حجِ بیت اللہ پانچ ارکانِ اسلام میں ایک اہم رکن ہے۔یہ ایک روحانی سفر سے عبارت ہے، اس سفر کا ہر مرحلہ مومن کے لئے گرانقدر ہے۔یہ تصور کس قدر وجد آفریں ہے کہ
اس ذات پاک کے گھر کی زیارت میسر ہوتی ہے جو مکانیات سے منزہ و پاک ہے، حبیب خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے روضہ شریف کا دیدار میسر آتا ہے جن سے اک چھوٹی سی نسبت بھی خوابیدہ نصیبوں کو جگا جاتی ہے۔
فرخا شہری کہ تو بودی در آن
ای خنک خاکی کہ آسودی در آن (اقبالؒ )
یعنی کتنا مبارک ہے وہ شہر جس میں آپﷺ تشریف فرما ہیں۔کتنی عظیم ہے وہ خاک جس میں آپﷺ آرام فرما ہیں۔
بیت اللہ اللہ تعلیٰ کا سب سے قدیم گھر ہے جو فرزندانِ توحید کے دلوں کو اپنی طرف کھینچنے والا ہے چاہے وہ دنیا کے کسی بھی کونے میں ہوں۔
اِنَّ اَوَّلَ بَیتٍ وُّضِعَ لِلنَّاسِ لَلَّذِی بِبَکَّۃَ مُبٰرَکًا وَّ ہُدًی لِّلعٰلَمِینَ۔
ترجمہ:بیشک سب سے پہلا گھر جو لوگوں ( کی عبادت ) کے لئے بنایا گیا وہی ہے جو مکہّ میں ہے ، برکت والا ہے اور سارے جہان والوں کے لئے ( مرکزِ ) ہدایت ہے ۔
دل اور پیشانیاں روزانہ پانچ مرتبہ ایک اور اکیلے معبود کی خاطر خشوع و خضوع کے ساتھ ، مطیع و فرمانبردار ہوکر اسی کی طرف متوجہ ہوتے ہیں۔دنیا کے تمام دوردراز راستوں سے مسلمان خانۂ کعبہ کی طرف وفد در وفد آتے ہیں ، مناسکِ حج ادا کرتے ہیں ، کعبہ کا طواف کرتے ہیں اور خدائے لم یزل کے دربار میں حاضر ہوتے ہیں۔
دنیا بھر کے ملکوں سے ایک ہی مرکزکی طرف لاکھوں فرزندان توحید کھنچے چلے آتے ہیں۔
کہ کعبہ کی تعمیر کے وقت رب ذوالجلال نے اپنے خلیل حضرت ابراہیم ؑ کو حکم فرمایا تھا:
وَ اَذِّن فِی النَّاسِ بِالحَجِّ یَاتُوکَ رِجَالًا وَّ عَلٰی کُلِّ ضَامِرٍ یَّاتِینَ مِن کُلِّ فَجٍّ عَمِیقٍ۔
ترجمہ:اور تم لوگوں میں حج کا بلند آواز سے اعلان کرو وہ تمہارے پاس پیدل اور تمام دبلے اونٹوں پر ( سوار ) حاضر ہو جائیں گے جو دور دراز کے راستوں سے آتے ہیں۔
شکلیں اور صورتیں مختلف ہیں، رنگ مختلف ہیں ، زبانیں مختلف ہیں، لیکن ایک ہی لباس ، ایک ہی اطاعت و بندگی کا نشان ان سب پر لگا ہوا ہے، سب بیک زبان لبیک اللھم لبیک، لبیک لا شریک لک لبیک پکار رہے ہوتے ہیں، یہاں زبانوں ، قوموں، وطنوں اور نسلوں کا اختلاف مٹ جاتا ہے۔
حج ایک کیفیت اورجذب و جنوں کا نام ہے۔ حج میں انسان کو سوچ اور فکر و آگہی کے ان مراحل سے گزرنا پڑتا ہے کہ انسان سوچتا ہے کہ طویل مسافتیں طے کرکے اور مشقتیں برداشت کرکے اطراف عالم کے مسلمانوں کو ایک مقام پر جمع کرنے میں آخر کیا راز پنہاں ہے۔سب لوگوں کا اپنا روایتی لباس اتار کر دو چادریں پہنا دینے میں کیا مصلحت ہے، آخر اس میں کیا حکمت ہے کہ لاکھوں انسان دیوانہ وار پتھر کی ایک عمارت کے گرد چکر کاٹ رہے ہیں، دو پہاڑیوں کے درمیان دوڑ رہے ہیں، ایک خاص دن اور تاریخ کو ایک خاص مقام پر پورا شہر آباد ہوتا ہے اور شام کو اجڑ جاتا ہے، لاکھوں لوگ پتھروں کے علامتی ستون پر کنکریاں برسارہے ہیں، ایک خاص مقام پر ایک ہی دن لاکھوں لوگ جمع ہوکر لاکھوں جانوروں کی قربانی پیش کرتے ہیں ، آخر کیوں؟ یہ سارے انداز یہ بتاتے ہیں کی حج اللہ کی بندگی اور اس کی بے پناہ محبت میںخود کو گُم کرنے اور اللہ کے پیاروں کی کچھ اداؤں اور وفاؤں کی نقل اتارنے کا نام ہے ، یہ سب کچھ حضرت ابراہیم علیہ السلام ، ان کے صاحبزادے حضرت اسماعیل علیہ السلام اور ان کی اہلیہ حضرت ہاجرہ رضی اللہ عنھا کی اداؤں کو اپنانے کا نام ہے۔اسلام کی کامل روح تو یہ ہے کہ انسان کی زندگی مجسم عبادت بن جائے، اس کی چال ڈھال ، رفتار و گفتار ، نشست و برخاست ، انفرادی و اجتماعی معاملات ، حتیٰ کہ ہر شعبۂ زندگی اور ہر لمحۂ حیات میں اللہ کی مکمل بندگی اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی کامل اطاعت کی جھلک نظر آئے اور اسی مقصد کے حصول کیلئے حج عبادت و اطاعت کاایک (Complete Package)ہے۔ قُل اِنَّ صَلاَتِی وَ نُسُکِی وَ مَحیَا یَ وَ مَمَاتِی ﷲِرَبِّ العٰلَمِین۔ (المائدہ/162) ترجمہ: فرما دیجئے کہ بیشک میری نماز، میری عبادت اور میرا جینا مرناسب کچھ اللہ کےلئے ہے جو تمام جہانوں کا پروردگار ہے۔حج فی الواقع بہت بڑی عبادت ہے اور بہت سی عبادات کی جامع! حج میں ہجرت کا رنگ بھی شامل ہے اور جہاد کا اسلوب بھی۔اس میں ذکر و دعا بھی ہے اور رکوع و سجود بھی۔ مزدلفہ کی رات کی خاموش عبادت بھی اور لاکھوں کے مجمع میں یومِ عرفہ کا خطبہ بھی۔احرام کی کفن نما پوشش بھی ہے اور عید کا خوش آئند لباس بھی۔ وہاں آنسوؤں کی جھڑیاں بھی ہیں اور مسکراہٹوں کی کلیوں کی لڑیاں بھی۔آدمی تھوڑی دیر کے لئے تارکِ دنیا بھی ہو جاتا ہے اور پھر نئی شخصیت کے ساتھ فاتحانہ شان سے دنیا کے دروازے پر دستک بھی دیتا ہے۔بے شمار قبیلے اس کے اپنے بن جاتے ہیں ، کتنے ممالک اسے اپنے ملک لگنے لگتے ہیں، مختلف بولیوں میں وہ ایک ہی جیسے معانی جھلملاتے دیکھتا ہے۔ عصبیتوں اور محدود قومیت کے تالاب سے آگے بڑھ کر وحدت کے ایک سمندر
میں شامل ہوجاتا ہے۔حرم کی سرزمین پر پہنچ کر زائرِ حرم قدم قدم پر ان لوگوں کے آثار دیکھتا ہے جنہوں نے اللہ کی بندگی و اطاعت میں بہت کچھ قربان کر دیا تھا۔ دنیا بھر سے لڑے، مصیبتیں اٹھائیں، جلا وطن ہوئے، ظلم سہے مگر بالآخر اللہ کا کلمہ بلند کرکے چھوڑا اور انسان سے اللہ کے سوا کسی اور کی بندگی کرانے والے ہر باطل کا سر نیچا کرکے ہی دم لیا۔
حج میں وقت کی قربانی ہے، مال کی قربانی ہے، آرام و آسائش کی قربانی، بہت سے دنیاوی تعلقات کی قربانی ہے، بہت سی نفسانی خواہشوں اور لذتوں کی قربانی ہے اور یہ سب کچھ اللہ کی خاطر ہے، کوئی ذاتی غرض اس میں شامل نہیں ہے، پھر اس سفر میں تقویٰ و پرہیزگاری کے ساتھ مسلسل خدا کی یاد اور خدا کی طرف شوق و عشق کی جو کیفیت آدمی پر گزرتی ہے وہ اپنا ایک مستقل نقش دل پر چھوڑ جاتی ہے جس کا اثر برسوں قائم رہتا ہے۔ اسلام یہ چاہتا ہے کہ حج مومن کی زندگی میں تبدیلی لائے بلکہ چاہئے کہ یہ ایک فیصلہ کن موڑ (Turning Point)بن جائے ، گناہوں کو ترک کرکے پاکیزہ زندگی گزارنے کا نقطۂ آغاز ہو، بندہ اپنے رب سے شعوری طور پر ایک عہد و پیمان اور تجدید وفا کا عزم کرکے،صرف سلا ہوا لباس ہی نہ اتارے بلکہ وہ لباسِ معصیت جس میں سر تا پا جکڑا ہوا ہے اسے بھی اتار پھینکے۔بقول حضرت حسن بصریؒ: حجِ مبرور دنیا سے بے رغبت لوٹنے اورفکر آخرت پیدا کرنے کا نام ہے۔حج بندے کی زندگی میں تبدیلی لے کر آئے اور اسے رضائے الٰہی کے انعام سے سرفراز فرمائے ۔