ہر شہری کی حفاظت اور فلاح و بہبود یقینی بنانے کیلئے کوئی دقیقہ فرو گزاشت نہیں کیاجائیگا:رانا
عظمیٰ نیوزسروس
جموں//وزیر برائے جل شکتی، جنگلات و ماحولیات اور قبائلی امور محکمہ جات جاوید احمد رانا نے دریائے توی کے کنارے کے باندھوں کو مستحکم کرنے کے دو اہم پروجیکٹوں کا سنگ بنیاد رکھا جن کا مقصد دریا کے کناروں کو مضبوط کرنا اور مستقبل کے سیلاب کے خطرات سے حساس علاقوں کی حفاظت کرنا ہے۔اِن پروجیکٹوںمیں بکرم چوک اَپ سٹریم پر دریائے توی کے بائیں کنارے پر مٹی کے باندھوں کی بحالی شامل ہے جس پر 3.05 کروڑ روپے لاگت آئے گی اور اسے چھ سے نو ماہ میں مکمل کیا جائے گا۔ اِسی طرح ہری سنگھ پارک کے قریب دائیں کنارے پر تباہ شدہ سیلاب سے بچائو کے کاموں کی تعمیر کے لئے 82 لاکھ روپے مختص کئے گئے ہیں، جسے دو برس کے اندر مکمل کیا جائے گا۔اِس موقعہ پر رُکن اسمبلی جموں ایسٹ یدھویر سیٹھی، چیف اِنجینئر آئی اینڈ ایف سی منوج گپتا، آبپاشی و فلڈ کنٹرول محکمہ، جل شکتی (پی ایچ اِی) محکمہ اور دیگر متعلقہ اِداروں کے اَفسران، مقامی نمائندے اور شہری بھی موجود تھے۔جاوید رانا نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یہ منصوبے سیلابی مزاحمت کو نمایاں طور پر بہتر بنائیں گے اور اہم بنیادی ڈھانچے اور رہائشی علاقوں کو مستقبل کے خطرات سے محفوظ رکھیں گے۔ اُنہوں نے دریائے توی کو جموں کی شان قرار دیتے ہوئے عمر عبداللہ کی حکومت کے اس عزم کا اعادہ کیاکہ وہ اس کے تحفظ اور خوبصورتی کے لئے تمام ضروری اَقدامات اُٹھائے گی۔اُنہوں نے کہا،’’دریائے توی کے ساتھ بڑے پیمانے پر دریا کے تحفظ کا یہ اقدام سیلاب سے بچاؤ اور خطے میں جان و مال کے تحفظ کے لئے ہمارے عزم کی عکاسی کرتاہے۔ ہر شہری کی حفاظت اور فلاح و بہبود کو یقینی بنانے کے لئے کوئی دقیقہ فرو گزاشت نہیں کیاجائے گا۔‘‘باندھوںکی بحالی اور کناروں کے تحفظ کے یہ کام دریا کے فلڈ مینجمنٹ انفراسٹرکچر میں موجود دیرینہ خطرات کو دور کرنے کے لئے ڈیزائن کیا گیا ہے ۔ مجوزہ کاموں میں کریٹ ریویٹمنٹس کی تعمیر،کنکریٹ پینلز کے ساتھ موجودہ ڈھانچے کو مضبوط کرنا اور کٹاؤ زدہ حصوں کو مستحکم کرنے کے لئے ضروری بیک فلنگ شامل ہے۔وزیرجل شکتی جاوید رانا نے مزید کہا کہ ایسے منصوبے یونین ٹیریٹری میں فلڈ کنٹرول اور آبی وسائل کے بنیادی ڈھانچے کو جدید بنانے کی ایک وسیع حکمت عملی کا حصہ ہیںجو مرکزی اور یو ٹی سطح کی جاری سکیموں کی تکمیل کرتے ہیں۔اُنہوں نے یہ بھی بتایا کہ حالیہ سیلاب سے ہونے والے تمام نقصانات کو ترجیحی بنیادوں پر پورا کیا جائے گا اور متاثرہ علاقوں کے لئے بروقت اِمداد اور طویل مدتی استحکام کو یقینی بنانے کے لئے ضروری بحالی اور حفاظتی کاموں کی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے۔