پونچھ//جشن مولود کعبہ ؑ کے موقعہ پر مدرسہ علمیہ امام محمد باقر علیہ السلام کے زیر اہتمام مسجد فاطمۃ الزہراء سلام اللہ علیھا میں محفل میلاد کا اہتمام کیا گیا۔اس موقعہ پر حسب دستور تلاوت کلام پاک سے محفل کا آغاز کیا گیا جس کے بعد حمد و نعت کا نذارنہ پیش کیا گیا۔محفل میںمقامی شعرائے کرام نے طرحی مصرعہ ’’آمد خدا کے گھر میں ہے نفس رسول کی‘‘ پر لکھے ہوئے اشعار پیش کئے ۔ بعدمیں خطاب کرتے ہوئے مولانا سید ظہور حسین قمی نے حضرت علی علیہ السلام کی سیرت بیان کی اورکہا کہ حضرت امیر المومنین علیہ السلام ،نفس حضرت رسول خدا صلی اللہ علیہ والہ وسلم ہونے کے لحاظ سے بھی ممتاز ہیں ۔انہوں نے کہا کہ جس دن لوگ جنگ احد میں حضرت رسول خدا صلی اللہ علیہ والہ وسلم کو تنہاء چھوڑ کر بھاگ گئے تھے تو صرف حضرت علی علیہ السلام اپنی تلوار تھامے آپ کے سامنے موجود تھے،حضرت پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنا سر اٹھایا اور آپ سے فرمایا:آپ (ع)بھی لوگوں کے ساتھ کیوں نہیں بھا گ گئے؟توحضرت امیر (ع) نے عرض کی یا رسول اللہ کیا میں مسلمان ہونے کے بعد کافر ہو جاتا۔ انہوں نے کہا کہ حضرت رسول اکرم ؐ نے ایک گروہ کی طرف اشارہ کیا جو پہاڑ سے اتر رہاتھا توحضرت علی علیہ السلام نے ان پر حملہ کیا اور وہ بھاگ گئے، پھر حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایک اور لشکر کی طرف اشارہ کیا آپ (ع)نے ان پر بھی حملہ کیا اور وہ بھی بھاگ گئے،حضرت(ص) نے ایک اور گروہ کی طرف اشارہ فرمایا آپ (ع)نے اس گروہ پر بھی حملہ کیا اور انہیں بھی بھگا دیا، اس وقت لوگوں نے کہایا رسول اللہ(ص) ،حضرت علی علیہ السلام کا اپنی جان اور نفس کی پروا کئے بغیر آپ (ص)کے ساتھ اس حسن سلوک پر ملائکہ تعجب کرتے ہیں اورہم بھی اس کے ساتھ متعجب ہیں،حضرت رسول اعظم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اس میں کسی قسم کے تعجب کی بات نہیں کیونکہ ’’و ھو منی وانا منہ ‘‘ وہ مجھ سے ہیں اور میں اس سے ہوں۔انہوں نے کہاکہ حضرت امیر لمومنین علی ابن ابی طالب علیہ السلام کے ممتاز ہونے کی ایک وجہ یہ ہے کہ آپ کی فضیلت اور شان میں کثرت سے آیات نازل ہو ئی ہیں جن میں اللہ کے نزدیک آپ(ع) کا خا ص مقام اور منزلت ظا ہر ہوتی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ سرکار دوعالم ؐ کی حدیث پاک ہے ’’ پروردگارا! جدھر جدھر علی جائیں حق کو ادھر موڑ دے‘‘۔انہوں نے کہا کہ ایک اور حدیث میں رسول اکرم ؐ ارشاد فرماتے ہیںحضرت علی ابن ابی طالب علیہ السلام کی محبت گناہوں کو اس طرح کھا جاتی ہے جس طرح خشک لکڑی کو راکھ بنا دیتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مولا کائنات علی ابن ابی طالب ؑ کی ولادت 13 رجب، سنہ 30 بعد از عام الفیل خانہ کعبہ، مکہ میں ہوئی ۔مولانا کے خطاب کے بعد تمام عالم انسانیت کے لئے خصوصی دعائیں کی گئی۔