جموں کشمیر نئے نظریہ اور نئی سوچ پر گامزن | جنگجویت اور حامیوں کیلئے جگہ نہیں | بجٹ رقومات کا غلط استعمال کرنے والے کو بخشا نہیں جائیگا:لیفٹیننٹ گورنر

سرینگر// لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے کہا ہے کہ مرکزی زیر انتظام خطہ ایک ’’نئے نظریہ اور نئی سوچ‘‘ کے ساتھ آگے بڑھ رہا ہے جہاں جنگجویت اور اس کے حامیوں کیلئے کوئی جگہ نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر کی حکومت ایک نئی تعلیمی پالیسی پر کام کر رہی ہے،جس میں اسکولوں کے نصاب میں جموں و کشمیر پولیس اور فوج کے ہیرو ،جنہوں نے جنگجوؤں اور دشمنوں کے خلاف زبردست قربانیاں دی ہیں  کے کارناموں کو شامل کیا جائے گا۔ایس کے آئی سی سی سی میں مہلوک پولیس اہلکاروں اور فوجیوں کے نزدیکی رشتہ داروں کے اعزاز کے لئے’’ گلوبل اسٹریٹجک پولیس فاؤنڈیشن‘‘ پونے کے زیر اہتمام منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سنہانے کہا کہ ان کے پاس پولیس اور فوجیوں کو خراج تحسین پیش کرنے کے لئے کوئی الفاظ نہیں ہیں جو انہوں نے یا تو جنگجوئوںکا مقابلہ کرنے یا سرحدوں کی حفاظت کے دوران اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ ان کی عظیم قربانیوں کی وجہ سے ، آج ہم آزاد فضا میں سانس لے رہے ہیں۔ لیفٹیننٹ گورنرنے کہا کہ وہ پولیس اور فوج کے تمام بہادر جوانوں کو سلام پیش کرتا ہوں، جنہوں نے اپنی ذمہ داری کے مطابق اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیاہے۔ سنہا کا کہنا تھا’’میں یہاں یہ بات واضح کردوں کہ جموں و کشمیر میں جنگجویت کی کوئی جگہ نہیں ہے،اور ان کے حامیوں کو معاف نہیں کیا جائے گا۔ اس موقع پر مہلوک پولیس اہلکاروں اور فوجیوں کے والدین ، ، بیواہیں اور بچے موجود تھے۔ لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ جموں و کشمیر حکومت پولیس اور فوج کے مہلوک ہیروز کی عظیم کارناموں کو جموں و کشمیر کے اسکول کے نصاب میں شامل کرنے کی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔ انہوں نے کہا ’’ یہ ہم اس لئے کر رہے ہیں تاکہ ہمارے بچوں کو پولیس اور فوجیوں کی عظیم قربانیوں کے بارے میں پتہ چلے جنہوں نے ایک پر امن اور بہتر جموں و کشمیر کے لئے اپنی جانیں دیں۔انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر کو رواں سال کے لئے بہت بڑا بجٹ ملا ہے اور ایک روپے بھی غلط استعمال نہیں ہوگا۔ منوج سنہانے کہا ’’جو بھی بجٹ کی رقومات کا غلط استعمال کرتے ہوئے پایا جاتا ہے اسے سخت کارروائی کا سامنا کرنا پڑے گا‘‘۔اس موقع پر کیرالہ کے گورنر عارف محمد خان ، چانسلر سنٹرل یونیورسٹی کشمیر لیفٹیننٹ جنرل (ر) سید عطا حسنین ،لیفٹیننٹ جنرل (ر) سنجے کلکرنی ،مشرقی بحری کمانڈ کے سابق چیف ایڈمرل (ر) انوپ سنگھ اور دیگر لوگ بھی موجود تھے۔