حال و احوال
ڈاکٹر احمد عروج مدثر
ڈاکٹر بدر الاسلام مزید کہتے ہیں ،’’ پیپر لیک کی دوسری بڑی وجہ ہمارا پورا سماجی اور اخلاقی نظام ہے۔ اس وقت اخلاق، کردار اور قدروں کا جو بحران پیدا ہو چکا ہے، اسے ایڈریس کیے بغیر یہ مسئلہ حل ہونے والا نہیں۔ اس کی ایک اور بڑی وجہ تعلیم کا تجارتی کرن ہے۔ نجی تعلیمی اداروں کی وجہ سے تعلیم ایک جنسِ بازار بن گئی ہے اور بازار کے اصولوں کے مطابق تعلیمی ادارے کام کر رہے ہیں۔ ظاہر ہے، انہیں اپنے منافع سے ہی زیادہ مطلب ہوتا ہے۔ سماج کی مجموعی صورتحال کو تبدیل کیے بغیر صرف جزوی علاج زیادہ فائدہ مند ثابت نہیں ہوگا۔ ‘‘ماہر نفسیات اور تعلیم کے شعبہ سے وابستہ ڈاکٹر مبشرہ فردوس صاحبہ اس صورتحال پر کہتی ہیں کہ،’’ طالب علم پر امتحان کا کینسل ہونا ذہنی سطح کا بری طرح متاثر کرسکتا ہے ۔ اچانک تبدیلی کو ذہن قبول نہیں کرتا ہے شدید مایوسی اور ٹوٹ پھوٹ طالب علم محسوس کرتا ہے کہ اس کی ساری محنت بے معنی ہوگئی۔ اس سے emotional crash پیدا ہوسکتا ہے۔اضطراب اور Anxiety اور Panic Symptoms دل کی دھڑکن تیز ہوسکتی بے چینی، نیند نہ آنا، مسلسل سوچتے رہنا، مستقبل کا خوف وغیرہ بڑھ سکتے ہیں۔ممکن ہے کہ امتحان کی مسلسل تیاری کے بعد ذہن ایک خاص peak stress پر ہوتا ہے۔ اچانک امتحان کینسل ہونے سے ذہنی تھکن collapse میں بدل سکتی ہےاور motivation loss ہوسکتا ہے ، یہ بھی ذہن میں رہے کہ انتظامیہ کی یہ بے احتیاطی نہ صرف طالب علم بلکہ ان کے پورے خاندان کو شدید مایوسی سے گزار سکتا ہے۔ ‘‘ڈاکٹر سمیر پاریکھ جو Fortis Healthcare میں ڈائریکٹر، ڈیپارٹمنٹ آف مینٹل ہیلتھ اینڈ بیہیویورل سائنسز کے طور پر خدمات انجام دیتے ہیں، نے 12 مئی کو India
Today کو دیے گئے ایک تبصرے میں کہا کہ نیٹ امتحان کی منسوخی کو طلباء ہرگز اپنی ذاتی ناکامی تصور نہ کریں، کیونکہ امتحان کا منسوخ ہونا اُن کے اختیار سے باہر کا فیصلہ تھا اور اس کا تعلق ان کی محنت یا صلاحیت سے نہیں بلکہ نظام کی شفافیت کو یقینی بنانے سے ہے۔ ان کے مطابق ایسے حالات میں نوجوان سب سے زیادہ اس غلط فہمی کا شکار ہوتے ہیں کہ شاید ان کی کوشش ضائع ہوگئی، حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ ان کی تیاری برقرار رہتی ہے۔ لہٰذا ضروری ہے کہ طلباء خود کو الزام دینے کے بجائے اپنے معمولات اور مطالعے کی روانی بحال رکھیں اور ذہنی دباؤ کو اپنے اوپر حاوی نہ ہونے دیں۔ایجوکیشنل کاونسلر اور ماہر تعلیم نجم الدین اس مسئلہ پر روشنی ڈالتے ہوئے کہتے ہیں کہ،’’ اس طرح کے سنگین اور حساس معاملات کو سماج خاموشی سے انگیز کر رہا ہے، کہیں سے کوئی بے چینی اور شدید رد عمل کا اظہار ہوتا نظر نہیں آتا۔ 2024 میں بھی اسی طرح کے جرم کا پردہ فاش ہونے پر طلباء برادری میں کہرام کی کیفیت پیدا ہوئی چند روز بریکنگ نیوز کا ماحول رہا سرکار کی طرف سے سپریم کورٹ کو یقین دہانی کی گئی اور یہ کہتے ہوئے کہ NEET کو دوبارہ لینے سے انکار کیا، اس لیے کہ جرم کا دائرہ اثر بہت محدود طلباء تک تھا اور پھر اس معاملے میں ملوث مجرمین کا کیا ہوا؟ کوئی نہیں جانتا کہ انہیں کیا سزا ملی؟ اور اصل سرغنوں کی گردن
نہ دبوچنے کے مجرمانہ رویے نے ہمیشہ اس چکر کو زندہ رکھا ہے۔ PARTY WITH DIFFERENCE کا دعوی کرنے والوں کی ریاستوں میں 2019 سے 2026 تک اس طرح کے 65 واقعات ہوئے ہیں۔ NEET 2024 کے واقعے کے بعد سرکار نے NEET امتحان میں اصلاحات کی خاطر رادھا کرشنن کمیٹی تشکیل دی تھی۔ ایک سال بعد 2025 میں رپورٹ سبمٹ ہوئی،جس میںاصلاحات پر عملدر آمد صفر رہا ، نتیجتاً ایک سال بعد پھر اسی طرح کے شرمناک واقعے سے ملک گزر رہا ہے۔
نجم الدین صاحب آگے کہتے ہیں کہ ’’ اگر امتحانات کے انعقاد کے انتظامات چاق وچوبند ہوں ، مجرمین کی فوری گرفت اور سخت سزاؤں پر عمل درامد ہو ، JEE کی طرح NEET کو بھی کمپیوٹر بیسڈ ٹیسٹ(CBT )کے طرز پر منعقد کیا جائے،اسکول کے زمانے سے ہی طلبہ میں اس طرح کی برائیوں سے دور رہنے کی تربیت ہو تو بہتر نتائج کے امکانات ہو سکتے ہیں۔یہ بھی افسوسناک حقیقت ہے کہ ہمارے تعلیمی ادارے طلبہ کو انسان سے زیادہ رول نمبر سمجھنے لگے ہیں۔ امتحانات کے بعد ادارے صرف قانونی کارروائیوں، تفتیشی کمیٹیوں اور نئے شیڈول کے اعلانات تک محدود رہتے ہیں، جبکہ طلبہ کی ذہنی صحت، ان کے اعتماد اور ان کے جذباتی بحران پر شاید ہی کبھی سنجیدگی سے گفتگو کی جاتی ہو۔ کسی بھی بڑے امتحانی بحران کے بعد Counseling، Psychological Support اور Emotional Rehabilitation جیسی اصطلاحات ہمارے تعلیمی بیانیے سے تقریباً غائب رہتی ہیں۔یہ پورا واقعہ اس حقیقت کو بھی واضح کرتا ہے کہ تعلیمی نظام کے گرد ایک منظم مافیا پروان چڑھ رہا ہے۔ کوچنگ انڈسٹری، غیر قانونی نیٹ ورکس، پیسے کے زور پر کامیابی خریدنے کی ذہنیت اور اثرورسوخ کی سیاست نے تعلیم کے مقدس تصور کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ کچھ عناصر کے لئے سوالیہ پرچے صرف کاروبار کا ذریعہ بن چکے ہیں۔ انہیں اس بات سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ ان کے اس جرم کی وجہ سے لاکھوں طلبہ کا اعتماد ٹوٹ رہا ہے۔ یہ لوگ صرف سوالیہ پرچے نہیں بیچتے بلکہ نوجوان نسل کے خواب فروخت کرتے ہیں۔سب سے زیادہ خطرناک پہلو یہ ہے کہ اس طرح کے واقعات میرٹ کے تصور کو مجروح کردیتے ہیں۔ ایک محنتی طالب علم جب دیکھتا ہے کہ کچھ لوگ غیر قانونی ذرائع سے کامیابی حاصل کرنے کی کوشش کررہے ہیں تو اس کے دل میں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ آخر محنت کی قدر کہاں باقی رہ گئی ہے؟ اگر کامیابی خریدی جاسکتی ہے تو پھر دیانت داری، محنت اور اصولوں کی کیا اہمیت رہ جاتی ہے؟ یہ احساس نوجوان نسل کو مایوسی، بے اعتمادی اور فکری انتشار کی طرف لے جاتا ہے۔ جب ایک قوم کی نوجوان نسل اپنے تعلیمی نظام پر اعتماد کھو دیتی ہے تو دراصل وہ قوم اپنے مستقبل پر اعتماد کھونے لگتی ہے۔
یہ بھی قابل غور ہے کہ NEET جیسے امتحانات میں مقابلہ پہلے ہی غیر معمولی حد تک سخت ہوچکا ہے۔ لاکھوں طلبہ چند ہزار نشستوں کے لئے جدوجہد کرتے ہیں۔ اس صورتحال نے کوچنگ انڈسٹری کو بے پناہ طاقت دے دی ہے۔ آج تعلیمی اداروں سے زیادہ کوچنگ سینٹر نوجوانوں کی ذہنی ساخت پر اثر انداز ہورہے ہیں۔ کامیابی کو اس قدر محدود تعریف میں قید کردیا گیا ہے کہ اگر کوئی طالب علم ڈاکٹر یا انجینئر نہ بن سکے تو اسے ناکام سمجھ لیا جاتا ہے۔ یہی سوچ نوجوانوں کو شدید ذہنی دباؤ میں مبتلا کرتی ہے۔ پھر جب امتحانی نظام بھی مشکوک ہوجائے تو صورتحال مزید سنگین بن جاتی ہے۔یہ بحران صرف امتحانی سیکورٹی کا مسئلہ نہیں بلکہ ہمارے پورے تعلیمی فلسفے پر سوالیہ نشان ہے۔ ہم نے تعلیم کو کردار سازی کے بجائے صرف Career Building کا ذریعہ بنادیا ہے۔ ہم بچوں کو انسان بنانے کے بجائے صرف مقابلے کی مشینیں بنانے میں مصروف ہوگئے ہیں۔ نتیجہ یہ ہے کہ جہاں طلبہ شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہیں، وہیں معاشرہ بھی دیانت، اصول اور اخلاقیات سے دور ہوتا جارہا ہے۔
حکومت اور متعلقہ اداروں کے لئے یہ لمحۂ فکریہ ہے۔ صرف امتحان منسوخ کردینا یا دوبارہ امتحان لینا مسئلے کا مستقل حل نہیں ہوسکتا۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ پورے امتحانی نظام کا ازسرنو جائزہ لیا جائے۔ سوالیہ پرچوں کی تیاری سے لے کر تقسیم تک ہر مرحلے میں جدید ٹیکنالوجی، سخت نگرانی اور مکمل شفافیت کو یقینی بنایا جائے۔ Digital Encryption، Artificial Intelligence Monitoring اور Blockchain Based Security Systems جیسے جدید ذرائع استعمال کئے جائیں تاکہ سوالیہ پرچوں کی حفاظت کو ناقابلِ تسخیر بنایا جاسکے۔اس کے ساتھ ساتھ Accountability کا مضبوط نظام بھی قائم کرنا ہوگا۔ صرف چھوٹے ایجنٹوں کی گرفتاری سے مسئلہ حل نہیں ہوگا۔ اصل کرداروں، نیٹ ورکس اور ان عناصر تک پہنچنا ہوگا جو اس پورے کھیل کے پیچھے موجود ہیں۔ ایسے جرائم کو عام بدعنوانی نہیں بلکہ قومی جرم سمجھا جانا چاہئے، کیونکہ یہ جرم صرف قانون کی خلاف ورزی نہیں بلکہ لاکھوں نوجوانوں کے مستقبل پر حملہ ہے۔
طلبہ کے لئے نفسیاتی مدد کے نظام قائم کرنا بھی وقت کی اہم ضرورت ہے۔ امتحانی بحران کے بعد Counseling Centers، Mental Health Helplines اور Emotional Support Programs کا قیام ناگزیر ہوچکا ہے۔ نوجوانوں کو یہ احساس دلانا ضروری ہے کہ ان کی زندگی صرف ایک امتحان سے بڑی ہے اور ان کی شخصیت کا تعین صرف نمبروں سے نہیں ہوتا۔معاشرے کو بھی اپنی سوچ بدلنی ہوگی۔ ہمیں اپنے بچوں پر کامیابی کے غیر انسانی بوجھ ڈالنے کے بجائے ان کی صلاحیتوں، رجحانات اور ذہنی سکون کو اہمیت دینی ہوگی۔ ہر بچہ ڈاکٹر یا انجینئر نہیں بن سکتا، اور نہ ہی کامیابی کی واحد تعریف یہی ہے۔ جب تک ہم کامیابی کے تصور کو محدود رکھیں گے، تب تک مقابلہ، دباؤ اور غیر اخلاقی ذرائع کا دائرہ بڑھتا رہے گا۔
میڈیا کا کردار بھی اس موقع پر نہایت اہم ہوجاتا ہے۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ اکثر تعلیمی بحران صرف چند دن کی Breaking News بن کر رہ جاتے ہیں۔ چیختی ہوئی سرخیاں تو نظر آتی ہیں لیکن ان لاکھوں طلبہ کے خاموش آنسو نظر نہیں آتے جو اس نظام کی ناکامیوں کی قیمت ادا کررہے ہوتے ہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ میڈیا اس موضوع پر سنجیدہ عوامی مکالمہ پیدا کرے، تعلیمی اصلاحات پر مسلسل بحث کرے اور نوجوانوں کی ذہنی صحت کو قومی ترجیح کے طور پر پیش کرے۔ حکومت نے لازماً طلباء کے لیے نفسیاتی کاؤنسلینگ کا نظم کرنا چاہیے ۔
NEET UG 2026 کا یہ واقعہ دراصل ایک آئینہ ہے جس میں ہندوستانی تعلیمی نظام اپنی تمام کمزوریوں کے ساتھ دکھائی دے رہا ہے۔ یہ صرف سوالیہ پرچے کے لیک ہونے کا معاملہ نہیں بلکہ اعتماد کے لیک ہونے کا سانحہ ہے۔ یہ صرف امتحان کی منسوخی نہیں بلکہ نوجوان نسل کے سکون، یقین اور امید کے مجروح ہونے کا المیہ ہے۔
کوئی ملک صرف سڑکوں، عمارتوں اور معاشی ترقی سے مضبوط نہیں ہوتا بلکہ انصاف پر مبنی تعلیمی نظام اُس ملک کی مضبوط بنیاد ہوتی ہے۔ اگر ایک طالب علم کو یہ یقین نہ رہے کہ اس کی محنت محفوظ ہے، اس کے خواب محفوظ ہیں اور اس کا مستقبل میرٹ کے اصول پر طے ہوگا، تو پھر قوم کی بنیادیں کمزور ہونے لگتی ہیں۔
آج ضرورت صرف نئے امتحان کی تاریخ دینے کی نہیں بلکہ نئے اعتماد کی تعمیر کی ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ تعلیمی نظام کو انسان دوست، شفاف اور انصاف پر مبنی بنایا جائے۔ ایسا نظام جہاں سوالیہ پرچے محفوظ ہوں، محنت کا احترام ہو، نوجوانوں کی ذہنی صحت اہم ہو اور کامیابی کا معیار صرف نمبر نہیں بلکہ کردار، صلاحیت اور دیانت بھی ہو۔
اگر اس واقعہ کے بعد بھی ہم نے سنجیدہ اصلاحات نہ کیں تو شاید آنے والے برسوں میں امتحانات تو ہوتے رہیں گے، نتائج بھی آتے رہیں گے، لیکن نوجوان نسل کے دلوں میں اعتماد، امید اور انصاف کا جو چراغ بجھ رہا ہے، اسے دوبارہ روشن کرنا بہت مشکل ہوجائے گا۔
( رابطہ ۔ 7875836830 )