اوم برلا کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک لانے کی تیاری کر رہی ہے۔ اگر ایسا ہوتا ہے تو بجٹ اجلاس کے آئندہ دنوں میں بھی ایوان میں کشیدگی برقرار رہنے کے امکانات ہیں۔لوک سبھا میں گزشتہ کئی دنوں سے سابق فوجی سربراہ ایم ایم نروَنے کے ایک غیر مطبوعہ یادداشت اور دیگر امور کو لے کر تعطل جاری ہے۔ کانگریس اور دیگر اپوزیشن جماعتیں صدر کے خطاب پر شکریہ کی تحریک پر بحث کے دوران راہل گاندھی کو چین سے کشیدگی کے معاملے پر اظہار خیال کی اجازت نہ ملنے پر اعتراض جتا رہی ہیں۔ اس کے علاوہ اپوزیشن کے آٹھ ارکان کی معطلی کے معاملے کو بھی موضوع بنایا جا رہا ہے۔لوک سبھا اسپیکر کے خلاف تحریک عدم اعتماد لانے کا فیصلہ اپوزیشن کے اس الزام کے بعد کیا گیا کہ صدر کے خطاب پر شکریہ کی تحریک پر بحث کے دوران لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر اور کانگریس کے رکن پارلیمنٹ راہل گاندھی کو ایوان میں بولنے کی اجازت نہیں دی گئی۔ پچھلے ہفتے، پارلیمنٹ کے ایوان زیریں میں شور اور ہنگامہ دیکھنے میں آیا۔ پانچ فروری کو، اسپیکر برلا نے کہا کہ انہوں نے وزیر اعظم نریندر مودی سے درخواست کی تھی کہ وہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بچنے کے لیے ایوان میں نہ آئیں، کیونکہ انہیں یہ اطلاع ملی تھی کہ کانگریس کے کچھ ارکان پارلیمنٹ ایوان میں وزیر اعظم مودی کی سیٹ تک پہنچ سکتے ہیں اور “ایسا واقعہ پیش آسکتا ہے جو پہلے کبھی نہیں ہوا۔”