محتشم احتشام
پونچھ//ضلع پونچھ کی تحصیل منڈی کے سرحدی اور پہاڑی علاقے میں لائن آف کنٹرول کی زیرو لائن کے قریب واقع معروف روحانی مرکز سنکھ ڈوڈہ میں حضرت ڈوڈہ پیر رحمتہ اللہ علیہ کا سالانہ عرس نہایت عقیدت، احترام اور روحانی جوش و خروش کے ساتھ اختتام پذیر ہوگیا۔ عرس کے آخری روز ہزاروں عقیدت مندوں نے درگاہ عالیہ پر حاضری دے کر فاتحہ خوانی کی، نذرانہ عقیدت پیش کیا اور ملک میں امن، ترقی، استحکام اور بین المذاہب ہم آہنگی کے لیے خصوصی دعائیں مانگیں۔پیر پنجال کے بلند و بالا پہاڑی سلسلوں کے درمیان واقع یہ تاریخی زیارت گاہ صدیوں سے عقیدت مندوں کی توجہ کا مرکز رہی ہے۔ حضرت ڈوڈہ پیر کا سالانہ عرس خطہ پیر پنجال کی اہم ترین مذہبی اور روحانی تقریبات میں شمار کیا جاتا ہے، جس میں جموں و کشمیر کے مختلف اضلاع کے علاوہ ملک کے دیگر حصوں سے بھی بڑی تعداد میں زائرین شرکت کرتے ہیں۔
اس سال بھی عرس کے موقع پر عقیدت مندوں کا غیر معمولی ہجوم دیکھنے میں آیا اور پورا علاقہ ذکر و اذکار، دعائوں اور روحانی ماحول سے معطر رہا۔عرس کے دوران ضلع انتظامیہ، جموں و کشمیر پولیس، بھارتی فوج اور دیگر متعلقہ محکموں نے زائرین کی سہولت اور سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے وسیع پیمانے پر انتظامات کیے۔ مختلف مقامات پر سہولت مراکز قائم کیے گئے جبکہ سیکورٹی کے سخت انتظامات کے تحت پورے علاقے کی مسلسل نگرانی کی جاتی رہی۔ فوج نے جدید ڈرون ٹیکنالوجی کے ذریعے بھی نگرانی کا اہتمام کیا اور زائرین کی آمد و رفت کو منظم رکھنے میں اہم کردار ادا کیا۔ بزرگوں، خواتین اور بچوں کے لیے خصوصی سہولیات فراہم کی گئیں جس پر زائرین نے اطمینان کا اظہار کیا۔عرس میں شریک عقیدت مندوں نے انتظامیہ، پولیس، فوج اور دیگر اداروں کی جانب سے کیے گئے انتظامات کو سراہتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا کہ سنکھ ڈوڈا کی اس تاریخی اور روحانی زیارت گاہ کو مذہبی و سیاحتی مرکز کے طور پر مزید فروغ دیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ بہتر سڑک رابطوں، قیام و طعام کی سہولیات، صاف پانی، طبی مراکز اور دیگر بنیادی ڈھانچے کی فراہمی سے نہ صرف زائرین کو آسانیاں میسر آئیں گی بلکہ مقامی معیشت کو بھی تقویت ملے گی اور نوجوانوں کے لیے روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔عرس کی تمام تقریبات خوش اسلوبی، مثالی نظم و ضبط اور پْرامن ماحول میں اختتام پذیر ہوئیں۔ زائرین روحانی سکون، قلبی اطمینان اور حضرت ڈوڈہ پیر کی تعلیمات سے نئی وابستگی کے احساس کے ساتھ اپنے اپنے گھروں کو روانہ ہوئے، جبکہ سنکھ ڈوڈہ ایک بار پھر عقیدت، اخوت اور روحانی یکجہتی کی علامت بن کر ابھرا۔