جہیز

اکرم چاچا کی لڑکی کو  دیکھنے آج لڑکے والے آرہے ہیں۔سو کے قریب رشتے آچکے ہیں پر اب تک لین بات نہیں بنی۔صالحہ کی عمر کی لڑکیوں کے تو دو دو بچے ہوگئے ہیں پر صالحہ کے ہاتھ ابھی تک پیلے نہیں ہوسکے۔ کچھ سہیلیوں نے کہا کہ کسی پیر فقیر کے پاس جاؤ شاید کسی نے جادو کیا ہو تو کسی نے کہا کہ فلاں بزرگ کی درگاہ پہ سات جمعرات کی حاضری دو شاید یہ گرہن ٹل جائے۔ہر کوئی عینک کو صاف کررہا تھا پر کون سمجھاتا کہ کھوٹ نگاہوں میں ہے نہ کہ عینک میں۔
گھر میں اکرم چاچا، سلمہ چا چی اور صالحہ کی تین اور بہنیں لڑکے والوں کے انتظار میں تھے۔اتنے میں آنگن میں ایک گاڑی کھڑی ہوگئی۔اکرم چاچا استقبال کے لئے آگے آئے اور سلام کیا۔اپنے بوڑھے ہاتوں سے بنی چٹائی بچھائی۔ 
صالحہ دروازے کے پیچھے چھپ چھپ کر دیکھ رہی تھی پر اسکی آنکھوں میں کوئی چمک نہیں اور نہ ہی نئے جذبات تشکیل پارہے تھے کیونکہ وہ بیچاری تو لڑکوں کو دیکھ دیکھ کر پک چکی ہے۔۔۔بے جان سی موتی کی مانند ورنہ لڑکے کو دیکھ کر کس لڑکی کی خوشیاں چہک نہیں اُٹھتی ہیں۔ 
لڑکے کی ماں سلطانہ  نے چائے نوش فرمائی تو اکرم چاچا سے کہا ذرا صالحہ کے دیدار تو کراؤ ۔۔۔۔۔اکرم چاچا ۔ ہاں ہاں !کیوں نہیں۔۔۔ ۔سلمہ جاؤ صالحہ کو بلاؤ۔۔۔۔
شرم و حیا کی پیکر ۔۔۔صالحہ۔۔۔ ماں کے پیچھے پیچھے، آنکھیں جھکی ہوئیں اور آہستہ آہستہ قدم اٹھاتے ہوئے آئی۔۔۔ لڑکا دیکھتے ہی تھم سا گیا۔ صالحہ نے سلام کیا۔۔۔
  ماشاء اللہ بہت خوبصورت ہے،آؤ میرے پاس بیٹھو ۔۔۔۔۔۔لڑکے کی ماں سلطانہ نے کہا۔ اچھا بیٹی کہاں تک پڑھی ہو۔
صالحہ: زیادہ نہ پڑھ سکی غربت اور ماں کے مسلسل بیمار رہنے کی سبب صرف دوسری تک پڑھائی کی۔
سلطانہ:تیور چڑھاتے ہوئے۔۔۔صرف دوسری تک۔میرا بیٹا بی اے( BA)پاس  ہےاور بڑی فیکٹری میں کلرک ہے۔پورے پانچ ہزار پانچ سو تنخواہ لیتا ہے۔ اچھا کام کاج جانتی تو ہو؟اکرم چاچا بات کوکاٹتے ہوئے۔۔۔ارے جی کام تو خوب جانتی ہے۔ھانا پکانا،کپڑے دھونا، گھر کی صاف ستھرائی سارے کام تو اکیلے کرتی ہے۔صفائی تو اسکی پہچان ہے۔
اکرم چاچا کو پہلی بار رشتہ ہو نے کی امید نظر آنے لگی۔اندر سے خوشی کی لہر دوڑنے لگی۔چہرے پے بشاشت نکھرنے لگی۔لڑکے کی ماں سلطانہ اکرم سے اکیلے میں بات کرنا چاہتی تھی۔
صالحہ باہر نکل گئی تو سلطانہ شروع ہوگئی۔
دیکھو اکرم میاں میرا یہ اکلوتا لڑکا ہے۔میرے اور اسکے بہت سے ارمان ہیں۔اگر بات پہلے ہی طے ہو جائے تو بہتر رہے گا۔
اکرم چاچا کی زبان لڑکھڑانے لگی۔۔۔۔ جی آپ فرمائیے میرے لیے کون سا حکم ہے۔
سلطانہ:بارات میں ہم ایک سو آدمی آئیں گے۔پانچ قسم کے جانوروں کا گوشت ہونا چاہے۔ میرے صفدر کے لیے ایک گاڑی۔بیٹی کے لیے پانچ تولا سونا اور میری لیے بھی پانچ تولا سونا۔بس اتنا ہی فی الحال۔۔۔۔
یہ سن اکرم چاچا کو جھٹکا سا لگا۔آنکھوں میں جو چمک تھی اک پل میں ماند پڑگئی۔خواب جو سجا تھا آنسوؤں کی صورت میں بہنے لگا۔شکر گزاری کے جو الفاظ کچھ دیر پہلے ابھرے تھے گلے میں اٹک گئے۔جیسے تیسے اکرم چاچا نے خود کو سنبھالا۔
لڑکے کی ماں کسی کوٹھے کی مالکن ہو کی طرح بھاری آواز میں کہنے لگی۔۔۔۔ اچھا اندھیرا چھانے والا ہے۔ دیر ہوجائے گی۔کل مجھے سندیس پہنچانا۔۔۔اللہ حافظ 
چلو بیٹے۔۔۔۔
اللہ حافظ کہہ کر اس نے اکرم چاچا کو اللہ کے حوالے نہیں بلکہ کسی اور کے حوالے کیا، جہاں سے اکرم حفاظت سے رہ ہی نہیں سکتا ہے۔۔۔۔۔
رات دیر تک اکرم چاچا اور سلمہ چاچی اسی سوچ میں ڈوبےہوئے تھے کہ آخر کیا کیا جائے۔اپنے محدود وسائل پہ رونا رورہے تھے۔اشکوں سے اکرم چاچا کی داڑھی تک تر ہوگئی۔سلمہ اتنا جہیز۔۔۔کہاں سے انتظام ہوگا۔
سلمہ:اکرم کے کندھوں پہ اپنا ہاتھ رکھ کر۔ اے میرے سرتاج آپ غم نہ کریں کوئی نہ کوئی در ضرور کھلے گا۔
اکرم چاچا: سلمہ اس دور میں شرم وحیا، پاکبازی اور خلوص کی کوئی قیمت ہی نہ رہی۔ناپائیدار دنیا کو پائیدار آخرت پر ترحیح دی جارہی ہے۔آج کا بیاہ  بیاہ نہ رہا بلکہ سودا بازی کا گندا پیشہ بن گیا ہے جہاں صاحب ثروت میدان مارتے ہیں۔۔۔ چلئے کل دیکھتے ہیں کہ کیا ہوگا منظور خدا۔
صالحہ اپنے والدین کے پاس آہی رہی تھی کہ اس نے اپنے والدین کی  لاچاری غربت اور محدود وسائل کی ساری روداد سنی تو۔۔۔۔ رک سی گئی۔۔۔۔ تھم سی گئی اور اُلٹے پاؤں اپنے کمرے میں گئی۔ خوب اپنی تقدیر پے رونے لگی۔ اپنے آنسوؤں سے اپنے ارمان صاف کررہی تھی ۔اسےاپنا وجود بے معنی اور سراب لگنے لگا۔خود کو سماج کا ایک اضافی شے سمجھنے لگی۔اپنے آنسوؤں کو پونچھا اور کسی بات کا جیسے تہیہ کر لیا۔
صبح گاؤں کے مزدور روز کی طرح اکرم چاچا کو کام پر ساتھ لے جانے کے لئے باہر انتظار کررہے تھے۔نہ چاہتے ہوئے بھی اکرم چاچا ٹوٹے پاؤں چل دیا۔ کام پر سوچ میں ڈوبا ہواکہ کس طرح بیٹی کا رشتہ کروں۔
دوپہر کا وقت تھا دھوپ اپنی شباب پر تھی۔ننگے آسمان کے نیچے اکرم چاچا مسلسل بیلچی زمیں میں گاڑھ رہا تھا۔پسینے میں نہائے ہوئےلگ رہا تھا۔ماتھے سے ٹپکتا پسینہ کبھی آستین سے تو کبھی قمیص کے دامن سےبار بار صاف کررہا تھا۔کبھی اپنی بوڑھی آنکھوں کو تسلی بخش جواب کی امید سے  سوالیہ انداز میں اٹھا کر آسمان کی طرف دیکھتا تھا۔جس طرح سوکھا ریگستان بارش کا منتظر ہوتا ہے۔
آج سورج میں بے تحاشا تپش تھی اور بے رحم سا ہو کہ بوڑھے اکرم چاچا کا ظالمانہ امتحان لے رہا تھا، پر اکرم چاچا کے حوصلوں کے سامنے گھٹنے ٹیک دیئے ۔اگر اکرم چاچا کی کمر کسی نے توڑ رکھی تھی تو وہ سماج کے ظالمانہ اور جابرانہ اصول ہیں، جن کو ہم نے جنم بھی دیا اور پروان بھی چڑھایا اور سماج کی ان اصولوں نے  اکرم چاچا کی چار بیٹیوں کے بوجھ کو چالیس بیٹیوں کے بوجھ کے برابربنادیا۔
ذہنی اور کچھ جسمانی تھکان کو دور کرنے کے لیے اکرم چاچا دور ایک درخت کے سائے میں بیٹھ گیا اور کمر کے بل لیٹ گیا اور سوچ میں ڈوب گیااور بیٹی کے بیاہ کےلیے کوئی صورت نکالنے میں محو ہوگیا۔اچانک اکرم چاچا کے چہرے پہ کھوئی ہوئی خوشی لوٹتے ہوئے محسوس ہورہی تھی اور وہ زبان سے  کہنے لگا۔۔۔یہ ٹھیک رہے گا۔۔ہاں یہ ٹھیک رہے گا۔سلطانہ کو اپنی پوری زمیں دوں گا اور اسکی ابدی غلامی بھی کروں گا تو وہ ضرور بیاہ کے لیے مان جائے گی۔۔۔۔ ہاں یہی ٹھیک رہے گا۔۔۔۔۔۔یہ سوچتے  ہی اسکے ہاتھ پاؤں میں جان سی آگئی اور اٹھ کے زور زور سے بیلچی چلانے لگا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔دوپہر کےکھانے کا وقت آگیا۔۔۔ اکرم چاچا نے منہ اور ہاتھ دھوئے۔
سلطان چاچا: او اکرمے کہاں جانا ہے۔
اکرم چاچا: سلطان تم لوگ کھانا کھاؤ میں سلطانہ کے پاس ہوکے آتا ہوں۔
سلطان چاچا: اکرمے پہلے کھانا تو کھاؤ
اکرم:نہیں نہیں میں جلدی آتا ہوں۔۔۔۔
اکرم چاچا سلطانہ کے گھر پہنچا۔
    اندر آتے ہی۔۔کیا فیصلہ کیا اکرم سلطانہ نے اوپر سے آواز لگائی۔
اکرم چاچا:سلطانہ صاحبہ میں غریب ہوں چار بیٹیوں کا مجبور باپ ہوں۔۔جمع پونجی بھی نہیں ہے۔ مجھ پر دیا کیجئے۔
سلطانہ:کرسی پر بیٹھ گئی پاؤں پہ پاؤں رکھ کر۔اکرم میں نے تم پر دیا ہی تو کی ورنہ لسٹ لمبی تھی۔
اکرم چاچا: سلطانہ کے دونوں پیر پکڑ کے خدارا مجھ پر اپنے ہاتھ ذرا ڈھیلے کیجئے۔میرے پاس صرف ایک کنال زمیں ہے، وہ آپ رکھ لیجئے اور تمام عمر آپ کی غلامی کروں گا۔اب میں تھک چکا ہوں۔۔ وہ کچھ منٹ سوچنے لگی۔۔کبھی اس کی آ نکھیں بڑی ہوتیں تو کبھی چھوٹی۔۔۔ جاؤ کرو بیاہ کی تیاری۔ہاں زمیں کے کاغذات نکاح کے وقت دینااور میری غلامی بھی کرنی ہوگی۔
شکریہ شکریہ سلطانہ آپ بڑی رحم دل ہیں۔ یہ سنتے ہی اکرم چاچا کی عید ہوگئ۔ ۔جلدی سے کام پہ پہنچ کر یہ خوش خبری اپنے دوست سلطان کو دینا چاہتا تھا راستے میں بڑا خوش لگ رہا تھا کہ سلمہ اور صالحہ بھی خوشی سے اچھل پڑیں گی کہ آخر کار ہمارے گھر میں بھی اب شادی کی شہنائی بجے گی۔۔۔ بارات آئے گی۔۔۔ دولہا آئے گا۔۔۔۔ ہاتھوں میں مہندی لگے گے۔ کام پر پہنچتے ہی  سارا معاملہ سلطان کو بیان کیا اور سلطان نے بھی بڑی مبارک باد دی۔دوسرے مزدوروں نے  اکرم چاچا کو اب برق رفتاری سے کام کرتے دیکھا تو بلند آواز سے کہنے لگے کہ او اکرمے تو نے تو کھانا بھی نہیں کھایا اور اتنے جوش اور طاقت سے بیلچی مار رہا ۔اتنی طاقت کہاں سے لائی۔۔۔او یارو  کچھ نہ پوچھو آج تو برسوں بعد اصل اور روحانی غذا کھائی ہے۔
  اکرم چاچا  اب کچھ دیر اور کام کر کے آج جلدی سے گھر والوں کو یہ نوید دینا چاہتا تھا کہ۔۔۔ اتنے میں دور سے ایک بچہ چلاتے ہوئے آیا۔۔اکرم چاچا اکرم چاچا۔۔
    اکرم چاچا نے بیلچی کو روکا ۔کیا ہوا سب ٹھیک تو ہیں بچے۔۔۔ بچےکی سانس پھولتے ہوئے۔اکرم چاچا  جلدی گھر چلئےآپی۔۔۔۔ کیا ہوا صالحہ کو۔۔۔۔
اکرم چاچا  آپی نے ندی میں چھلانگ لگائی ہے۔اکرم چاچا نے بیلچی کو پھینکا اور ننگے پاؤں گھر کی طرف دوڑنے لگا۔۔ہائے میری بیٹی ! ہائے میری صالحہ!
  آنگن میں چارپائی پہ صالحہ کی لاش کالی چادر سے ڈھکی ہوئی تھی اور گاؤں کی عورتیں اردگرد واویلا کررہی تھیں۔اکرم چاچا عورتوں کی صفحوں کو چیرتا ہوا سیدھے صالحہ کی لاش کی طرف لپکا۔ چادر ہٹائی اور اپنا ہاتھ بیٹی کے پرنور چہرے پہ پھیرنے لگا اور زاروقطار رورنے لگا۔
عورتیں اردگرد ایک دوسرے سے کہہ رہیں تھیں کہ اس بوڑھے کے گھر یہ دوسری ایسی مصیبت ٹوٹ پڑی ہے۔اس سے پہلے اسکی بڑی بیٹی سلیقہ نے بھی زہر کھا کر جان دی تھی  ۔ہاتھوں میں مہندی لگنا شاید اسکی بیٹیوں کی قسمت میں ہی نہیں ہیں۔ 
بوڑھا اکرم چاچا خون کے آنسو رورہا تھا۔اپنی ادھوری قسمت پہ ماتم کررہا تھا کہ آخر اتنی مصیبتیں میرے ہی گھر میں وارد کیوں ہورہی ہیں اور اپنی زبان سے لگاتار یہ الفاظ دہرا رہا تھا کہ۔۔۔۔۔اٹھ بیٹی تیرا دولہا  تو اب آنے ہی والا ہے۔۔۔۔
 
���
پاہو پلوامہ
موبائل نمبر؛9149620962