پرویز احمد
سرینگر //تھائرایڈ کے امراض، خاص طور پر ہائپوتھائیرائیڈزم اور ذیلی کلینیکل ہائپوتھائرائڈزم سے متاثر جموں اور کشمیرمیں بہت زیادہ پائے جاتے ہیں، جن کے مطالعے سے ظاہر ہوتا ہے کہ بعض آبادیوں میں اس کی شرح 33 فیصد سے زیادہ ہے۔ خواتین اور 18-60 سال کی عمر کے افرادعام طور پر متاثر ہورہے ہیں۔تھائرائڈ کے لحاظ سے خطے کو ایک اعلیٰ خطرہ والا علاقہ تصور کیا جاتا ہے، جس میں ذیلی طبی ہائپوٹائرائڈزم سب سے زیادہ عام شکل ہے۔جموں و کشمیر میں 35فیصد لوگوں کا’’ تھائرائیڈ گلینڈ‘‘ معمول کے معلوم کے مطابق کام نہیں کرتا ہے۔تھائرائیڈ گلینڈکے صحیح طریقے سے کام نہ کرنے کی وجہ سے کسی میں زیادہ اور کسی میں کم تھائرو زائن ہارمون پیدا ہوتا ہے۔
تھائرائڈ ایک تتلی کی شکل کا اینڈوکرائن غدود ہے جو گردن کے سامنے ہارمونز کے اخراج کے ذریعے جسم کے میٹابولزم اور توانائی کے استعمال کو کنٹرول کرتا ہے۔تھائیرائڈ ہارمونز پیدا کرتا ہے جو دل کی دھڑکن، بلڈ پریشر، جسمانی درجہ حرارت اور وزن کو کنٹرول کرنے کے علاوہ، عمل انہضام کو منظم کرنے اور جسم کے بہت سارے امراض کو کنٹرول بھی کرتا ہے اور اسکی وجہ بھی بنتا ہے۔تھائرائڈگلینڈ سے پیدا ہونے والے thyroxineہارمون کی کمی اور زیادہ سے پیدا ہونے والی بیماری کو عام لفظوں میں’’ تھائرائڈ‘‘ کی بیماری کہاجاتا ہے اور یہ بیماری کافی تیزی سے بڑھ رہی ہے۔
تھائرائڈ کی ماہر معالج ڈاکٹرروبینہ نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا ’’یہ بیماری ہارمون کی کمی اور زیادہ ہونے سے ہوتی ہے‘‘۔ انہوں نے کہا کہ دونوں صورتوں میں یہ انسانوں کی کئی بیماریوں کا سبب بنتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب thyroxineہارمون زیادہ ہوتاہے تو یہ وزن بڑھنے،تھکاوٹ،قبض اور سردی محسوس ہوتی ہے۔ایسے مریضوں میں گھینگا(گوئٹر ) ہوتا ہے جسے غیر کینسر والی بیماری بھی کہا جاتا ہے۔جن افراد میں تھائرائڈ کم ہوتا ہے ان میںدل کی دھڑکن کم ہونا، بازوئوں اور ٹانگوں میں درد،ڈپریشن اور خواتین کے ماہواری ایام متاثر ہوجاتے ہیں۔ گورنمنٹ میڈیکل کالج سرینگر کے مطابق جموں و کشمیر میں 35فیصد لوگ تھائرائڈ کے شکار ہیں جن میں سب سے زیادہ 40فیصد مریضوں کا تعلق سرینگر شہر سے ہے۔یہاں محض 2فیصد لوگ ہی تھائرائڈ زیادہ ہونے کی وجہ سے ہائپرتھائرائڈ کے شکار ہیں جبکہ 33فیصد مریض تھائرائڈ ہارمون کم ہونے کی وجہ سے ہائیپو تھائرائڈزم کے شکار ہیں۔