ڈیلی ویجروںکا احتجاج سیاسی طور پرآمادہ ،کمیٹی تشکیل دی گئی، باقاعدہ بنایا جائے گا:سریندر چودھری
عظمیٰ نیوزسروس
جموں//جموں و کشمیر کے نائب وزیر اعلیٰ سریندر چودھری کا مطالبہ ہے کہ جموں وکشمیر کو ضرورتوں کے مطابق یونین ٹریٹری کے بجائے ایک ریاست کی طرح کا خصوصی پیکیج ملنا چاہئے۔انہوں نے پیر کو جموں وکشمیر اسمبلی کے بجٹ اجلاس سے قبل نامہ نگاروں کو بتایا’’جموں و کشمیر کی ضرورتیں ایک ریاست کی جیسی ہیں گرچہ ہم ایک یونین ٹریٹری ہیں، آج جب بجٹ آئے گا تو ہمیں ریاست کی طرح کا خصوصی پیکیج ملنا چاہئے‘‘۔انہوں نےکہا’’’جموں وکشمیر میں گذشتہ 11برسوں کے دوران بے روزگاری میں اضافہ ہوا ہے، اس کے بعد کچھ واقعے ہوئے جیسے سیلاب آئے، پہلگام واقعہ ہوا جس سے ہمارے شعبہ سیاحت کو کافی نقصان ہوا اور اس کے علاوہ کئی ایسے شعبے ہیں جن کو دوبارہ اپنے پائوں پر کھڑا کرنے کی ضرورت ہے لہٰذا ہمیں ایک خصوصی پیکیج کی ضرورت ہے‘‘۔وزیر اعلیٰ اور وزیر داخلہ کے درمیان ملاقات کے بارے میں پوچھے جانے پر ان کا کہناتھا’’جو باتیں کمرے میں ہوتی ہیں وہ راز کی باتیں ہوتی ہیں‘‘۔ریاستی درجے کی بحالی کے بارے میں پوچھے جانے والے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے نائب وزیر اعلیٰ نےکہا’’ریاستی درجے کی بحالی کا مطالبہ صرف ہمارا نہیں ہے بلکہ بی جے پی کے لیڈروں نے بھی الیکشن کے دوران لوگوں سے وعدہ کیا کہ الیکشن ختم ہونے کے بعد جموں و کشمیر کو ریاستی درجہ واپس دیا جائے گا‘‘۔انہوں نےکہا’’اب وقت آگیا ہے کہ بی جے پی کے لیڈروں سے پوچھا جائے کہ وہ جموں وکشمیر کے ریاستی درجے کو بحال کریں‘‘۔سریندرکمار چودھری نے پیر کے روز کہا کہ پاکستان کے کھیلوں سے متعلق فیصلے بھارت یا جموں و کشمیر پر کوئی اثر نہیں ڈالیں گے، اور اس سلسلے میں سیاست کو کھیلوں سے الگ رکھنا چاہیے۔ نائب وزیراعلیٰ نے کہا’’اگر پاکستان نہیں کھیلتا تو کیا فرق پڑتا ہے؟ بھارت ایک بڑا ملک ہے اور پاکستان کے اقدامات کا ہم پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔ ہمیں اس معاملے پر زیادہ توجہ نہیں دینی چاہیے۔‘‘نائب وزیراعلیٰ نے جموں میں نیشنل لاء یونیورسٹی کے قیام کے لیے جاری طلبہ تحریک اور بی جے پی کی حمایت پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ چھوٹے مسائل پر ہنگامہ پیدا کرنے سے بڑے مسائل حل نہیں ہوتے۔ انہوں نے کہا کہ ریاست کی بحالی کے وعدے کو واضح کیا جائے کیونکہ صرف ریاستی حیثیت کی واپسی سے جموں کو حقیقی فائدہ ہوگا۔چودھری نے عمر عبداللہ کی قیادت میں حکومت کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ دربار موو کی بحالی نے جموں میں اقتصادی سرگرمیوں کو فروغ دیا اور مقامی کاروبار میں اضافہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ تمام طبقات کو اس فیصلے سے فائدہ پہنچا ہے اور جموں میں کسی قسم کی تفریق نہیں ہوئی۔نائب وزیراعلیٰ نے کہا کہ اہم مسائل میں ریاست کی بحالی، زمین کے حقوق کا تحفظ، مقامی افراد کے لیے روزگار کے مواقع اور یونیورسٹیوں میں مقامی وائس چانسلرز کی غیر موجودگی شامل ہیں۔ انہوں نے سیاسی جماعتوں پر زور دیا کہ وہ عوامی مسائل پر توجہ دیں بجائے چھوٹے معاملات اٹھانے کے۔مرکزی وزیر داخلہ کے ساتھ وزیر اعلیٰ کی حالیہ ملاقات کے حوالے سے اٹھائے گئے سوالات پر نائب وزیر اعلیٰ نے مؤقف اختیار کیا کہ اس نوعیت کی ملاقاتوں کی تفصیلات صیغہ راز میں رہتی ہیں اور بجٹ پیش ہونے کے بعد ہی تمام امور عوام کے سامنے واضح ہو جائیں گے۔چوہدری نے پیر کو جاری ڈیلی ویجرز کے احتجاج کو سیاسی طور پرآمادہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ معاملہ چند افراد کی طرف سے سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے، نہ کہ حقیقی مزدوروں کی فلاح کے لیے۔ چوہدری نے کہا کہ کچھ منتخب افراد نے خود کو ڈیلی ویجرز کا لیڈر بنا کر پیش کیا ہے اور اس مسئلے کو سیاسی رنگ دیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ معاملہ اس طرح کا نہیں ہے جیسا دکھایا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا’’ہمارے چیف منسٹر نے پہلے ہی ایک کمیٹی تشکیل دی ہے اور ہمیں معلوم ہے کہ اس مسئلے کو کس طرح حل کرنا ہے۔ ڈیلی ویجرز کو باقاعدہ کیا جائے گا‘‘۔چوہدری نے یقین دلایا کہ حکومت اس معاملے کو ایک منظم اور قانونی طریقہ کار کے ذریعے حل کرنے کے لیے پرعزم ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت اپنی توجہ حکمرانی اور فلاحی اقدامات پر مرکوز رکھے گی اور ان احتجاجوں سے متاثر نہیں ہوگی جنہیں انہوں نے سیاسی طور پر منظم قرار دیا۔ ڈپٹی چیف منسٹر نے دہرایا کہ چیف منسٹر کی جانب سے تشکیل دی گئی کمیٹی باقاعدگی سے متعلق تمام پہلوؤں کا جائزہ لے گی اور مناسب فیصلے کرے گی۔