سرینگر//’اپنی پارٹی‘ صدر سید محمد الطاف بخاری نے کہا ہے کہ جموں وکشمیر کوجمہوری نظام ِ حکومت میں دی گئی آئینی ضمانت سے محروم رکھنے سے خطہ کے عوام میں بیگانگی میں اضافہ ہورہا ہے۔ بخاری شوپیان کے پارٹی ورکروں سے خطاب کر رہے تھے۔ سالانہ در بار موسے متعلق انہوںنے کہا کہ ’ اپنی پارٹی‘ جموں اور کشمیر صوبوں کے درمیان مزید کسی قسم کی تقسیم کی اجازت نہیں دے گی۔ انہوں نے کہاکہ سالانہ دربار مو ایک ثقافتی تبادلے کی علامت اور دونوں خطوں کے لوگوں کیلئے اقتصادی موقع تھاجس کو من مانی کر کے ختم نہیں کیا جاسکتا۔ اِس صدیو ں پرانی روایت کو ختم کرنے کا مطلب دونوں صوبوں کے لوگوں کے درمیان جذباتی دوری قائم کرنا ہے۔ بخاری نے عوامی حکومت بحال کرنے کی ضرورت پرزور دیتے ہوئے کہاکہ مسلسل ہنگامہ خیز صورتحال کے ساتھ ساتھ طویل گورنر راج کی وجہ سے منتخب حکومت کی عدم موجودگی میں جموں وکشمیر کے لوگ خود کو الگ تھلگ محسوس کر رہے ہیں ۔ بخاری نے مزید کہا’’ہم اُن کی طرح نہیں جنہوں نے محاذ رائے شماری، اٹانومی یا سیلف رول کا نعرہ دیا، بعد میں حوس ِ اقتدار اور مراعات کی خاطر اپنے موقف کو بدل کر یہ سب ترک کر دیا، یہ وہی لوگ ہیں جنہوں نے الیکشن کے وقت دفعہ370اور35Aکی بحالی کے لئے آواز بلند کی اور بعد میں اُس قرار داد پر دستخط کئے جس میں اِس حوالے سے کوئی ذکر تک بھی نہیں کیاگیا‘‘۔258میگا واٹ ڈول ہستی پن بجلی پروجیکٹ مرحلہ دوم کو این ایچ پی سی کے حوالے کرنے پر بخاری نے کہاکہ اِس اقدام کے سنگین اور دور رس سیاسی واقتصادی نتائج ہوں گے۔ انہوں نے کہاکہ پاور پروجیکٹ کو این ایچ پی سی کے حوالے کرنیسے جموں وکشمیر کے اقتصادی مفادات اور سیاسی اختیار کو نقصان پہنچے گا۔ اِس سے جموں وکشمیر کے شہری مزید بے اختیار ہوں گے۔ انہوں نے کہاکہ جموں وکشمیر حکومت کو چاہیے کہ وہ عوامی اثاثوں کے تحفظ کے تئیں اپنے فرض کی انجام دہی میں غلطی کو دور کرے ،فوری طور پر ڈول ہستی پن بجلی پروجیکٹ مرحلہ دوم کو واپس لیا جائے تاکہ ممکنہ معاشی نقصانات کو روکنے کے علاوہ وادی چناب میں مقامی روزگار کو محفوظ بنایاجاسکے۔