۔7اضلاع میں ایک بوند بھی نہیں گری،13اضلاع میں 97فیصد کمی
عظمیٰ نیوز سروس
سرینگر //جموں و کشمیر غیر معمولی طور پر خشک سردی کا مشاہدہ کر رہا ہے، بارش کے اعداد و شمار حالیہ برسوں میں سب سے تیز موسمی خسارے میں سے ایک کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ یکم نومبر 2025 سے 17 جنوری 2026 تک کے اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ یونین ٹیریٹری میں مجموعی طور پر 85 فیصد بارش کی کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ یوٹی میں صرف 20.6 ملی میٹر بارش ہوئی جبکہ معمول کے مطابق 139.0 ملی میٹر بارش ہونی تھی۔
ضلع وار
ضلع وار بارش کی صورتحال یکم نومبر سے 17 جنوری تک بھی انتہائی کمی ریکارڈ کی گئی۔ سرینگر میں 22.4 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی جو کہ 115.4 ملی میٹر کے معمول کے مقابلے میں 81 فیصد کی کمی ہے۔ بڈگام میں 16.4 ملی میٹر (80%)، اور گاندربل میں 127.9 ملی میٹر کے معمول کے مقابلے میں 29.3 ملی میٹر درج کی گئی، جو کہ 77 فیصد کمی کو ظاہر کرتا ہے۔شمالی کشمیر کے اضلاع، جو روایتی طور پر موسم سرما کے دوران خشک نہیں ہوتے ہیں، بھی معمول سے بہت کم رہے۔ بانڈی پورہ میں 56.9 ملی میٹر (45%)، بارہمولہ میں 35.8 ملی میٹر (72%)اور کپواڑہ میں 72.2 ملی میٹر ریکارڈ کی گئی جو کہ 141.6 ملی میٹر کے معمول کے مقابلے میں 49% خسارہ ہے۔جنوبی کشمیر میں صورتحال انتہائی تشویشناک ہے، جہاں بارش غیر معمولی طور پر کم ہوئی ہے۔ کولگام میں 196.8 ملی میٹر کے معمول کے مقابلے میں صرف 13.4 ملی میٹر ہوئی، جو کہ 93 فیصد خسارہ کی نشاندہی کرتی ہے۔ شوپیان میں 9.0 ملی میٹر91) فیصد کمی)جبکہ پلوامہ میں 17.5 ملی میٹر (77فیصد کمی) اور اننت ناگ میں 22.6 ملی میٹر( 80فیصد کمی) ریکارڈ کی گئی۔جموں کے خطہ میں، کئی اضلاع میں بارش نہ ہونے کی تباہی اور بھی زیادہ واضح ہوئی ہے۔ کٹھوعہ میں معمول کے 131.3 ملی میٹر کے مقابلے میں 1.1 ملی میٹر ریکارڈ کی گئی، جو کہ 99 فیصد کی کمی ہے۔ ڈوڈہ (94%)، رام بن (87%)، اودھم پور (94%)، اور سانبہ (98%) میں نہ ہونے کے برابر بارش ہوئی ۔ خود جموں ضلع میں 94.7 ملی میٹر کے مقابلے میں 8.6 ملی میٹر ریکارڈ کی گئی، جو کہ 91 فیصد کی کمی ہے۔ صرف پونچھ (42%) نے نسبتاً کم خسارہ درج کیا گیا، حالانکہ اب بھی معمول کی سطح سے بہت کم ہے۔مرکز کے زیر انتظام علاقوں کی سطح پر، جموں و کشمیر میں 85 فیصد بارش کی کمی ریکارڈ کی گئی، جب کہ لداخ میں اسی مدت کے لیے 77 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔
جنوری
جنوری میں خشکی کا رجحان تیزی سے بڑھ گیا ہے۔ 1 جنوری سے 17 جنوری 2026 تک، جموں و کشمیر میں معمول کے 44.4 ملی میٹر کے مقابلے میں صرف 1.5 ملی میٹر بارش ہوئی، جو کہ 97 فیصد کی غیر معمولی کمی ہے۔اس مدت کے دوران کئی اضلاع میں صفر بارش ریکارڈ کی گئی، جن میں سرینگر، بڈگام، شوپیان، ڈوڈہ، رام بن، سانبہ اور ادھم پور شامل ہیں۔ دیگر اضلاع جیسے اننت ناگ (95) فیصد کمی، بارہمولہ (93)، کپواڑہ (93)، اور جموں (94) کمی واقع ہوئی۔لداخ میں، یکم سے 17 جنوری کے درمیان بارش 1.1 ملی میٹر رہی جو معمول کے مطابق 2.6 ملی میٹر تھی، جو کہ 56 فیصد کی کمی تھی، جب کہ لیہہ میں 79 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔
۔23اور 24جنوری کو بھاری برفباری ہوگی | میدانی علاقوں میں بھی سفید چادر بچھنے کا امکان ,بیشتر اہم شاہراہیں بند ہونگی
عظمیٰ نیوز سروس
سرینگر// وادی میں کم سے کم درجہ حرارت گرنے کے ساتھ ہی سردی کی صورتحال پھر سے سخت ہوگئی ہے اور اس دوران، سونمرگ وادی میں سب سے سرد مقام رہا جہاں درجہ حرارت منفی 8.9ریکارڈ کیا گیا۔سرینگر میں بھی منفی 4.7ڈگری درج کیا گیا۔ کشمیر ویدر نے اتوار کو بتایاکہ22 سے 28 جنوری تک دو یکے بعد دیگرے ویسٹرن ڈسٹربنس متوقع ہے اورموسم کی پہلی بڑی برف باری 22 جنوری سے متوقع ہے۔انہوں نے کہا کہ کشمیر کے میدانی علاقوں میں موسم کی پہلی برف باری کا 100% امکان ہے اور یہ سلسلہ22 جنوری کی رات سے شروع ہو رہا ہے۔ ادھر محکمہ موسمیات نے بھی تقریباً اسی طرح کی پیشگوئی کی ہے۔ ایک ترجمان نے بتایا کہ19-20 جنوری کے دوران بکھرے ہوئے مقامات پر ہلکی برف ہوگی تاہم22 تا 24 جنوری تک مطلع ابر آلود رہے گا اور22 گھنٹوں کے دورانیہ میں زیادہ تر مقامات پر ہلکی سے درمیانی بارش/برفباری کا امکان ہے۔ ترجمان نے مزید کہا کہ 23-24 جنوری کے دوران پیر پنجال، وادی چناب اور جنوبی کشمیرکے چند اضلاع میں تیز بارش/برفباری کا امکان ہے۔ ترجمان نے مزید کہا کہ چند خطرناک مقامات پر لینڈ سلائیڈنگ کا بھی امکان ہے اور بھاری برفباری کے نتیجے میں لداخ،گریز، کرناہ اور سنتھن ٹاپ کے علاقوں میں روڑ بند ہونے کے امکانات ہیں۔محکمہ موسمیات نے بتایا کہ شوپیان میں کم سے کم درجہ حرارت منفی 6.7 ڈگری سیلسیس جبکہ پہلگام میں منفی 6 ڈگری سیلسیس ریکارڈ کیا گیا۔ گلمرگ میں منفی 5.6 ،قاضی گنڈمیں منفی 4.8 ، کوکرناگ میںمنفی 2.2 اور کپوارہ میں منفی 4.8 ڈگری سیلسیس ریکارڈ کیا گیا۔وادی کشمیر اس وقت ‘چِلا کلاں’ کے درمیان ہے، جو کہ 40 دن کا سخت ترین موسم سرما ہے، جس کے دوران رات کا درجہ حرارت اکثر نقطہ انجماد سے کئی ڈگری نیچے گر جاتا ہے، اور برف باری کے امکانات سب سے زیادہ ہیں۔محکمہ موسمیات نے کہا ہے کہ یکے بعد دیگرے ویسٹرن ڈسٹربنس کشمیر کو متاثر کرے گا، جس سے اگلے چند دنوں میں موسم کی صورتحال خراب رہ سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ 19 اور 20 جنوری کو ہلکی سے درمیانی بارش/برفباری کا امکان ہے۔21 جنوری کو اونچائی پر ہلکی برفباری،جس کے بعد 25 جنوری تک ہلکی سے درمیانی بارش یا برفباری اور وادی چناب کے چند اضلاع، پیر پنجال رینج اور جنوبی کشمیر میں 23 سے 24 جنوری تک شدید بارش یا برف باری ہو سکتی ہے۔