عظمیٰ نیوزسروس
جموں// گورنمنٹ میڈیکل کالج جموں کے طبی ملازمین نے بدھ کے روز مسلسل دوسرے دن بھی اپنی ہڑتال جاری رکھی اور اسپتال کے احاطے میں 2.5 دن کی تنخواہ کٹوتی کے خلاف احتجاج کیا۔احتجاج میں بڑی تعداد میں ملازمین نے شرکت کی، جنہوں نے نعرے بازی کی اور پلے کارڈز اٹھا کر انصاف اور کٹی ہوئی تنخواہوں کی فوری ادائیگی کا مطالبہ کیا۔جاری احتجاج کے باعث اسپتال میں مریضوں کی دیکھ بھال متاثر ہونا شروع ہو گئی ہے، اور گزشتہ دو دنوں سے عملہ احتجاج میں مصروف ہونے کے باعث خدمات متاثر ہونے کی اطلاعات ہیں۔یہ مظاہرہ طبی عملے میں بڑھتی ہوئی بے چینی کو ظاہر کرتا ہے، جن کا کہنا ہے کہ تنخواہ میں کٹوتی بلا جواز ہے اور بغیر کسی مناسب وضاحت کے کی گئی ہے۔جی ایم سی اور اس سے منسلک اسپتالوں کی میڈیکل ایمپلائز یونین کے صدر ارون کمار شرما نے نیوز ایجنسی کشمیر نیوز ٹرسٹ کو بتایا کہ اگر حکومت نے ردعمل ظاہر نہ کیا تو احتجاج میں شدت لائی جائے گی۔انہوں نے کہا’’ہم اپنی 2.5 دن کی کٹی ہوئی تنخواہ کی ادائیگی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ ہم دن رات محنت کرتے ہیں، اس کے باوجود ہماری اجرت کاٹ لی گئی ہے‘‘۔انہوں نے خبردار کیا کہ اگر مطالبات پورے نہ کیے گئے تو ملازمین سڑکوں پر آنے پر مجبور ہوں گے۔انکاکہناتھا’’اگر تنخواہ جاری نہ کی گئی تو ہم سڑکوں پر نکلیں گے، اور اگر مریضوں کی دیکھ بھال متاثر ہوتی ہے تو اس کی ذمہ داری حکومت پر ہوگی‘‘۔شرما نے یہ بھی کہا کہ جاری احتجاج کے باوجود اب تک حکومت کی جانب سے کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا۔دریں اثنا، مریضوں اور تیمارداروں نے معمول کی خدمات میں خلل کی شکایات کیں، جس سے ہڑتال کے اسپتال کے نظام پر اثرات واضح ہو رہے ہیں۔قابل ذکر ہے کہ اسی مطالبے کے حوالے سے اس سے قبل 12 مارچ کو گورنمنٹ میڈیکل کالج (جی ایم سی) سری نگر میں بھی اسی نوعیت کا احتجاج کیا گیا تھا۔