جموں//پولیس حراست میں عصمت دری کے ایک ملزم کی مشکوک حالات میں موت ہوگئی، جس کے بعد شہر کے جانی پور علاقہ میں حالات کشیدہ ہو گئے اور متوفی کے رشتہ دار وں کی طر ف سے جم کر پولیس مخالف مظاہرے کئے گئے۔ دریں اثنا انتظامیہ نے معاملہ کی مجسٹریل انکوائری کا حکم صادر کر دیا ہے ۔ ذرائع نے بتایا کہ 50سالہ سبھاش چندر عرف کاکا ساکن جانی پور جموںکو پولیس نے 2فروری کو اس وقت حراست میں لیا تھا جب ایک نا بالغ بچی کے اہل خانہ نے اس کے خلاف عصمت دری کی شکایت جانی پور پولیس تھانہ میں درج کروائی تھی۔ اسے 10دن کی پولیس ریمانڈ میں دیا گیا تھا جہاں آج صبح تین بجے کے قریب اس نے تکلیف کی شکایت کی جس کے بعد اسے جموں میڈیکل کالج ہسپتال لے جایا گیا لیکن ڈاکٹروں نے اسے مردہ قرار دے دیا۔ سرکاری ذرائع نے بتایا کہ ماہر ڈاکٹر وں پر مشتمل ایک میڈیکل بورڈ نے اس کا پوسٹ مارٹم کیا جس کے بعد اس کی نعش لواحقین کے سپرد کر دی گئی ہے ۔ اس سے قبل جونہی سبھاش چندر کی موت کی خبر پھیلی تو اس کے رشتہ دار وں کے ساتھ ساتھ علاقہ کے دیگر لوگ جانی پور کے مین چوک پر جمع ہو گئے اور انہوں نے سڑکوں پر ٹائر جلا کر گاڑیوں کی آمد ورفت بند کردی۔ وہ معاملہ کی مفصل انکوائری اور ایس ایچ او کو معطل کرنے کا مطالبہ کر رہے تھے۔ دریں اثنا ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ جموں راجیورنجن نے معاملہ کی مجسٹریٹی انکوائری کا حکم جاری کر دیا ہے، ایس ڈی ایم نارتھ جموں محمد الیاس خان کو انکوائری افسر مقرر کر کے انہیں چار ہفتہ کے اندر انکوائری رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت دی گئی ہے ۔