کل رات جو ایندھن کیلئے کٹ کے گرا ہے
چڑیوں کو بڑا پیار تھا اس بوڑھے شجر سے
جنگلات کی اگر چہ واضح اور مخصوص تعریف ممکن نہیں ہے تاہم عام اصطلاح میں جنگلات زمین کے اس حصے کو کہا جاتا ہے جو مختلف قسم کے درختوں، پیڑ پودوں یا جھاڑیوں سے ڈھکا ہوا ہو۔ جنگلات کی اہمیت اور افادیت سے کسی کو انکار نہیں ہو سکتا ہے۔ یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ جنگلات انسانی زندگی میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ اسی اہمیت کے مدِ نظر جنگلات کو سبز سونا قرار دیا گیا ہے۔ جنگلات زمین کے بہائو اور کٹائو کو روکتے ہیں اور نمی پیدا کر کے زمیں کو زرخیز بنائے رکھتے ہیں ۔جنگلات جانوروں کے لیے چارا مہیا کرتے ہیں۔اتنا ہی نہیں انسانوں کے لیے نوکری کے مواقعے بھی جنگلات کی بدولت فراہم ہوتے ہیں۔ جنگلات جنگلی جانوروں کا مسکن ہے۔ جنگلات کی بے دریغ کٹائی کی وجہ سے جنگلی جانور جنگلوں میں خود کو غیر محفوظ سمجھ کر بستیوں کی راہ لیتے ہیں جس کہ وجہ سے انسانی آبادی خطرے میں پڑ جاتی ہے۔ہر سال سیکنڈوں لوگ جنگلی جانوروں کا شکار بنتے ہیں لیکن یہ سب انسانی افعال کا ہی نتیجہ ہوتا ہے ۔جنگلات کی وجہ سے بارشیں ہوتی ہیں اور بارشوں کی مدد سے فصلیں بنتی ہیں ۔جنگلات کی کمی کے باعث بارشوں میں کمی واقع ہوتی ہے جس سے زراعت پر بہت بْرے اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ یعنی فصلیں یا رزق تب تک ملتا رہے گا جب تک جنگل رہیں گے ۔بقول شیخ العالمؒ ؎
اَن پوشِ تیلہ یلہ وَن پوشہِ
جنگلات کو زمین کے پھیپھڑے بھی کہا جاتا ہے ۔جنگلات ماحول کو صاف ستھرا رکھنے میں مددگار ثابت ہوتے ہیں۔ جنگلات آکسیجن فراہم کرتے ہیں جو انسانوں اور باقی جانداروں کو زندہ رکھنے کے لئے بے حد ضروری ہے۔ جنگلات کی بدولت ماحولیاتی توازن برقرار رہتا ہے۔ جنگلات کی کمی کی وجہ سے ماحولیاتی توازن بگڑ جاتا ہے اور دنیا میںعالمی حدت،گرین ہائوس افیکٹ یا موسمیاتی تبدیلی جیسے مسائل پیدا ہوئے ہیں ۔بظاہر یہ معمولی باتیں ہیں لیکن سائنسدانوں اور باقی حساس لوگوں کے لیے یہ بہت بڑا مسئلہ ہے کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ ان مسائل سے دنیا کس تباہی کی جانب جا سکتی ہے ۔جنگلات کم ہونے کی وجہ سے نہ صرف سیلاب بلکہ خشک سالی کا خطرہ روز بہ روز بڑھتا جا رہا ہے کیونکہ بارشیں وقت پر نہیں ہوتی ہیں۔ جنگلات کی کمی کی وجہ سے دنیا کے حیاتیاتی تنوع کو شدید خطرات لاحق ہیں ۔اتنا ہی نہیں جنگلات کے بغیر زمین بنجر بن جائے گی اور جنگلات کے بغیر خوشحال زندگی کا تصور نہیں کیا جا سکتا ہے۔ جنگلوں میں ہزاروں قسم کی جڑی بوٹیاں پائی جاتی ہیں جن کے بے شمار طبی فائدے ہیں ۔ان جڑی بوٹیوں سے مختلف قسم کی بیماریوں کا علاج کیا جا سکتا ہے۔
آبادی بڑھنے کی وجہ سے جنگلات پر دباؤ بڑھ رہا ہے کیونکہ بڑھتی ہوئی آبادی کی ضرورتوں کو پورا کرنے کے لئے جنگلات کی بے دریغ کٹائی جاری ہے ۔ہر سال مکانات کی تعمیر، مختلف قسم کا سازوسامان ،ایندھن کی فراہمی اور کاغذ بنانے کے لئے بہت بڑے رقبے سے جنگلات کا صفایا کیا جاتا ہے۔ ان ضروریات کو جنگلوں سے ہی پورا کیا جا سکتا ہے لیکن اس میں ایک اعتدال کی ضرورت ہے۔ جتنے پیڑ پودے کاٹنے پڑیں ،اتنے نئے لگائے جانے چاہئیں۔ بقولِ شاعر ؎
مکاں بناتے ہوئے چھت بہت ضروری ہے
بچا کے صحن میں لیکن شجر بھی رکھنا ہے
شجر کاری مہم کے تحت اگر چہ ہر سال ہزاروں نئے پیڑ پودے لگائے جاتے ہیں اور شجرکاری کے نام پر سرکاری خزانے سے کروڑوں روپے نکالے جاتے ہیں لیکن اکثر اوقات دیکھا گیا ہے کہ بعد میں ان درختوں کی دیکھ بھال نہیں کی جاتی ہے جس کہ وجہ سے یہ ساری رقم تقریباً تقریباً رائیگاں ہوتی ہے۔ 2019 کی ایک سروے کے مطابق بھارت کے کل رقبے کا 21 فی فیصد حصہ اگر چہ جنگلات قرار دیا جا چکا ہے تاہم صرف 2 فیصد رقبے پر ہی درخت کھڑے ہیں ۔اس بات سے بھی اندازہ لگایا جا سکتا کہ جنگلات کی کٹائی کا عمل کس شدت سے جاری و ساری ہے ۔ایک اور سروے کے مطابق دنیا سے ہر سال 32 ملین ایکٹر رقبے سے جنگلات ختم ہوتے جا رہے ہیں جو عالم انسانیت کے لیے ایک لمحہ فکریہ ہے ۔یوں سمجھ لیجئے کہ انسان جنگلات کا صفایا کر کے اپنے پاؤں پر خود ہی کلہاڑی مار رہا ہے۔ انسان اس قدر خودغرض اور لالچی بن چکا ہے کہ وقتی اور بہت معمولی فائدے کے لئے یہ اپنا ناقابل ِ تلافی نقصان کرنے پر تلا ہوا ہے۔ اگر اسی طرح سے جنگلات کی کٹائی کا سلسلہ جاری رہا تو وہ دن دور نہیں جب کرۂ ارض سے جنگلات کا نام و نشان مٹ جائے گا اور ہماری آنے والی نسلیں اس نعمت سے محروم رہ جائیں گی۔ اگر چہ جنگلات کی حفاظت کے لئے دنیا کے باقی ممالک کی طرح ہندوستان میں بھی قانون بنا ئے گئے اور جن کے تحت جنگلات کاٹنے پر پابندی عائد کر دی گئی ۔اس کے باوجود روزبہ روز جنگلات کم ہوتے جا رہے ہیں اور جنگلات کو مختلف تعمیراتی اور کاشتکاری مقاصد کیلئے استعمال کیا جا رہا ہے۔جنگلات کی اہمیت کے مد نظر اقوام متحدہ نے 21 مارچ کو بین الاقوامی یوم جنگلات قرار دیا ہے جس کے تحت دنیا کے مختلف ممالک میں اس دن مختلف قسم کے پروگرام منعقد کئے جاتے ہیں اور عوام الناس کو جنگلات کی اہمیت بتائی جاتی ہے۔ اس روزشجر کاری کا بھی خوب اہتمام کیا جاتا ہے۔ ایک خوش آئند بات یہ ہے کہ پچھلے کئی برسوں سی جنگلات کے تئیں لوگوں کی حساسیت بڑھ گئی ہے اور لوگ جنگلات کی اہمیت کو سمجھنے لگے ہیں ۔لوگوں کا اس ضمن میں حساس اور ذمّہ دار ہونا ہی واحد ایک ایسا ذریعہ ہے جس سے جنگلات کو بچایا جا سکتا ہے ۔ہم سب کو چاہیے کہ ہم زیادہ سے زیادہ پیڑ پودے لگائیں اور جنگلوں کا منصفانہ استعمال کریں تاکہ یہ بیش بہا خزانہ ہماری آنے والی نسلوں تک بہ حفاظت پہنچ جائے اور وہ بھی اس سے مستفید ہوں۔ ؎
پیڑ کے کاٹنے والوں کو یہ معلوم تو تھا
جسم جل جائیں گے جب سر پہ نہ سایہ ہوگا
رابطہ۔اویل نورآباد،کولگام کشمیر
فو ن نمبر۔7006738436
������