جموں//چیمبرآف کامرس اینڈانڈسٹری (جموں) کے صدر راکیش گپتا نے گڈس اینڈ سروسزٹیکس یعنی جی ایس ٹی کو جموں وکشمیر کے لئے عذاب قرار دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جی ایس ٹی ریاست جموں وکشمیر کے لئے عذاب بن گیا ہے اور جی ایس ٹی کے نام پر ریاست میں لوٹ و کھسوٹ جاری ہے ۔ انہوں نے کہا کہ جی ایس ٹی کی وجہ سے ریاست میں 98 فیصد صنعتیں بند ہونے کے دہانے پر پہنچ چکی ہیں ۔ راکیش گپتانے ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ’وزیر اعظم نریندر مودی نے جو گڈس اینڈ سروسز ٹیکس آسان ٹیکس کہہ کرلاگو کیا تھاوہ جی ایس ٹی آج جموں وکشمیر کے لئے عذاب بن گیا ہے ،جی ایس ٹی کے نام پر یہاں لوٹ کھسوٹ کا سلسلہ جاری ہے ، لکھن پور میں سازوسامان کی چیکنگ ہوجاتی ہے اور بلوں کی جانچ پڑتال ہوجاتی ہے لیکن کمرشل ٹیکس محکمہ کی جانب سے غریب علاقوں میں ناکے لگائے جائے جاتے ہیں اور چھاپے مارے جاتے ہیں ،چھاپے وہاں مارے جانے چاہئے جہاں کوئی مجرمانہ اور دہشت گردانہ سرگرمیاں ہو رہی ہوں ، چھاپے مار کر ہمارے لوگوں کو بدنام کرنے کی ناکام کوشش کی جارہی ہے اور ایل اوسی ٹریڈرس کو ہراساں کیا جارہاہے‘۔ انہوں نے کہا ’ہم نے گزشتہ سال ریاستی حکومت سے کہاتھاکہ جو ہندوستان نے جموں وکشمیرکو آئین میں خصوصی حیثیت دی گئی ہے اس کے ساتھ سمجھوتہ کیا گیا ہے ،ہمیں فروخت کیا گیا ہے جس کو ہم قطعی برداشت نہیں کریں گے ،جی ایس ٹی کونسل کس منہ سے ’ون ٹیکس ون نیشن ‘ کے متعلق ریاستی اخبارات میں اشتہارات شائع کر رہی ہے،لکھن پور کے نام پر جو900 سو کروڑ جمع کیاجاتا ہے وہ جموں وکشمیر کے شہری دے رہے ہیں‘ ۔راکیش گپتا نے جی ایس ٹی سے ہوئے نقصانات کا ذکرتے ہوئے کہا ’جموں وکشمیر میں 98 فیصد صنعتیں بند ہونے کے دہانے پر ہیں اور ان صنعت کاروں کا کوئی پرسان حال نہیں ،کوئی ان کی بات سننے کے لئے تیا ر نہیں ہے ‘ ۔ انہوں نے کمرشل ٹیکس محکمہ کو دھمکی بھرے لہجے سے کہا’جموں سے سبھی ناکے ہٹائے جائیں ،چھوٹی سی غلطی کے لئے ہمارا تاجر طبقہ لاکھوں کا جرمانہ نہیں بھرے گا ۔ان کا کہناتھا کے اس معاملے میں جموںوکشمیرکے گورنر ستیہ پال ملک ہمیں میٹنگ کے لئے نہیں بلاتے توہم پری بجٹ کے سلسلہ میں ہونے والی میٹنگ کا بائیکاٹ کریں گے۔انہوں نے کہا کہ ’اس معالے پر ہم چیمبرآف کامرس اینڈانڈسٹری کشمیر سے بات کرکے اس معاملے میں تعاون طلب کریں گے کیونکہ یہ سب ہمارے حقوق کے خلاف ہو رہاہے ۔انہوں نے کمرشل ٹیکس محکمہ کو متنبہ کرتے ہوئے کہا کہ ’آپ چھاپے مارنے کی غرض سے ہماری دوکانوں میں آجاتے ہولیکن جس دن ہم سیول فورس لے کر آپ کے گھروں میں داخل ہوں گے اور آپ گھروں میں نصب عالیشان سازوسامان کے بل مانگیں گے اس دن گورنر صاحب کو پتہ چلے گا کو ن چور ہے اور کون ایماندار ہے ‘۔انہوں نے کہا کہ اگرہمارے تاجر طبقہ کو تنگ کیا گیا تو ہم قطعی برداشت نہیں کریں گے اور اس معا ملے میں اگر گورنر صاحب ہمیں میٹنگ کے لئے نہیں بلاتے ہیں تو پر ی بجٹ کے سلسلہ میں ہونے والی میٹنگ کا بائیکاٹ کیا جائے گا ۔انہوں نے اس سلسلہ میں ایل اوسی ٹریڈرس کے ساتھ بھی بات ہوگئی ہے اور ضرورت پڑی تو ہم بند کی کال دیں گے جس کے تحت جموں وکشمیر کے کاروبار کے ساتھ ساتھ ایل او سی ٹریڈ بھی بند رہے گا۔