عظمیٰ نیوز سروس
راجوری //جموں–پونچھ شاہراہ پر مسافر بردار گاڑیوں کی حد سے زیادہ تیز رفتاری نے مسافروں کی جانوں کو شدید خطرے میں ڈال دیا ہے۔ روزانہ کی بنیاد پر سفر کرنے والے شہریوں، طلبہ اور مقامی مکینوں نے الزام عائد کیا ہے کہ ڈرائیور حضرات ایک دوسرے سے آگے نکلنے کی دوڑ میں ٹریفک قوانین کی کھلم کھلا خلاف ورزی کر رہے ہیں، جس کے باعث کسی بھی وقت بڑا حادثہ پیش آنے کا خدشہ بڑھ گیا ہے۔مسافروں کا کہنا ہے کہ شاہراہ کے مختلف حصوں، خصوصاً نوشہرہ سے راجوری اور راجوری سے بھمبر گلی تک، ڈرائیور غیر ذمہ دارانہ انداز میں گاڑیاں چلاتے ہیں۔
اوور ٹیکنگ کے دوران نہ صرف رفتار حد سے تجاوز کر جاتی ہے بلکہ موڑوں اور تنگ مقامات پر بھی احتیاط برتی نہیں جاتی، جس سے گاڑیوں میں سوار خواتین، بچوں اور بزرگوں میں شدید خوف و ہراس پھیل جاتا ہے۔ کئی مسافروں نے بتایا کہ سفر کے دوران بارہا ایسے لمحات آئے جب انہیں اپنی جان بچانا مشکل محسوس ہوا۔مقامی لوگوں کے مطابق صورتحال کی سنگینی کے باوجود متعلقہ حکام کی جانب سے مؤثر نگرانی کا فقدان ہے۔ شاہراہ پر جگہ جگہ چیکنگ پوائنٹس کا نہ ہونا اور ٹریفک پولیس کی محدود موجودگی نے ڈرائیوروں کو کھلی چھوٹ دے رکھی ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ اگر بروقت اقدامات نہ اٹھائے گئے تو حادثات میں اضافہ ناگزیر ہو جائے گا۔طلبہ طبقہ، جو روزانہ تعلیمی اداروں تک اسی شاہراہ کے ذریعے سفر کرتا ہے، خاص طور پر پریشان دکھائی دیتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ صبح و شام کے اوقات میں گاڑیوں کی تیز رفتاری اور رش کے باعث ان کی زندگیوں کو شدید خطرات لاحق رہتے ہیں۔مسافروں، طلبہ اور مقامی مکینوں نے انتظامیہ سے پرزور اپیل کی ہے کہ فوری طور پر اس مسئلے کا نوٹس لیا جائے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ شاہراہ پر رفتار کو قابو میں رکھنے کے لیے اسپیڈ چیکنگ سسٹم نصب کیے جائیں، اضافی ٹریفک اہلکار تعینات کیے جائیں اور خلاف ورزی کرنے والے ڈرائیوروں کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے۔عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ اگر بروقت اور ٹھوس اقدامات کیے جائیں تو نہ صرف قیمتی انسانی جانوں کو بچایا جا سکتا ہے بلکہ سڑکوں پر سفر کو بھی محفوظ بنایا جا سکتا ہے۔