جموں// لداخ میں حقیقی کنٹرول لائن پر چینی فوج کے حملے کے خلاف مختلف جماعتوں و تنظیموں بشمول ڈوگرہ فرنٹ، وی ایچ پی اور بجرنگ دل نے بدھ کے روز یہاں احتجاج درج کرتے ہوئے چینی مصنوعات کو نذر آتش کردیا۔ احتجاجیوں کا کہنا تھا کہ چین کبھی بھی بھارت کا دوست نہیں ہوسکتا ہے بلکہ وہ دوستی کا ہاتھ بڑھا کر ہمارے ملک کے ساتھ غداری کرتا ہے۔جموں کے مضافات دومانا میں احتجاج کرنے والے لوگوں نے جموں اکھنور شاہراہ پر گاڑیوں کے ٹائر جلا دیے جس کی وجہ سے اس پر گاڑیوں کی آمدورفت قریب ایک گھنٹے تک معطل رہی۔ احتجاجی لوگ ’بندے ماترم‘، انڈین آرمی زندہ باد‘ جیسے نعرے لگا رہے تھے۔ اس موقع پر ایک احتجاجی نے نامہ نگاروں کو بتایا،’’'چین نے طے شدہ معاہدوں کی خلاف ورزی کی ہے۔ سرحد پر ہمارے فوجی شہید ہوئے ہیں۔ چین نے ہمارا بھروسہ توڑ دیا ہے۔ دنیا میں انڈین آرمی تیسرے نمبر پر ہے لیکن ہمارا ماننا ہے کہ یہ نمبر ون پر ہے‘‘۔ادھر جموں میں دوران احتجاج ایک احتجاجی نے میڈیا کو بتایا کہ چین ایک طرف دوستی کا ہاتھ تو بڑھاتا ہے لیکن دوسری طرف ہمارے ملک کے ساتھے غداری کررہا ہے۔انہوں نے کہا،’’ہم آج یہ احتجاج چین کی طرف سے کئے گئے حملے کے خلاف درج کررہے ہیں۔ چین ایک طرف دوستی کا ہاتھ تو بٹاتا ہے لیکن دوسری طرف ہمارے ملک کے ساتھ غداری کرتا ہے‘‘۔موصوف احتجاجی نے کہا کہ چین دہرا معیار اپنا رہا ہے اور اب پاکستان کے علاوہ نیپال کو بھی بڑھاوا دے رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ چین دنیا میں ایک اقتصادی طاقت بننے کے چکر میں لگا ہوا ہے اور دوسروں کی زمینیں ہڑپ رہا ہے لیکن بھارت اس کو اس میں کامیاب نہیں ہونے دے گا۔موصوف احتجاجی کا کہنا تھا کہ ہندوستان کسی بھی ملک کے سرحد کے اندر بلا وجہ داخل نہیں ہوتا ہے اور نہ ہی کسی کے ساتھ دشمنی کی شروعات کرتا ہے بلکہ ہمشیہ دوستی کا ہی ہاتھ بڑھاتا ہے لیکن چین کی نیت ٹھیک نہیں ہے۔احتجاجیوں کا کہنا ہے کہ بھارتی فوج چین کا جواب بلٹ سے دے گی اور ہم ویلٹ سے دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ہم چینی مصنوعات کا بائیکاٹ کر کے چین کوختم کردیں گے۔ڈوگرہ فرنٹ سے تعلق رکھنے والے احتجاجی چین مخالف نعرے لگا رہے تھے اور چینی ساخت کی چیزوں موبائل سیٹوں وغیرہ کو آگ کے ڈھیر میں ڈال رہے تھے۔ اس موقع پر ایک احتجاجی نے میڈیا کو بتایا کہ ہم چینی مصنوعات کا بائیکاٹ کر کے چین کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کریں گے۔انہوں نے کہا،’’آج کا ہندوستان سال 1962 کا ہندوستان نہیں ہے۔ وہ (چین) جس سے فوج کو چلاتا ہے (نذر آتش ہو رہے چینی مصنوعات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے) ہم اسی کا بائیکاٹ کریں گے اور چین کو ختم کریں گے‘‘۔موصوف احتجاجی نے کہا کہ چین باقی ملکوں کو قرضہ دے کر ہندوستان کا گھیراؤ کررہا ہے ہم جب بائیکاٹ کریں گے تو وہ کہاں سے پیسہ لائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ہماری فوج ان کا بلٹ سے جواب دے گی اور ہم ویلٹ سے جواب دے کر اس کی ریڑھ کی ہڈی توڑ دیں گے۔موصوف نے کہا کہ ہماری فوج کو دھوکہ میں لایا گیا اور پھر ان پر حملہ کیا گیا۔بجرنگ دل اور وی ایچ پی کے کارکنوں نے بھی چین کے خلاف احتجاج درج کرتے ہوئے 'بھارت ماتا کی جے، بندے ماترم اور چائنا ہائے ہائے' جیسے نعرے لگائے۔ بجرنگ دل جموں وکشمیر یونٹ کے صدر راکیش بجرنگی نے احتجاج کے حاشیے پر نامہ نگاروں کو بتایا،’’چین نے ہمارے بیس فوجیوں کو شہید کر کے ایک بزدلانہ حرکت انجام دی ہے۔ جس طرح پاکستان سے 18 فوجیوں کا بدلہ لیا گیا تھا اسی طرح ان بیس فوجیوں کی ہلاکت کا بھی بدلہ چاہیے‘‘۔ دریں اثنا لداخ میں چین کے بھارتی فوج پر حملے کے خلاف بدھ کے روز یہاں بی جے پی کے جموں وکشمیر یونٹ کے کارکنوں نے احتجاج درج کرتے ہوئے چین کے جھنڈے اور چینی صدر کے پتلے کو نذر آتش کردیا۔احتجاجیوں نے چین مخالف نعرے بازی کرتے ہوئے چین کے جھنڈے کے ساتھ چین کے صدر شی جن پنگ کے پتلے کو بھی نذر آتش کردیا۔اس موقعہ پر ایک احتجاجی نے میڈیا کو بتایا کہ چین نے جو یہ گھناؤنی حرکت کی ہے اس کا جواب دیا جانا چاہئے۔انہوں نے کہا،’’چین ایک بے ایمان ملک ہے ہمیں ہوشیار رہنا چاہئے۔ چین نے جو یہ گھناؤنی حرکت کی ہے، میں کہتا ہوں کہ بھارت کو بھی زبردست حملہ کرنا چاہئے‘‘۔ایک اور احتجاجی نے کہا کہ ہمیں زیادہ سے زیادہ چینی مصنوعات کا بائیکاٹ کرنا چاہئے۔ ان کا کہنا تھا،’’چین کے خلاف مرکزی حکومت کام کررہی ہے ہمیں چاہئے کہ زیادہ سے زیادہ چینی مصنوعات کا بائیکاٹ کریں اور دیشی چیزوں کا زیادہ سے زیادہ استعمال کریں تاکہ دیش بھی مزید مضبوط ہوجائے‘‘