عظمیٰ نیوز سروس
راجوری //راجوری ضلع کے منجاکوٹ سیکٹر میں جاری انسدادِ ملی ٹینسی مہم ’آپریشن شیروالی‘ پیر کو 31ویں روز میں داخل ہوگئی، جبکہ سیکورٹی فورسز نے علاقے کے گھنے جنگلات اور دشوار گزار پہاڑی علاقوں میں تلاشی اور نگرانی کی کارروائیوں میں مزید شدت لائی ہے۔سرکاری ذرائع کے مطابقدھوری مہل مغلاں علاقے میں جاری اس بڑے پیمانے کے مشترکہ آپریشن میں فوج، جموں و کشمیر پولیس اور مختلف نیم فوجی دستے حصہ لے رہے ہیں۔ آپریشن کا مقصد علاقے میں موجود مبینہ دراندازوں اور مسلح جنگجوؤں کا سراغ لگا کر انہیں بے اثر بنانا ہے۔
حکام نے بتایا کہ مئی کے اواخر میں شروع کی گئی اس کارروائی کے دوران سیکورٹی فورسز مسلسل جنگلاتی پٹیوں، پہاڑی ڈھلوانوں اور دیگر حساس مقامات کی تلاشی لے رہی ہیں۔ فورسز کو علاقے میں کسی بھی مشتبہ نقل و حرکت پر گہری نظر رکھنے کی ہدایت دی گئی ہے اور نگرانی کے نظام کو مزید مؤثر بنایا گیا ہے۔سیکورٹی حکام کے مطابق آپریشن منصوبہ بندی کے مطابق آگے بڑھ رہا ہے اور تمام متعلقہ ایجنسیاں مکمل طور پر چوکس ہیں۔ انہوں نے کہا کہ علاقے میں امن و امان برقرار رکھنے اور مقامی آبادی کے تحفظ کو یقینی بنانے کیلئے اضافی چوکیاں قائم کی گئی ہیں جبکہ ایریا ڈومینیشن گشت کا سلسلہ بھی جاری ہے۔حکام کا کہنا ہے کہ سرحدی ضلع راجوری میں امن کے قیام اورملی ٹینٹ سرگرمیوں کی روک تھام کیلئے سیکورٹی فورسز پرعزم ہیں اور آپریشن اس وقت تک جاری رہے گا جب تک تمام ممکنہ خطرات کا مکمل طور پر خاتمہ نہیں ہو جاتا۔ادھر انتظامیہ نے مقامی لوگوں سے اپیل کی ہے کہ وہ کسی بھی مشتبہ سرگرمی یا نقل و حرکت کی فوری اطلاع سیکورٹی ایجنسیوں کو دیں اور امن و سلامتی برقرار رکھنے کیلئے حکام کے ساتھ مکمل تعاون کریں۔قابل ذکر ہے کہ حالیہ عرصے کے دوران راجوری اور اس سے ملحقہ پہاڑی علاقوں میں سیکورٹی سرگرمیوں میں اضافہ دیکھا گیا ہے، جس کے پیش نظر فورسز حساس مقامات پر مسلسل سرچ اور سرویلنس آپریشنز انجام دے رہی ہیں۔