جموں میں ہوٹل خالی ،تجارتی سرگرمیاں ماند پڑگئیں

جموں//کوروناوائرس کے خوف کی وجہ سے جموں میں لوگ اب گھروں میں ہی رہنے کو ہی ترجیح دے رہے ہیں جس کے نتیجہ میں تجارتی سرگرمیاں ماند پڑ گئیں اور ٹرانسپورٹ سیکٹر غیر یقینی صورتحال سے دوچار ہے جس سے کاروباری حلقہ تشویش میں مبتلا ہوچکا ہے۔پرانے جموں شہر کے کنک منڈی ،رگھو ناتھ بازار،سٹی چوک(اب بھارت ماتا چوک)،پٹیل بازار،پرانی منڈی ،راجندرا بازار،لکھداتا بازار،جین بازار اور دیگر بازاروں میں لوگوںکی تعداد میں نمایاں کمی واقع ہوگئی ہے اور بہت کم تعداد میں لوگوںکو ان بازاوں میں دیکھاجارہا ہے۔اسی طرح ویو مال ،بگ بازار،بیسٹ پرائس اور وشال میگا مارٹ کے علاوہ وی مارٹ جیسے شاپنگ مال ،سویمنگ پول ،جموں پریس کلب اور دیگر تفریحی کلب بند ہوچکے ہیں جبکہ تعلیمی ادارے پہلے سے ہی بند ہیں۔ان حکومتی اقدامات کے نتیجہ میں لوگ الرٹ ہوچکے ہیں اور انہوںنے گھروں سے غیر ضروری طور باہر نکلنا تقریباً چھوڑ دیا ہے جس کے نتیجہ میں بازار ویران پڑے ہیں جبکہ تھوک اور پرچون بازاروں میں خریداری نہ ہونے کے برابر ہورہی ہے۔جموں ہیریٹیج سوسائٹی کے صدر بلدیو کھلر نے بتایا’’شہر میں بیشتر دکانات بھونی کئے بغیر ہی بند ہوجاتے ہیں۔کاروبار میں 60سے70فیصد کمی آئی ہے کیونکہ لوگوں خریداری کیلئے آ ہی نہیں رہے ہیں‘‘۔کھلر نے مزید کہا’’شاپنگ مال،سکول اور دیگر مقامات بند کرنے کے بعد لوگ خوف زدہ ہوچکے ہیں اور وہ باہر نکلنے سے ہچکچارہے ہیں جس کے نتیجہ میں بازاروں کی گہما گہمی ماند پڑ چکی ہے اور بازار سنسان پڑے ہیں ،نتیجہ کے طور پر خریداری نہیں ہورہی ہے اور تاجر طبقہ متاثر ہورہا ہے‘‘۔انہوںنے تاہم کہا کہ یہ احتیاطی اقدامات ضروری ہیں اور امید ہے کہ بہت جلد حالات معمول پر لوٹیں گے تاکہ کاروباری سرگرمیاں دوبارہ بحال ہوسکیں۔کاروباری سرگرمیوں کی طرح ہی سیاحتی سرگرمیاں بھی ٹھپ ہیں۔جموں شہر کے سارے ہوٹل خالی پڑے ہیں اور مکمل ویرانی چھائی ہوئی ہے۔شہر کے معروف ہوٹلیئر اندرجیت کھجوریہ نے بتایا’’کوئی جموں نہیں آرہا ہے۔پیشگی جن لوگوںنے ہوٹل بُک کئے تھے ،انہوںنے بکنگ منسوخ کرائی ۔لوگوں میں خوف ہے،یہاں تک ہوٹل عملہ بھی ایک دوسرے سے کترا رہا ہے‘‘۔کھجوریہ کامزید کہناتھا’جس طرح اشتہارات جاری کئے جارہے ہیںاور موبائل فونوںپر کالر ٹونوں کے ذریعے مہم چلائی جارہی ہے ،اس سے لوگ مزید محتاط ہوچکے ہیں اور وہ تمام ضروری احتیاطی اقدامات اٹھارہے ہیں‘‘۔کھجوریہ نے کہا کہ جموں کے شہری حدود میں 300کے قریب ہوٹل ہیں اور سب کے سب خالی پڑے ہیں‘‘۔ایک نوجوان ہوٹلیئر سوربھ گپتا نے بتایا’’ستر فیصد کام ختم ہوچکا ہے۔اگلے ماہ کی بکنگ بھی منسوخ کی گئی ہیں۔موجودہ حالات میں لوگ شش و پنج میں مبتلا ہیں کہ وہ جموں آئیں یا نہیں۔گزشتہ پانچ روز میں ہمارے ہوٹل کے صرف4کمرے ہی بُک ہوئے‘‘۔ ہوٹلوں کی طرح ٹرانسپورٹ سیکٹر بھی بے حال ہے ۔جموں شہر میں پبلک ٹرانسپورٹ متاثر ہے ۔مسافر گاڑیوں میں مسافروںکی تعداد میں نمایاں کمی آچکی ہے اور بین ضلعی ٹرانسپورٹ میں بھی مسافر بہت کم دکھائی دے رہے ہیں۔آل جموںوکشمیر ٹرانسپورٹ ویلفیئر ایسو سی ایشن صدر وجے شرما نے بتایا’’مسافر بسوں میں مسافروںکی تعداد کافی کم ہوئی ہے ۔بین ضلعی ٹریفک ہو یا اندرون شہر ،ہر روٹ پر مسافر کم ہوچکے ہیں۔جموں ۔کٹھوعہ،جموں ۔پونچھ ،جموں ۔بانہال ،جموں ۔کشتواڑ ،جموں۔ڈوڈہ یا دیگر دیگر روٹوں ہوں ،ہر روٹ پر بہت کم مسافر سفر کررہے ہیں اور لوگ سفر کرنے سے احتراز کررہے ہیں‘‘۔قابل ذکر ہے کہ حکومت نے لوگوںکو بھیڑ بھاڑ والے علاقوں سے دور رہنے اور پبلک ٹرانسپورٹ کے کم سے کم استعمال کا مشورہ دیا ہوا ہے ۔اس دوران جموں شہر میں میونسپل کارپوریشن کی جانب سے صفائی مہم بھی جاری ہے ۔