اختر معراج
کچھ روز پہلے کی بات ہے۔ سنا تھا کہ ایک آدمی ناؤ سے پانی میں گر کر مر گیا۔
“ہاں ہاں بھئی، ہم لوگوں نے بھی یہی سنا ہے۔ معلوم نہیں اصل سچائی کیا ہے، تحقیقات جاری ہیں۔”
نہ جانے آخر ایسا کیوں ہو رہا ہے۔ کچھ سمجھ نہیں آتا۔ آئے دن کوئی نہ کوئی حادثہ سننے کو ملتا ہے۔ مجال ہے کہ کبھی کوئی اچھی خبر سننے کو مل جائے۔
ایک شخص بولا،
“ارے بھائی صاحب! یہ سب اللہ کی مرضی ہے۔ وہ بہتر جانتا ہے کہ کس بندے کے ساتھ کیا ہونا ہے۔”
اتنا کہہ کر وہ اٹھ کھڑا ہوا۔
“چلو بھئی، میں چلتا ہوں۔ دیکھتے ہیں آگے کیا ہوتا ہے۔”
وہ رامپور کے گاؤں کا رہنے والا تھا۔ شاید اسے اس حادثے کی حقیقت بھی معلوم تھی مگر ہچکچاہٹ کے باعث کچھ نہ بول سکا۔
اسی دوران کسی نے کہا،
“دو سال پہلے بھی ایک حادثہ پیش آیا تھا۔ ایک آدمی پانی میں گر گیا تھا، مگر آج تک نہیں ملا۔ اس وقت ناؤ میں پینتیس افراد تھے، بچوں سمیت۔”
راشد نے آہ بھری اور بولا،
“انسان کے اپنے گناہ ہوتے ہیں۔ ورنہ بنا وجہ ایسا حادثہ کیوں پیش آئے۔”
اتنے میں ڈاک خانے سے ایک خط آیا۔
“راشد بھائی، چھٹی آئی ہے۔ دیکھتا ہوں کس نے بھیجی ہے۔”
خط دیکھتے ہی وہ شخص اچانک خاموش ہو گیا۔
راشد نے حیرانی سے پوچھا،
“کیا ہوا میاں؟ اچانک چپ کیوں ہو گئے؟ سب خیریت تو ہے نا؟”
وہ گھبرا کر بولا،
“ہاں راشد، میں ٹھیک ہوں… مگر مجھے ابھی گھر جانا ہوگا۔”
راشد نے کہا،
“ٹھیک ہے، لیکن اپنی سگریٹ تو لیتے جاؤ۔ اس کے بغیر تو آپ کی زندگی نہیں چلتی۔”
مگر وہ شخص بغیر سگریٹ لئے ہی چلا گیا۔
راشد حیران رہ گیا۔
آج عجیب بات ہوئی تھی۔ جو آدمی ایک گھنٹے میں سگریٹ کی پوری ڈبیا ختم کر دیتا تھا، وہ اسے چھوڑ کر چلا گیا تھا۔
وہ گھر پہنچا اور تھکے لہجے میں بولا،
“آج بہت تھک گیا ہوں۔ ذرا گرم چائے پلا ئو بیگم۔”
بیگم نے جواب دیا،
“ابھی لاتی ہوں۔ ویسے آج صبح سے ٹی وی پر ایک ہی خبر چل رہی ہے۔ رامپور کے ایک لڑکے نے ناؤ سے چھلانگ لگا لی ہے۔ پہلے تو سنا تھا کہ اس کا پیر پھسل گیا تھا، مگر شہر میں اس حادثے کی بڑی چرچا ہو رہی ہے۔ لگتا ہے کوئی جانا پہچانا آدمی تھا۔”
وہ آہستہ سے بولا،
“اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے۔”
اتنے میں فون کی گھنٹی بجی۔
خبر ملی کہ رامپور میں جو حادثہ پیش آیا ہے، وہ کوئی اور نہیں بلکہ اشرف کے بھائی کے ساتھ ہوا ہے۔ اسی لئے اشرف خط دیکھتے ہی گھر کی طرف روانہ ہو گیا تھا۔
کسی نے حیرت سے کہا،
“مگر آج صبح جو ہمارے ساتھ تھا وہ بھی اسی گاؤں کا آدمی تھا۔ وہ کچھ کہے بغیر ہی چلا گیا۔”
راشد سوچ میں پڑ گیا۔
“جو آدمی آج ملا ہے، وہ اشرف کا بھائی کیسے ہو سکتا ہے؟ دو سال پہلے جو حادثہ ہوا تھا، اس میں تو وہ مر گیا تھا۔ کہیں ایسا تو نہیں کہ اس کی لاش اب جا کر ملی ہو؟”
پھر خبر آئی کہ صبح جو لاش ملی تھی وہ کسی اور کی تھی۔
کسی نے مشورہ دیا،
“بہتر یہی ہوگا کہ آپ رامپور جا کر اشرف کے گھر جائیں۔ اس وقت اسے سہارے کی ضرورت ہے۔”
راشد بولا،
“ٹھیک ہے، میں شام کی ٹرین سے چلا جاتا ہوں۔”
اسی دوران بیگم نے ٹی وی کی طرف اشارہ کیا۔
“راشد! دیکھیں، ٹی وی پر خبر آ رہی ہے۔ اشرف کا بھائی دو سال بعد مل گیا ہے۔”
راشد چونک اٹھا۔
“اس کا مطلب… پچھلے ہفتے جو پیر ملا تھا، وہ اسی کا تھا۔”
گھر میں خاموشی چھا گئی۔
راشد نے آہ بھری اور بولا،
“کتنی اذیت سے گزرنا پڑا ہوگا ان لوگوں کو۔ اللہ مغفرت کرے۔”
بیگم نے دھیرے سے کہا،
“آمین۔”
کچھ لمحوں بعد راشد بولا،
“افسوس کی بات ہے… مگر لوگ یہی کہیں گے کہ شاید اس نے بھی کچھ کیا ہوگا جو اس کے ساتھ اتنا برا ہوا۔”
بیگم نے سر جھکا کر دعا کی،
“اللہ اس کے گھر والوں کو صبرِ جمیل عطا فرمائے۔”
���
سرینگر، کشمیر
موبائل نمبر؛7780819606