ایجنسیز
تہران//ایران میں جنگ کو روکنے کے لیے طے پانے والا جنگ بندی معاہدہ خطرے میں پڑتا نظر آیا، جب اسلامی جمہوریہ ایران نے لبنان میں اسرائیلی حملوں کے جواب میں آبنائے ہرمز کو ایک بار پھر بند کر دیا۔وائٹ ہاؤس نے مطالبہ کیا کہ اس آبی گزرگاہ کو دوبارہ کھولا جائے اور امن مذاکرات کو جاری رکھنے کی کوشش کی جائے۔ امریکہ اور ایران دونوں نے معاہدے کے بعد اپنی کامیابی کا دعویٰ کیا، جبکہ عالمی رہنماؤں نے اطمینان کا اظہار کیا، اس کے باوجود کہ مزید ڈرون اور میزائل ایران اور خلیجی عرب ممالک پر حملہ آور ہوئے۔اسی دوران اسرائیل نے لبنان میں حزب اللہ کے خلاف اپنے حملوں میں شدت پیدا کر دی، بیروت کے تجارتی اور رہائشی علاقوں کو نشانہ بنایا گیا۔ بدھ کے روز کم از کم 182 افراد ہلاک ہوئے، جو وہاں لڑائی کا سب سے خونی دن ثابت ہوا۔اس نئی تشدد کی لہر نے اس معاہدے کو خطرے میں ڈال دیا جسے امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے ’نازک‘ قرار دیا تھا۔
ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر نے کہا کہ مجوزہ مذاکرات ’غیر معقول‘ ہیں کیونکہ واشنگٹن نے جنگ کے خاتمے کے لیے تہران کی 10 میں سے 3 شرائط کی خلاف ورزی کی ہے۔سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ میں محمد باقر قالیباف نے حزب اللہ پر اسرائیلی حملوں، جنگ بندی کے بعد ایرانی فضائی حدود میں مبینہ ڈرون دراندازی، اور حتمی معاہدے میں ایران کی یورینیم افزودگی کی صلاحیت کو تسلیم نہ کرنے پر اعتراض کیا۔ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے زور دیا کہ لبنان میں جنگ کا خاتمہ بھی جنگ بندی معاہدے کا حصہ ہے، لیکن اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ جنگ بندی لبنان پر لاگو نہیں ہوتی۔جب معاہدے کا اعلان کیا گیا تو پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف، جن کے ملک نے ثالث کا کردار ادا کیا، نے سوشل میڈیا پر کہا کہ یہ معاہدہ ’ہر جگہ بشمول لبنان‘پر لاگو ہوتا ہے۔لبنان کی وزارت صحت کے مطابق بدھ کے روز اسرائیلی حملوں میں 182 افراد ہلاک ہوئے، جو اسرائیل-حزب اللہ جنگ میں ایک دن میں سب سے زیادہ ہلاکتیں ہیں۔عباس عراقچی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر کہا،’’دنیا لبنان میں ہونے والے قتل عام کو دیکھ رہی ہے۔اب گیند امریکا کے کورٹ میں ہے، اور دنیا دیکھ رہی ہے کہ وہ اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرتا ہے یا نہیں۔‘‘