جموں وکشمیرمیں ہانگل کی تعدادمحض237تک سمٹ گئی

سرینگر //عالمی یوم جنگلی حیات کے سلسلے میں  جموں وکشمیر میں ہفتہ بھر کی تقریبات کا انعقاد کیا جا رہا ہے، وہیں تشویشناک پہلو یہ ہے کہ آج بھی ہانگل کی تعدادمحض237تک ہی سمٹ کر رہ گئی ہے ۔ تاہم ہانگل کی اس تعداد سے متعلقہ محکمہ مطمئن ہے۔ ایک تخمینے کے مطابق 1990میں ہانگل کی تعداد 5ہزار کے قریب بتائی جاتی تھی ۔محکمہ جنگلی حیات کی جانب سے ہر دو ماہ میں ہانگلوں کی سروے کی جاتی ہے۔ سال2017میں جو سر شماری ہوئی ،اس کے مطابق ہانگل کی تعداد 214بتائی گئی تھی جبکہ2019میں ان کی تعداد میں تھوڑااضافہ ہوااور یہ237تک پہنچ گئی اور اس طرح 2برسوں کے دوران ہانگل کی تعداد میں 23کا اضافہ ہوا  ۔محکمہ کے چیف وائلڈ لائف وارڈن جے اینڈ کے سریش کمار گپتا نے کشمیر عظمیٰ کے ساتھ بات کرتے ہوئے کہا کہ انہیں اُمید ہے کہ ہانگل کی تعداد میں اضافہ ہوگا کیونکہ ان کے تحفظ کے حوالے سے محکمہ نے ہر ممکن کوشش کی ہے ۔انہوں نے کہا کہ سال2019میں جو آخری سروے ہوئی، اس میں ہانگل کی تعداد 237تھی اور آنے والوں دنوں میں محکمہ ایک اور سروے بھی کر رہا ہے ۔انہوں نے کہا کہ 1990میں جب جموں وکشمیر میں حالات کشیدہ ہو گئے ،توجنگلات میں کوئی بھی جانے کیلئے تیار نہیں ہوا ۔اس دوران جنگلات کی کٹائی ہوئی جس سے ان کی تعداد میں بھی کمی آئی لیکن اب محکمہ اس جانب پوری توجہ دے رہا ہے تاکہ جنگلوں میں موجود جنگلی حیات کا تحفظ یقینی بنایا جائے ۔انہوں نے کہا کہ گذشتہ سال گاندربل ضلع کے وانگت علاقہ کے ناراناگ جنگل میں چھ سے آٹھ نایاب ہانگل دیکھے گئے جبکہ ترال شکار گاہ وائلڈ لائف جنگلی علاقے میں بھی گزشتہ سال سے ہانگل کی ایک کثیر تعداد دکھائی دے رہی ہے جس سے اس بات کی تصدیق ہوتی ہے کہ ہانگل کی تعداد میں اب آہستہ آہستہ اضافہ دیکھا جارہا ہے۔انہوں نے لوگوں سے کہا کہ اس وقت جو جنگلی جانور بستیوں میں کبھی کبار جنگلوں سے بھٹک کر آجاتے ہیں ان کے ساتھ نہ چھڑیں کیونکہ اس سے نہ صرف انہیں خطراہ لاحق ہو جاتا ہے بلکہ کبھی جنگلی جانوا بھی انسانوں کے غضب کا شکار ہو جاتے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ جنگلی حیات کا تحفظ صرف حکومت یا متعلقہ اداروں کی نہیں بلکہ ہر انسان کی بنیادی ذمہ داری ہے،عوام کی شمولیت اورمدد کے بغیر جنگلی حیات کے تحفظ کا کام نہیں کیاجاسکتا۔ہمیں اپنے بچوں کو بچپن سے ہی جنگلی حیات کے تحفظ کے بارے میں آگاہ کرنا چاہئے۔